کرونا وائرس اور ہمارا ردعمل
03 مارچ 2020 2020-03-03

چار دہائیاں پیشتر دیہاتوں میں بجلی نام کی کوئی آنکھ مچولی نہ تھی۔ لوگ اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر شجر ہائے سایہ دار کے نیچے سستا لیا کرتے تھے۔ عورتیں گھر کے آنگن میں لگے نیم یا کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر ’’چنگیریں‘‘ بنایا کرتی تھیں۔ مائیں گھوڑی پر سویاں بنایا کرتی تھیں اور دادیاں چرخے کی ’’گھوک‘‘ سے مسحور ہوا کرتی تھیں اور پونی پونی کتا کرتی تھیں۔ بقول پروفیسر شوکت واسطی

شوکت ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا

ہم رہ گئے ہمارا زمانہ گزر گیا

ایسے ہی ایک اڈھیر عمر خاتون اپنے دروازے کے ساتھ بازار میں لگے گھنے پیبل کے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھی سستا رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہوا کے جھونکے آتے جن سے پیپل کے پتے کھڑ کھڑاتے اور کمزور، بوڑھے پتے پل بھر میں اپنی زردی زمین پر بکھیر دیتے۔اڈھیر عمر عورت بار بار یہی گنگناتی پیپل دیا پتیا کیوں کھڑ کھڑ لائی او۔ پرانیاں دی گئی رت نیویاں دی آئی او۔ پیپل دیا پتیاں کیوں کھڑکھڑلائی او اتنے میں ہوا کا ہلکا سا جھونکا آیا اور پاس پڑے کسی پرندے کا ایک ٹوٹا ہوا پر پڑا تھا وہ پر اڑا اور اس عورت کے منہ کے قریب سے گزر گیا۔ غبار میر سے دور بیٹھی ایک دوسری عورت نے یہ منظر دیکھا اور اپنی ہمجولیوں میں جا کر بڑی حیرانی اور تجسس سے بولی کہ آج میں نے بڑا عجیب منظر اور ایک انہونی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ سبھی سہیلیاں اس کی طرف متوجہ ہوئیں اور بڑی بے چینی سے اس کی بات کے سننے کا انتظار کرنے لگیں۔ وہ گویا ہوئی اور کہنے لگی کہ فلاں عورت اپنے گھر کے سامنے پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھی تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کے منہ سے پرندے کا پر نکلا اور ہوا میں اڑ گیا۔ سب حیران ہوئیں کہ بڑا عجیب واقعہ ہے ۔ ان عورتوں میں سے ایک عورت نے اپنی دیگر سہیلیوں کو بتایا کہ چند دن پہلے فلاں عورت دوپہر کے وقت بازار میں درخت کے نیچے بیٹھی تھی کہ اس کے منہ میں پرندے کے پروں کی ڈار (بہت زیادہ پر) نکلی اور ہوا کہ نذر ہو گئی۔ میں نے یہ منظر خود دیکھا ہے۔ سب اس کی اس بات پر انگشت بدنداں ہو گئیں۔ دیدہ حیرانی کی حد نہ تھی کہ کیا عجیب معاملہ ہے۔ ان میں سے کسی ایک سہیلی نے آگے اپنی سہیلیوں کو یہ داستان جس ڈھنگ سے زیب کی کہ انسان ششدر ہو جاتا ہے۔ اس عورت نے اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ فلاں عورت اپنے گھر کے دروازے کے سامنے پیپل کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی کہ ہوا کا جھونکا آیا تو اس نے گردوغبار سے بچنے کے لیے اپنے منہ کو ڈوپٹے سے ڈھانپ لیا۔ یونہی ہوا کا جھونکا گزرا تو اس نے سانس لینے کی غرض سے ڈوپٹہ منہ سے ہٹایا تو اس کے منہ ایک پرندا نکلا اور آسمان کی طرف محو پرواز ہو گیا۔ یہ بات سننا تھی کہ سبھی سہیلیوں کو اس عورت سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا اور جوق در جوق اس کے گھر کی راہ لی۔

