حکومت لاشیں وصول کر لے گی؟
03 مارچ 2020 2020-03-03

دنیا اس وقت کرونا وائرس کی آفت سے دو چار ہے۔ بعض یار لوگوں نے اس کو امریکہ کی کارروائی قرار دیا مگر کیلیفورنیا میں مرض پھوٹنے کے بعد شاید اب کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرائیں۔ دراصل اس وقت دنیا کے قابل ذکر ممالک جو سیاست و معیشت کے رجحان تعین کرتے ہیں، کے حکمران جھوٹے ترین حکام ہیں جن کے رویوں نے دنیا بھر کو آفات سماوی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اپنے وطن عزیز کا اول تو کچھ معلوم ہی نہیں حاکم کون ہے اور جو بظاہر نظر آتے ہیں ان کے کردار و اعمال میں تضاد سب کے سامنے ہیں۔ امریکہ کے ٹرمپ، انگلینڈ کے بورس جانسن، بھارت کے مودی دیگر اسلامی اُمہ کے سوائے ترکی کے علاوہ حضرت طیب اردگان جیڑا پنوںاوہی لال ہے۔

الحمد للہ میں راسخ العقیدہ سنی مسلمانوں ہوں جو لوگ قانونی طریقہ سے بیرون ملک خصوصاً چائنہ اور زیارت کے لیے ایران گئے وہ اپنے ملک واپس آنا چاہتے ہیں۔ کیوں روک رکھا ہے۔ چلئے بیمار تو ہوئے کہ متعلقہ ملک میں غریب الوطنی میں ایسے پڑے رہیں جیسے اُن کا کوئی وطن نہیں مگر تندرستوں کو بھی بیماری اور موت کی آغوش میں دینے کے لیے حکومت نے ایران اور پاکستان کی پروازیں یکدم بند کردیں۔ استغفر اللہ! سنا تھا کہ ہمارے پاسپورٹ کی بیرون ملک قدر نہیں موجودہ حکومت نے ثابت کر دیا کہ اپنے ملک میں بھی قدر نہیں ہے۔ احسن فیصلہ ہوتا اگر حکومت اپنے شہریوں کے علاج معالجے سے قاصر ہے تو ایران سے درخواست کرتی کہ آپ صحت مند لوگوں کو سر ٹیفکیٹ کے ساتھ طبی معائنہ کے بعد پاکستان بھیج دیں کیونکہ پاکستان میں کوئی بیمار نہیں اور اس میں کبھی کوئی ڈینگی اور دیگر وبائیں نہیں پھیلیں۔ کبھی زلزلے سے اموات ہوئیں نہ سیلاب میں انسانی جانیں تلف ہوئیں۔ لہٰذا وطن عزیز میں صرف تندرست لوگ ہی رہ سکتے ہیں ۔ البتہ اگر کسی حاکم کی بہن برفانی تودوں میں پھنس جائے تو فوراً ہیلی کاپٹر بھیج کر اُس کو محفوظ کیا جا سکتا ہے مگر ایران میں پھنسے ہوئے زائرین واپس نہیں آ سکتے کہ ان میں کوئی وزیراعظم کی بہن نہیں ہے، کسی حکومتی وزیر مشیر عہدیدار یا بیوروکریٹ کی بیٹی نہیں ہے۔ وہ تو صرف آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضوں پر حاضری اور اظہار عقیدت کے لیے گئے ہوئے بے نام لوگ ہیں۔ ’’ویسے 5، 6 ہزار ہیں مر بھی جائیں تو کسی کے کچھ نہیں لگتے نہ ہی وطن عزیز میں واپس آنے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔ امریکہ تو اپنے مجرم کسی ملک میں نہیں رہنے دیتا اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔

زیارات پر گئے ہوئے لوگوں خاص طور پر بڑی عمر کی خواتین کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے، پیسے ختم ہو چکے ہیں، ادویات بھی دستیاب نہیں، ہمتیں جواب دے چکی ہیں، غریب الوطنی ہے، بے بسی ہے، موت کے پہرے اور خوف کے سائے ہیں، لواحقین نیزے کی انی پر ہیں اور ریاست کا اپنے افراد کے ساتھ Contract معاہدہ جس کی بنیادی روح ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کا خیال رکھے گی، حق زندگی دے گی۔ اگر اس Contract کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ پاسپورٹ ہاتھ میں لیے ان کو اپنے وطن آنے کی اجازت غیر معینہ مدت کے لیے نہیں دی جاتی تو وطن عزیز میں ریاست کے ساتھ کسی شہری کا مخلص ہونا اور ریاست سے وفاداری کا معاہدہ نبھانا کیا سوالیہ نشان نہ ہو گا۔ کرونا آفت اور دہشت میں پوری دنیا میں کوئی ایک ملک ایسا نہیں جس نے اپنے ملک کے باشندوں کو

