وہ گھرانہ جن کے گھر میں قرآن مجید نازل ہو ا ۔۔۔
03 مارچ 2020 (16:32) 2020-03-03

وہ گھرانہ کہ جن کے گھرمیں قرآن مجیدنازل ہوا ان سے بہترنہ کوئی قرآن کاسمجھنے والا نہ اس کی تفسیرجاننے والا ہے

مفتی غلام یٰسین نظامی

آپ کانام علی بن محمد ؑہے اورآپ کے والد محترم کا نام امام محمد تقی ؑہے آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی سمانہ ہے ان کی کنیت ام الفضل ہے جومامون الرشید کی بیٹی تھیں۔آپکااسم مبارک اور کنیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور امام علی رضاعلیہ السلام کی طرح ہے۔ اس وجہ سے آپ کو ابو الحسن ثالث کہتے ہیں آپ کئی القابات سے نوازے گئے ہیں جیسے نقی، ہادی، عسکری، ناصح، متوکل، فتاح،فقیہ،متقی،امین اور مرتضیٰ ہیں۔ (النبراس) اور آپ کا آبائی سلسلہ آٹھویں پشت میں سیدہ فاطمہ الزھرا علیہا السلام سے جا ملتا ہے۔

اور آپ کے مشہور ترین القاب ''النقی اور الہادی'' ہیں۔آپ کی ولادت بتاریخ ۳۱رجب بروز اتوار ۴۱۲ھ میں مدینہ منورہ میں صریا نامی بستی میں ہوئی اور آپ مدینہ منورہ میں ہی رہتے تھے۔(تاریخ الخمیس)

امام ابو الحسن علی نقی علیہ السلام دینی زعامت،ذاتی عظمت اور صفاتی برتری کی بنائ پربہت بڑی شخصیت ہیں آپ رحم?اللہ علیہ حسب نسب اور عصمت و عفت میں اپنے اجداد کرام علیہم السلام کی طرح ممتاز ہیں آپ ؑعلیہ السلام کی عمر اپنے والد ماجد کے وصال کے وقت چھ سال کی تھی۔ آپ ؑعلیہ السلام سے اس قدر کرامات کا ظہور ہو اکہ احاطہ ء تحریر سے باہر ہے۔ آپ ؑعلیہ السلام کاحلیہ مبارک گندمی رنگ تھا۔آپ ؑکی کئی بیویاں تھیں اور ان سے کئی اولادیں پیدا ہوئیں آپ کے چارصاحبزادے اور ایک صاحبزادی تھی:حسن (جو امام حسن عسکری کے نام سے مشہور ہوئے) حسین،محمد، جعفر اور عائشہ۔ (الصواعق المحرقہ)

حضرت امام علی نقی ؑکی سیرت زندگی اوراخلاق وکمالات وہی تھے جواس سلسلہ عصمت کی ہرفردکے اپنے اپنے دورمیں امتیازی طورپر مشاہدہ میں آتے رہتے تھے قیدخانہ اورنظربندی کاعالم ہویاآزادی کازمانہ ہروقت ہرحال میں یادالہی، عبادت، خلق خداسے استغنائ، ثبات قدم، صبرواستقلال، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پرشکن کانہ ہونا، دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے کام لینا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی امدادکرنا، یہی وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی کی سیرت زندگی میں نمایاں نظرآتے ہیں۔

آپ ؑکی تخلیق طیب و طاھر تھی آپ ؑعلم لدنی سے آراستہ پیدا ہوئے انتہائی کم سنی کے باوجود اعلی اخلاق اور کمالات علم و عمل سے آراستہ تھے اھل مدینہ گواھی دیتے ہیں کہ آپ ؑ اس قدر کم سن ہونے کے باوجود علم وعمل میں اپنے والد صاحب ؑکی تصویر تھے۔ (الصواعق المحرقہ)