پر سے پروں کی ڈار اور پروں کی ڈار سے پرندہ بنانے کا ہنر اور فن پاکستانی میڈیا اور عوام کے پاس جس تسلسل اور تواتر کے ساتھ موجود ہے۔ اس کی مثال کل کائنات میں نہیں ملتی۔ کرونا وائرس کی ابتدا چین سے ہوئی۔ چینیوں نے اور اس کے میڈیا نے اس بیماری کو چھپانے میں حتیٰ المقدور کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنا مورال بلند رکھا اور ایک ہفتے میں ہزاروں بستر کا ہسپتال بنا کر امریکہ کو ثابت کر دیا کہ آپ جو چاہتے ہو کبھی وہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ امریکہ جس قدر عیاری اور منافقت سے کام لے لے نہ تو ہماری معیشت کو کمزور کر سکتا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہمیں سپر پاور بننے سے روک سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ میں اتنی سکت ہے کہ وہ چین کو نیچا دکھا سکے اور مطلوبہ اہداف سے باز رکھ سکے۔ دراصل امریکہ کی یہ عالمی سازش تھی کہ چین کو اس وائرس کے ذریعے کمزور کر کے باقی ممالک کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے مگر امریکہ کی یہ عالمی سازش بھی بہت جلد دم توڑ جائے گی۔ چین کے بعد پاکستان میں صرف 4 کیس سامنے آئے ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے پوری دنیا میں اپنے میڈیا کے ذریعے تہلکہ مچا دیا کہ کرونا وائرس ہمیں لے گیا۔ ہم لٹ گئے… ہم نے کیا؟ ہم نے ماسک مہنگے کر دینے۔ ہم نے ماسک مارکیٹ سے غائب کر دیئے۔ ہم نے پانچ روپے والا ماسک سو سو روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیا۔ کرونا وائرس نے جو نقصان کرنا تھا اس کی نوبت آنے میں تو تاخیر تھی مگر ہمارے اسٹاکیوں کے وائرس نے عوام کو ضرور اپنی لپیٹ میں لیا۔ پاکستانی میڈیا نے پر سے پرندہ بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کر کے ثابت کیا کہ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی کسی بھی وقت اس وائرس کی زد میں آ سکتی ہے۔ یہ بات تو الگ شرمندگی اور ندامت کو شرمندہ کر رہی ہے۔ آپ سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک، میسنجر اور وٹس ایپ کا مطالبہ کریں۔ آپ کو حیران اور پاگل کردینے والی معلومات ملیں گی۔ آپ کو ہر دوسرا آدمی ماہر علاج کرونا وائرس نظر آئے گا۔ ایک سے ایک بڑھ کر ’’مشورہ خان‘‘ ملے گا۔ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایک سے ایک تدبیر ہاتھ لگے گی۔ لہٰذا میڈیا سے گزارش ہے کہ پھر سے ڈار اور ڈار سے پرندہ بنانے کا عمل بند کریں۔ ہمارا ملک اس حالت میں بھی نہیں ہے کہ اس وائرس کی افواہوں کو بھی برداشت کر سکے۔ ہمارا عالمی مورال تنزلی کی طرف جائے گا۔ مارکیٹ کریش کر جائے گی۔ میڈیسن مہنگی ہو جائے گی۔ (جو پہلے ہی قوت خرید سے باہر ہے) سرمایہ کار نکل جائیں گے۔ ملکی سرحدیں بند ہو جائیں گی۔ ایئر لائنز خسارے میں جائیں گی، اشیائے خورو نوش مہنگی ہو جائیں گی۔اس سے ملکی ترقی متاثر ہو گی اور ملک کا خسارہ ہو گا۔ لہٰذا ایسے شورو غوغا سے اجتناب برتا جائے۔ بقول اسد رحمن

میں آدم ابن آدم ہوں سو میری ذات مٹی ہے

یوں مسجود ملائک ہوں مگر اوقات مٹی ہے

اسد یہ جنگ لا حاصل نتیجہ خیز کیسے ہو

مقابل ہے مرے مٹی تو میرے ساتھ مٹی ہے


ای پیپر