اُن کے اپنے ہی وطن میں داخل ہونے سے روکا ہو۔ اور مزید یہ کہ دیار غیر اور غریب الوطنی میں ریاست ان کی وہاں پرسان حال نہ ہو۔ ریاست کہتے ہیں ماں جیسی ہوتی ہے۔ ہماری ریاست بھی ماں جیسی ہے مگر سوتیلی۔ میں سوچتا ہوں تندرستوں، امن پسند شہریوں، قانونی طور پر زیارات پر گئے ہوئے زائرین کو حکومت لینے سے انکاری ہے اور وہ بھی غیر معینہ مدت کے لیے تو کیا اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے اگر ان کی زندگیوں کو کچھ ہو جاتا ہے تو کیا حکومت یا ریاست اپنے شہریوں کی لاشیں وصول کر لے گی؟ کہ نہیں لے سکے گی کہ اس تابوت میں حکمران طبقوں، سیاستدانوں، بیورو کریٹس، وزیر، مشیر میں سے کسی کا کوئی رشتہ دار ہے اور نہ خود۔ حکومت تو حکومت حکومت کھیل رہی ہے۔ جو میڈیا پر آج تک اپنا سنجیدہ چہرہ بھی پیش نہ کر سکی ۔ شیخ رشید، فردوس عاشق اور فیاض الحسن چوہان کی جگتوں کے دھیان قوم کو لگا رکھا ہے۔ ریاست کو احساس کرنا ہو گا کہ یہ چائنہ میں پھنسے مجبور ایران میں زائرین اس کے شہری ہیں اپنے وطن میں آنا اُن کا حق ہے اور محروم رکھنا موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہو گا اگر کچھ منفی نتیجہ نکلتا ہے تو ذمہ دار ریاست ہو گی کیونکہ حکومت تو سابقہ حکمرانوں کے منصوبوں سے افتتاح کرنے میں مصروف ہے ان کے فلاحی پروگراموں کے نام بدل کر ریا کاری کا شاہکار ہونے کا ثبوت دے رہی ہے۔مکافات عمل دیکھیں ڈینگی وائرس پر عمران خان میاں برادران کو ڈینگی برادران کہتے تھے اللہ نے ان کو کرونا خان بنا دیا۔ روحانیت، مراقبہ اور روح کے روح سے تعلق کی دنیا سے میں جذباتی اور روحانی طور پر وابستہ ہوں ہمارے وزیراعظم بھی بابا فرید گنج شکرؒ کے در پر حاضر اور فرش کو بوسے دے چکے ہیں جس کو ناقدین نے سجدہ قرار دیا، خاتون اول بشریٰ بی بی بابا فریدؒ سے عقیدت ہی نہیں رکھتیں اپنے آپ کو ان سے فیض پانے والی خوش نصیب تصور کرتی ہیں۔ خاتون اول کے شوہر اول تو بابا فریدؒ کے دربار کی طرف جانے والے بازار کی سڑک کے قدم قدم پر بوسے لیتے دیکھے گئے۔ یہ رمز کی دنیا ہے کشف کے راز ہیں جو مبتلا ہیں وہی بہتر جانتے ہیں۔

مشہد ایران آئمہ کرام سلام اللہ علیہان کے روضوں پر حاضری دینے والے بھی ان سے عقیدت اور روحانی تعلق میں مبتلا مقلد اور ان کی محبت و مودت میں سرشار ہیں۔ آج وہاں پر غریب الوطنی میں پڑے ہیں اور حکومت نے پروازیں بند کر دیں کہ واپس نہ آئیں خاتون اول اور ’’وزیراعظم‘‘ عمران خان جو بابا فرید گنج شکرؒ سے عقیدت رکھتے ہیں سوچ سکتے ہیں یا کوئی سوچ سکتا ہے عمران خان کی حکومت ہو ، وزراء اور مشیر سب کے سب مدح سرائی میں سبقت لینے کے لیے ایک دوسرے کو روندتے چلے جا رہے ہوں ٹرمپ بھی معترف ہو اور اسٹیبلشمنٹ بھی ایک پیج پر ہو اور خاتون اول کے دربار پر حاضری کے دوران کوئی دربار کا دروازہ نہ کھول پائے یقینا نہیں، صاحب تصوف و کشف اور صاحب نظر ہستیوں کے مطابق اس کی اجازت محکمہ اوقات نہیں حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی طرف سے نہیں ہوئی بلکہ یہ خود بابا فرید گنج شکرؒ کے دربار سے رائندہ درگاہ ٹھہرے جبکہ رگڑ دیئے گئے محکمہ اوقات کے درجنوں ملازمین و افسران دراصل زائرین ایران کے لیے حکومت نے پروازیں منسوخ کر کے زائرین پر وطن عزیز کے دروازے بند کیے۔ بابا فرید ؒ نے حکمرانوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیئے یہ عقیدہ رکھنے والوں اور صاحب نظر لوگوں کے لیے کافی ہے سمجھنے کے لیے کہ حکمران جوڑے کے لیے اب دروازے بند ہوئے چلے ہیں۔ میرا موجودہ حکمرانوں سے سوال ہے ٹرین حادثوں میں قوم کو لاشیں دینے والے اور ریلوے کی بجائے وزیر موت کا لقب پانے والے بدھاں بائی کے کوٹھے کو لال حویلی بنا کر رہنے والے سے مشورہ کر لیں کہ زائرین کو واپس آنے سے منع تو کر دیا اللہ نہ کرے کچھ برا ہوا تو پاکستانیوں کی لاشیں بھی وصول کریں کہ نہ؟


ای پیپر