انہیں کسی سے علم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اورانہوں نے کسی دنیاوالے کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں فرمایا ”ذاتی علم وحکمت کے علاوہ مزیدشرف کمال کی تحصیل اپنے آباو¿اجدادسے کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی کمسنی میں بھی یہ دنیاکے بڑے بڑے عالموں کوعلمی شکست دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے اورجب کسی نے اپنے کوان کی کسی فردسے مافوق سمجھا تووہ ذلیل ہوکررہ گیا،یاپھر سرتسلیم خم کرنے پرمجبورہوگیا۔علمی حوالے سے تمام لوگ ان کی طرف رجوع کرتے۔آپ ؑ ھدایت عوام، دینی اقدار کا تحفظ کرنا،درس و تبلیغ اور دوسرے فرائض سرانجام دیتے رہے لوگ حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ کے لئے آتے تو آپ علیہ السلام سے ملاقات کرتے، مسائل پوچھتے، خوابوں کی تعبیر بتاتے،ہر زبا ن والے کو اسی کی زبان میں جواب دیتے،بادشاہ وقت کے سامنے کلمہ ءحق بلند فرماتے، مدینے کے علماء قرآن و حدیث،عقائد و احکام کا درس لیتے، سینکڑوں اصحاب نے ان سے حدیث کا سماع کیا اور روایت کی۔ابو جعفر طوسی نے کتاب الرجال میں ۲۷۱مشہور تلامذہ کے نام قلمبند کئے ہیں۔ (الصواعق المحرقہ)

آپ کی علمی خدمات کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

٭امام علی نقی ؑکا گھرانہ وہ گھرانہ ہے کہ جن کے گھرمیں قرآن مجیدنازل ہوا ان سے بہترنہ کوئی قرآن کاسمجھنے والاہے، نہ اس کی تفسیرجاننے والاہے۔ علماء کابیان ہے کہ جب متوکل کوزہردیاگیا تواس نے یہ نذرمانی کہ ”اگرمیں اچھاہوگیاتوراہ خدامیں مال کثیردوں گا“ پھرصحت پانے کے بعد اس نے اپنے علمائے اسلام کوجمع کیااوران سے واقعہ بیان کرکے مال کثیرکی تفصیل معلوم کرناچاہی اس کے جواب میں ہرایک نے علیحدہ علیحدہ بیان دیا ایک فقیہ نے کہا مال کثیرسے ایک ہزاردرہم دوسرے فقیہ نے کہا دس ہزاردرہم،تیسرے نے کہاایک لاکھ درہم مرادلینا چاہئے متوکل ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک دربان سامنے آیا جس کانام ”حسن“ تھا عرض کرنے لگا کہ حضوراگرمجھے حکم ہواتومیں اس کاصحیح جواب لادوں متوکل نے کہابہترہے جواب لاو¿ اگرتم صحیح جواب لائے تو دس ہزاردرہم تم کوانعام دوں گا اوراگرتسلی بخش جواب نہ لاسکے توسوکوڑے ماروں گا اس نے کہامجھے منظورہے اس کے بعد دربان حضرت امام علی نقی ؑکی خدمت میں گیا امام پاک ؑجونظربندی کی زندگی بسرکررہے تھے دربان کودیکھ کربولے اچھامال کثیرکی تفصیل پوچھنے آیاہے جا اورمتوکل سے کہہ دے مال کثیرسے اسی(۰۸) درہم مرادہے دربان نے متوکل سے یہی کہہ دیا متوکل نے کہا جاکردلیل معلوم کر،وہ واپس آیا حضرت نے فرمایا کہ قرآن مجیدمیں محبوب دو عالم صلی اللہ علیہ والہ سلم کے لیے آیا ہے ”لقدنصرکم اللہ فی مواطن کثیر“(سورہ ء توبہ آیت:۵۲) اے خداکے رسول! اللہ تعالی نے تمہاری مددمواطن کثیرہ یعنی بہت سے مقامات پرکی ہے جب ہم نے ان مقامات کاشمارکیا جن میں خدانے آپ کی مددفرمائی ہے تووہ حساب سے اسی ہوتے ہیں معلوم ہواکہ لفظ کثیرکااطلاق اسی پرہوتاہے یہ سن کرمتوکل خوش ہوگیا اوراس نے اسی درہم صدقہ نکال کر دس ہزاردرہم دربان کوانعام دیا (مناقب ابن شہرآشوب)۔

