افغانستان امن معاہدہ:اسلام آباد کے لئے ایک اور آزمائش
03 مارچ 2020 2020-03-03

امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحا میں ،کابل میں دیرپا قیام امن کے لئے انتیس فروری کومعاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔معاہدے پر دستخط سے قبل ایک ہفتے کا عبوری دور تھا جس میں دونوں فریقین نے تشدد میں کمی کے عزم کا اظہار کیا۔ افغانستان طالبان کی طرف سے معاہدے پر دستخط ملا عمر کے دست راست اور تنظیم کے بانی رہنما ء ملا عبدالغنی برادر نے کیا جبکہ واشنگٹن کی طرف سے پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کئے۔طالبان رہنما ء ملا عبدالغنی برادر کو پاکستان نے فروری 2010 ء میں گرفتار کیا تھا۔ان کی گرفتاری کے بعد دعوی کیا گیا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے دوران آپریشن بہت بڑے دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے ۔2018 ء میں امریکا کے مطالبے پر پاکستان نے ان کو رہا کیا ۔امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد چند سوالات بہت اہم ہیں۔معاہدے کے بعد افغانستان کا ممکنہ مستقبل کیا ہوسکتا ہے ؟ افغانستان میں جنگ اور امن کا مستقبل کیا ہو سکتاہے؟ کیا اس معاہدے کے بعد اسلام آباد کو ایک اور آزمائش کا سامنا کرنا ہوگا؟کیا موجودہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے یا صدر ٹرمپ اس سے سیاسی مقا صد حا صل کرنا چاہتے ہیں؟اگر ہم اس سوال کا جائزہ لیں کہ افغانستان کا ممکنہ مستقبل کیا ہوسکتا ہے ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد کابل میں فوری طورپر قیام امن ممکن نہیں۔ افغانستان گزشتہ چار عشروں سے عملی طور پر میدان جنگ بنا ہوا ہے۔جنگ نے وہاں فر د اور معاشرے کی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لئے وہاں قیام امن میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔اس معاہدے کی کامیابی کا تمام تر انحصار امریکا پر ہے۔اس سال کے آخر میں امریکا میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔اگر نئی امریکی انتظامیہ نے معاہدے پر عمل درآمد کیا تو پھر یہ طویل اور مشکل سفر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ۔اگر امریکابہانے بناکر مکر گیا تو امن کا یہ عمل دوبارہ روک جائے گا۔ افغانستان میں جنگ اور امن کا مستقبل کیاہو سکتا ہے؟اس کا انحصار بھی امریکا پر ہے۔ موجودہ معاہدے سے قبل جب امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں تھے تو صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرکے مزید بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔لہذا اس معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں جنگ اور امن دونوں کے نعرے ساتھ ساتھ چلیں گے جب تک

صدارتی انتخابات کے بعد امریکا سنجیدگی کے ساتھ اس معاہدے پر عمل درآمد شروع نہیں کرتا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکا نے موجودہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن کو سامنے رکھ کر نہیں کیا ہے بلکہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد سیاسی فوائد حا صل کرنا ہے۔گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس جنگ کو ختم کر دیں گے۔اس معاہدے سے انھوں قوم کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔امکان یہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد وہ صدارتی انتخابات آسانی سے جیت جائیں گے اور وہ دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو جائے۔پھر اگر ان کے مفاد میں رہا تو وہ اس معاہدے پر عمل درآمد شروع کردیں گے ورنہ وہ طالبان پر عہد کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگا کر معاہدہ منسوخ کردیں گے۔اگر منسوخ نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ امن کے اس عمل میں مشکلات ضرورت پیداکریں گے ۔

اس معاہدے کے بعد سب سے اہم کام بین الافغان مذاکرات ہے۔اگر امریکا مخلص ہوا تو پھر معاملہ حل ہو جائے گا۔ اگر نہیں تو پھر یہی بین الافغان مذاکرات اسلام آباد کے لئے درد سر بن سکتے ہیں۔ظاہرسی بات ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔اگر امریکی مفاد میں نہیں ہوگا تو وہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ مل کر ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کو شش کریگا اور الزام اسلام آباد پر ہی آئے گا کہ وہ تعاون نہیں کر رہا ہے یا کسی ایک فریق کا ساتھ دے رہا ہے۔ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی خواہش ہے کہ وہ دوسری مدت پوری کر ے ، اس لئے وہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ ان کی مدت سے قبل کابل میں قیام امن کے لئے کوئی عبوری حکومت قائم ہو ۔اگر افغانستان طالبان کابل حکومت کے ساتھ الگ مذاکرات سے انکار کر دیتے ہیں تو بھی صدر ڈاکٹر اشرف غنی الزام اسلام آباد پر عائد کر یگا کہ وہ تعاون نہیں کر رہا ہے اس لئے طالبان ہمارے ساتھ بات چیت کے لئے تیار نہیں۔امریکا بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائے گا اور اسلام آباد دبائو کا شکار رہے گا۔یہ بات بھی واضح ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی کا تمام تر کریڈٹ امریکا خود لینے کی کوشش کریگا اور اگر یہ معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو ناکامی کا سارا ملبہ افغانستان طالبان اور پاکستان پر گرے گا، اس لئے یہ معاہدہ اسلام آباد کے لئے ایک اور امتحان اور آزمائش ہے۔

امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد دو مراحل اہم ہیں ۔ ایک اس معاہدے کے تحت بیرونی افواج کا انخلاء اور دوسرا بین الافغان مذاکرات ۔ان دونوں مرحلوں کی کامیابی کا تمام تر دروو مدار امریکا پر ہے۔ اگر وہ بین الافغان مذاکرات کو سبوتاژ نہیں کرتی بلکہ اس کوکامیاب بنانے میں مدد دیتی ہے تو پھر آگے کا راستہ آسان ہو گا ۔ اس کے برعکس اگر صدر ٹرمپ اس معاہدے سے سیاسی فائدہ حا صل کرنے کے بعد اس پر عمل درآمد نہ کرنے یا اس کو معطل کرنے کے لئے جواز تلاش کریں گے تو پھر ممکن نہیں کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو ۔ان کے پاس ایک ہی بہانہ ہوگا کہ مخالف فریق معاہدے کی پابندی نہیں کر رہا اس لئے ہم اسے ختم کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان پر عدم تعاون کا الزام لگا کر راہ فرار اختیار کریں گے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا اور افغانستان طالبان کے درمیان امن معاہدہ کابل میں قیام امن کی طرف ایک پیش رفت ہے ،لیکن اس حقیقت کو بھی جھٹلا یا نہیں جاسکتا کہ اس معاہدے پر جس وقت دستخط ہو ئے ہیں اس کا مقصد کابل میں قیام امن نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی ہے۔اس معاہدے کے بعد گینداب امریکا کی کورٹ میں ہے کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے یا جنگ۔ اگر وہ امن کا خواہاں ہے تو امن ضرور قائم ہو گا لیکن اس کے لئے طویل عرصہ درکار ہوگا اس لئے کہ افغانوں کو راضی کرنا کوئی آسان کام نہیں۔


ای پیپر