٭محمدبن فرج رجحی کابیان ہے کہ حضرت امام علی نقیؑ نے مجھے تحریرفرمایا کہ تم اپنے تمام امورومعاملات کوراست اورنظام خانہ کودرست کرلو اور اپنے اسلحوں کوسنبھال لو، میں نے ان کے حکم کے بموجب تمام درست کرلیا لیکن یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ حکم آپ نے کیوں دیاہے لیکن چنددنوں کے بعد مصرکی پولیس میرے یہاں آئی اورمجھے گرفتارکرکے لے گئی اورمیرے پاس جوکچھ تھا سب لے لیا اورمجھے قیدخانہ میں بندکردیا میں آٹھ سال اس قیدخانہ میں پڑارہا، ایک دن امام علیہ السلام کاخط پہنچا، جس میں مرقوم تھا کہ اے محمدبن فرج تم اس ناحیہ کی طرف نہ جانا جومغرب کی طرف واقع ہے خط پاتے ہی میری حیرانی کی کوئی حدنہ رہی میں سوچتارہا کہ میں توقیدخانہ میں ہوں میراتوادھرجاناممکن ہی نہیں پھرامام نے کیوں یہ کچھ تحریرفرمایا آپ کے خط آنے کوابھی دوچاریوم ہی گذرے تھے کہ میری رہائی کاحکم آگیا اورمیں ان کے حسب الحکم مقام ممنوع کی طرف نہیں گیا قیدخانہ سے رہائی کے بعدمیں نے امام علیہ السلام کولکھا کہ حضورمیں قیدسے چھوٹ کرگھرآگیاہوں، اب آپ خداسے دعاء فرمائیں کہ میرامال مغصوبہ واپس کرادے آپ نے اس کے جواب میں تحریرفرمایاکہ عنقریب تمہاراسارامال تمہیں واپس مل جائے گا چنانچہ ایساہی ہوا۔

٭ایک دن امام علی نقی علیہ السلام اورعلی بن حصیب نامی شخص دونوں ساتھ ہی راستہ چل رہے تھے علی بن حصیب آپ سے چندگآم آگے بڑھ کرلولے آپ بھی قدم بڑھاکرجلدآجائیے حضرت نے فرمایاکہ اے ابن حصیب ”تمہیں پہلے جاناہے“ تم جاو¿ اس واقعہ کے چاریوم بعدابن حصیب فوت ہوگئے۔

٭ایک شخص محمدبن فضل بغدادی کابیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کولکھا کہ میرے پاس ایک دکان ہے میں اسے بیچنا چاہتاہوں آپ نے اس کاکوئی جواب نہ دیا جواب نہ ملنے پرمجھے افسوس ہوا لیکن جب میں بغداد واپس پہنچا تووہ آگ لگ جانے کی وجہ سے جل چکی تھی۔

٭ایک شخص ابوایوب نامی نے امام علیہ السلام کولکھاکہ میری زوجہ حاملہ ہے، آپ دعا فرمائیے کہ لڑکاپیداہو،آپ نے فرمایاانشاء اللہ اس کے لڑکاہی پیداہوگا اورجب پیداہوتو اس کانام محمدرکھنا چنانچہ لڑکاہی پیداہوا، اوراس کانام محمدرکھاگیا۔

٭یحی بن زکریاکابیان ہے کہ میں نے امام علی نقی علیہ السلام کولکھاکہ میری بیوی حاملہ ہے آپ دعافرمائیں کہ لڑکاپیداہوآپ نے جواب میں تحریرفرمایا، کہ بعض لڑکیاں لڑکوں سے بہترہوتی ہیں، چنانچہ لڑکی پیداہوئی۔

٭امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا اسم اللہ الاعظم ۳۷حروف میں ان میں سے صرف ایک حرف آصف برخیا وصی سلیمان کودیاگیاتھا جس کے ذریعہ سے انہوں نے چشم زدن میں ملک سباسے تخت بلقیس منگوالیاتھا اوراس منگوانے میں ہوایہ تھا کہ زمین سمٹ کرتخت کوقریب لے آئی تھی، اے نوفلی(راوی)! خداوندعالم نے ہمیں اسم عظم کے بہترحروف دئیے ہیں اس کے بعدامام نے فرمایاکہ خداوندعالم نے اپنی قدرت اوراپنے اذن وعلم سے ہمیں وہ چیزیں عطاکی ہیں جوحیرت انگیزاورتعجب خیزہیں مطلب یہ ہے کہ ہم جوچاہیں کرسکتے ہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوسکتی(اصول کافی)

٭ابوہاشم کہتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے مجھ سے ہندی زبان میں گفتگوکی جس کامیں جواب نہ دے سکا توآپ نے فرمایاکہ میں تمہیں ابھی ابھی تمام زبانوں کاجاننے والابتائے دیتا ہوں یہ کہہ کرآپ نے ایک سنگریزہ اٹھایا اوراسے اپنے منہ میں رکھ لیا اس کے بعداس سنگریزہ کومجھے دیتے ہوئے فرمایاکہ اسے چوسو، میں نے منہ میں رکھ کراسے اچھی طرح چوسا، اس کانتیجہ یہ ہواکہ میں تہترزبانوں کاعالم بن گیا جن میں ہندی بھی شامل تھی اس کے بعدسے پھرمجھے کسی زبان کے سمجھنے اوربولنے میں دقت نہ ہوئی۔

٭احمدبن عیسی الکاتب کابیان ہے کہ میں نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماہیں اورمیں ان کی خدمت میں حاضرہوں، حضرت نے میری طرف نظراٹھاکردیکھا اوراپنے دست مبارک سے ایک مٹھی خرمہ اس طشت سے عطافرمایا جوآپ کے سامنے رکھاہواتھا میں نے انہیں گناتووہ پچس تھے اس خواب کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ حضرت امام علی نقی ؑسامرہ سے تشریف لائے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے حاضرہوا تومیں نے دیکھا کہ ان کے سامنے ایک طشت رکھا ہے جس میں خرمے ہیں میں نے حضرت امام علی نقی ؑ کوسلام کیا حضرت نے جواب سلام دینے کے بعد ایک مٹھی خرمہ مجھے عطافرمایا، میں نے ان خرموں کوشمارکیا تووہ پچیس تھے میں نے عرض کی مولاکیا کچھ خرمہ اورمل سکتاہے جواب میں فرمایا! اگرخواب میں تمہیں رسول خدانے اس سے زیادہ دیاہوتاتومیں بھی اضافہ کردیتا (دمعہ ساکبہ)۔

٭اسی قسم کاایک واقعہ یہ ہے کہ متوکل کے دربارمیں ایک نصرانی پیش کیاگیاجومسلمان عورت سے زنا کرتاہواپکڑاگیا جب وہ دربارمیں آیاتوکہنے لگا مجھ پرحدجاری نہ کی جائے میں اس وقت مسلمان ہوتاہوں یہ سن کرقاضی یحی بن اکثم نے کہاکہ اسے چھوڑدیناچاہئے کیونکہ یہ مسلمان ہوگیا ایک فقیہ نے کہا کہ نہیں حدجاری ہوناچاہئے غرض کہ فقہائے مسلمین میں اختلاف ہوگیا متوکل نے جب یہ دیکھاکہ مسئلہ حل ہوتانظرنہیں آتا توحکم دیا کہ امام علی نقی ؑ کوخط لکھ کران سے جواب منگایاجائے۔

چنانچہ مسئلہ لکھا گیا حضرت امام نے اس کے جواب میں تحریرفرمایا ”یضرب حتی یموت“ کہ اسے اتناماراجائے کہ مرجائے جب یہ جواب متوکل کے دربارمیں پہنچا تویحی بن اکثم قاضی شہراورفقیہ سلطنت نیزدیگرفقہانے کہا اس کاکوئی ثبوت قران مجیدمیں نہیں ہے براہ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیے آپ نے خط ملاحظہ فرماکریہ آیت تحریرفرمائی جس کاترجمہ یہ ہے (جب کافروں نے ہماری سختی دیکھی توکہاکہ ہم اللہ پرایمان لاتے ہیں اوراپنے کفرسے توبہ کرتے ہیں یہ ان کاکہناان کے لیے مفیدنہ ہوا، اورنہ ایمان لاناکام آیا)

آیت پڑھنے کے بعدمتوکل نے تمام فقہا کے اقوال کومستردکردیا اورنصرانی کے لیے حکم دیدیا کہ اسے اس قدر ماراجائے کہ ”مرجائے“ (دمعہ ساکبہ)۔

٭قضاوقدرکے بارے میں تقریباتمام فرقے جادہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، اس کی وضاحت میں کوئی جبرکاقائل نظر آتاہے کوئی مطلقا تفویض پرایمان رکھتا ہوادکھائی دیتاہے ہمارے امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے آباو¿اجدادکی طرح قضاوقدرکی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے ”لاجبرولاتفویض بل امربین امرین“ نہ انسان بالکل مجبورہے نہ بالکل آزادہے بلکہ دونوں حالتوں کے درمیان ہے۔

میں حضرت کا مطلب یہ سمجھتاہوں کہ انسان اسباب واعمال میں بالکل آزادہے اورنتیجہ کی برآمدگی میں خداکامحتاج ہے۔(دمعہ ساکبہ)

اورجہاں تک تعلق ہے معاشرتی خدمات کا اندازہ ان مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔جیسے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنا، ان کے قرضوں کو اتارنا،قید سے ان کو آزاد کروانا،کسی بھی سائل کو خالی نہ لوٹانا،زبان سے اظہار کروائے بغیر ان کی داد رسی کرنا(ان کے دلوں کی کیفیت کو جان لینا)،دشمنوں سے بھی حسن سلوک کرنا،احترام آدمیت،یہاں تک کہ اپنے ذاتی باغ کی آمدنی بھی لوگوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔

٭ایک مرتبہ عثمان بن سعید، احمد بن اسحاق اشعری اورعلی بن جعفر ہمدانی امام نقی ؑکے پاس آئے۔ ان میں سے احمد بن اسحاق نے اپنی پریشانی ذکر کی کہ ان پر قرض چڑھ چکا ہے۔ آپ نے اس وقت اپنے وکیل ابوعمرو سے کہا کہا نہیں تیس ہزار دینار دے دو۔ ذرا ملاحظ فرمائے کہ یہ کس قدرسخاوت ہے، ایسی سخاوت تو کوئی بادشاہ ہی کرسکتا ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ یہ کیسی معاشرتی خدمت ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی واقتی۔لوگوں کی حاجات پوری کرنا ان حضرات کی گھٹی میں اس طرح پڑ چکا تھا کہ یہ اپنی عزت و وجاہت کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی خدمت کیا کرتے۔

٭آئمہ طاہرین علیہم السلام کے اولوالامرہونے پرقرآن مجیدکی نص صریح موجودہے ان کے ہاتھوں اورزبان میں خداوند جوارادہ کریں اس کی تکمیل ہوجائے جوحکم دیں اس کی تعمیل ہوجائے ابوہاشم کابیان ہے کہ ایک دن میں نے امام علی نقی ؑ کی خدمت میں اپنی تنگ دستی کی شکایت کی آپ نے فرمایابڑی معمولی بات ہے تمہاری تکلیف دورہوجائے گی اس کے بعدآپ ؑ نے رمل یعنی ریت کی ایک مٹھی زمین سے اٹھاکرمیرے دامن میں ڈال دی اورفرمایااسے غورسے دیکھو اوراسے فروخت کرکے کام نکالو ابوہاشم کہتے ہیں کہ خداکی قسم!جب میں نے اسے دیکھاتووہ بہترین سونا تھا، میں نے اسے بازارلے جاکرفروخت کردیا(مناقب ابن شہرآشوب)۔

٭ایک اعرابی نے آپ کو گھر پر بلایا۔ آپ ؑ اس کے پاس سر من رائے کے قریب ایک گاو¿ں میں تشریف لے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ قید ہوگیا ہے۔چنانچہ ا±سی روز شام کے وقت وہ قید سے رہا ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا گھر پہنچ کر اپنے دل میں خیال آیا کہ خرچ کے لیے کچھ نہیں ہے کیا کروں۔ امام صاحب ؑکو اس کے دل کی بات معلوم ہوگئی اور آپ ؑنے فوراً اس کے پاس چنددینار بھیج دیئے اور یہ بھی فرمایا کہ آئندہ تجھے جو ضرورت پیش آئے مجھ سے بیان کرنا اور شرم نہ کرنا ا ن شاء اللہ تعالیٰ تیری ضرورت پوری ہوجائے گی۔

٭علامہ جامی ؑ تحریرفرماتے ہیں کہ آپ ؑسے آپ کے ایک ماننے والے نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بغدادکے قاضی شہر کی شکایت کی اورکہاکہ مولاوہ بڑا ظالم ہے ہم لوگوں کو بے حد ستاتاہے آپ نے فرمایا گھبراو¿نہیں دوماہ بعد بغدادمیں نہ رہے گا راوی کابیان ہے کہ جونہی دوماہ پورے ہوئے قاضی اپنے منصب سے معزول ہوکراپنے گھربیٹھ گیا (شواہدالنبوت)

غرضیکہ آپ کی معاشرتی خدمات احاطہ تحریر سے باہر ہیں۔

مرا الاسرار میں لکھا ہے کہ آپ کا وصال جمعہ کے دن ۵۲ جمادی الثانی۴۵۲ھ کو خلیفہ بنی عباس معتمد کے عہد میں ہوا اس وقت آپکی عمرمبارک ۰۴سال تھی۔تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ خلیفہ معتمد نے آپ کو زہر دیا تھا۔ امام حسن عسکری نے تجہیز وتکفین کے فرائض سر انجام دیئے۔آپ کا مزار سر من رائے کے قریب سامرہ نامی گاو¿ں میں اپنے والد ماجد امام علی نقی ؑکے مزار مبارک کے قریب ہے جہاں شب و روز ہزاروں زائر زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔


ای پیپر