خان صاحب، نعیم بھائی اور ہماری اخلاقی قدریں!
03 مارچ 2020 2020-03-03

ہماری مسلمانی روایت یہی ہے دنیا سے رخصت ہونے والوں کو ہم اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں، شاید اس لیے کہ اِس میں ہمارا کوئی ”خرچا“ وغیرہ نہیں ہوتا، یہ ”مفت کا ثواب“ ہے، یہ مفت کا ثواب بھی بے شمار بدقسمت لوگوں کو نصیب نہیں ہوتا، ....جو اچھا ہو اُسے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے بھی اچھے الفاظ سے یاد کرنا چاہیے، پر ہماری یہ روایت تقریباً دم توڑتی جارہی ہے، کسی کو اُس کے کسی اچھے کام پر تھپکی یا شاباش دینے کے معاملے میں دنیا میں ”کنجوسوں“ کا کوئی مقابلہ ہو ہم پاکستانی اول پوزیشن حاصل کریں، ہماری سوچ سب سے وکھری سب سے نرالی ہے، اِس سوچ کے تحت کسی کو اچھا کہنے کے لیے، یا کسی کی اچھائیاں اور نیکیاں وغیرہ یاد کرنے کے لیے ہم اُس کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں، اللہ جانے روز بروز بڑھتی ہوئی اِن غلاظتوں سے کب جان ہماری چھوٹے گی ؟ معاشرہ بداخلاقی کے تقریباً آخری مقام پر جاکرکھڑے ہوگیا ہے، .... المیہ یہ ہے پاکستان میں کوئی سیاسی، فوجی، صحافتی، دینی یا عدالتی ایسی شخصیت دکھائی نہیں دیتی جس سے مستقبل میں ہم یہ توقع کرسکیں وہ ہرقسم کے ذاتی مفادات سے پاک ہوکر، بڑی دلیری ودیانتداری سے اِس ملک کو مختلف اقسام کی گندگیوں سے نکال کر ایک صاف ستھرے مقام پر لے آئے گا، جہاں مہذب معاشرے ہمیں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگیں، ایک اُمید” خان صاحب“ کے حوالے سے تھی، اِس اُمید کا حال بھی اس شعر جیسا ہوا، ہم نے ”پھولوں“ کی آرزوکی تھی .... آنکھ میں ”موتیا“ اُتر آیا“ .... اِس ”موتیے“نے ہمیں مکمل طورپر اندھا کردیا ہے، اپنی کوئی خرابی ویسے ہی ہمیں نظر آتی ہے اور دوسروں کی جو خرابیاں نظر آتی ہیں اُس پر بولنے، احتجاج کرنے، حتیٰ کہ بات تک کرنے کی جرا¿ت ہمیں اِس لیے نہیں ہوتی کہیں اِن ہی خرابیوں کی بنیاد پر ہم خود نہ پکڑے جائیں، میں رات کو جب اپنے ملک کے بڑے بڑے” عظیم دانشوروں“ اینکروں اور قلم کاروں “ کو دوسرے شعبوں سے وابستہ شخصیات پر تنقید کرتے ہوئے دیکھتااور سنتا ہوں ، اُن میں کئی ایسے ہوتے ہیں جنہیں میں ذاتی طورپر جانتا ہوں کہ کس قدر منافقت وہ کررہے ہیں، جوکچھ وہ فرمارہے ہوتے ہیں اُن کا اپنا کردار اُس کے بالکل اُلٹ ہوتا ہے، میں بھی اُن میں ہی شامل ہوں گا، اِسی لیے تو معاشرے میں کوئی بہتری ، کوئی اچھائی، کوئی مثبت سوچ جنم ہی نہیں لے رہی، اور خرابی ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہی، .... یہ درست ہے ” اِس ملک کا اصل مسئلہ واقعی اقتصادیات نہیں اخلاقیات ہے“ پر کسی کو اُس کے کسی اچھے کام پر، اُس کی کسی اچھی تحریر پر بڑے دل کے ساتھ شاباش دینا، اُس کا حوصلہ بڑھانا اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا؟ ....کچھ لوگوں کو مگر اُس کی توفیق نہیں ہوتی، وہ اپنی ذات کے خول سے باہر ہی نہیں نکلتے، وہ سمجھتے ہیں ”اول وآخر“ وہی اچھے ہیں۔ وہ کسی کی تعریف بھی کریں کوئی نہ کوئی مقصد اُس کے پیچھے ضرور ہوتا ہے ،پیچھے نہ بھی ہو آگے ہوتا ہوگا، اللہ نے جنہیں اُن کی اوقات سے بہت بڑھ کر نوازا ہوتا ہے، اُن کے عیبوں پر پردہ ڈالا ہوتا ہے، اُنہیں تو خاص طورپر عاجزی کا ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے قدرت اُن کے قدکاٹھ میں مزید اضافہ کردے۔ نہ کہ اُن کے حوالے سے، اور اُن کی جھوٹی انا اور عزت آبرو کے حوالے سے یہ تاثر ابھرے ”قدرت نے بُرے کی رسی دراز کی ہوئی ہے“ .... اِس قماش کے لوگوں کے جنازوں میں بھی اکثر لوگ کسی اور ہی حالت میں شریک ہوتے ہیں جس کا مردے کو ثواب پہنچنے کے بجائے اُلٹا عذاب ہوتا ہے، ....میں اصل میں یہ کالم نعیم الحق پر لکھنا چاہتا ہوں، اور اِس کی آڑ میں خود کو اور اپنے جیسے کچھ اور لوگوں کو یاد کروانا چاہتا ہوں ہم نے بھی اِک دِن چلے جانا ہے، سو ابھی وقت ہے کچھ ایسے کام کرلیں ہمارے جانے کے بعد لوگ اچھے الفاظ سے ہمیں یاد کریں، .... نعیم الحق جنہیں مجھ سمیت اکثر لوگ نعیم بھائی کہتے تھے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امورتھے، ویسے تو خان صاحب نے وزیراعظم بننے کے بعد تھوک کے حساب سے معاونین خصوصی بنائے، پر نعیم الحق کی الگ ہی ایک شان تھی، وہ بے شمار ذاتی امور میں بھی اُن کے معاون خصوصی تھے، اور خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے تھے، خان صاحب کے ساتھ اُن کا تعلق بڑا پرانا تھا، وزیراعظم بننے سے پہلے دو لوگ خان صاحب کی ”آنکھ کے تارے“ تھے، ایک نعیم الحق، دوسرے عون چودھری، نعیم الحق اِس حوالے سے خوش قسمت ہیں اقتدار ملنے کے بعد خان صاحب نے اُن کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو اقتدار ملنے کے بعد ہرحوالے سے اپنی بے پناہ خدمت کرنے والے عون چودھری سے کیا، عون چودھری نے جسے بنی گالہ میں داخل کروایا، اُسی نے بنی گالہ سے اُنہیں نکلوادیا، ” تم جس پر احسان کرو اُس کے شرسے بچو“، بلکہ اُس کے ”جادو ٹونے“ سے بھی بچو....عون چودھری میں ہزار خرابیاں ہوں گی، یہ خرابیاں خوبیاں مجھ سمیت ہر انسان میں ہوتی ہیں، میں اکثر یہ کہتا اور لکھتا ہوں ”اللہ نے اربوں کھربوں انسانوں کی شکلیں اور آوازیں ایک جیسی نہیں بنائیں اُن کی ”فطرت“ بھی ایک جیسی نہیں بنائی، ہرانسان میں اپنی الگ خوبیاں خامیاں ہوتی ہیں، جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں خود کو فرشتہ بناکر رکھنا، یا اپنے کردار کو ہرقسم کے گندے چھینٹوں سے بچا کر رکھنا ممکن ہی نہیں ہے، پر ایک کام جو ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے اپنے اندر موجود خرابیوں خصوصاً بدترین خرابیوں کو جس قدر ممکن ہو کم کرلیں، یا کم کرنے کی کم ازکم کوشش اور نیت ہی کرلیں، اجر تو نیت اور کوشش کا بھی ہوتا ہے، عون چودھری ایک رکھ رکھاﺅ والا نوجوان ہے، وہ جب تک خان صاحب کے ساتھ جڑا رہا اُس نے اُنہیں ہر اُس شخص سے جوڑے رکھا جو بغیر کسی لالچ اور مفاد کے صرف اور صرف خان صاحب کی ذات سے محبت کرتا تھا، اب خان صاحب کے اردگرد جس قماش کے لوگ اکٹھے ہیں مجھے یقین ہے اُن کی موجودگی میں جتنا وہ خود کو اب تنہا محسوس کرتے ہوں گے شاید ہی اِس سے پہلے اتنا تنہا خود کو اُنہوں نے کبھی محسوس کیا ہوگا، میرا خان صاحب سے چوبیس برسوں پرانا تعلق ہے۔ اُن کی باڈی لینگوئج کو میں خوب سمجھتا ہوں، وہ پہلے والے خان صاحب نہیں رہے، وہ اندر سے اب ٹوٹے اور بکھرے ہوئے ایک انسان ہیں، .... اُنہیں اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے اقتدار پھولوں کی سیج نہیں، مختلف ”سیاسی ٹائیلٹس “ کے ”لوٹوں“ نے اُنہیں بُری طرح اپنے چنگل میں پھانس لیا ہے، اُن کے روایتی فنکارانہ سحر میں وہ بُری طرح گرفتار ہوچکے ہیں، خوشامد کے وہ کبھی رسیا نہیں تھے، اب مگر اس قدر ہیں ان کے سامنے یا اُن کی موجودگی میں کوئی شخص اُن کی خوشامد نہ کرے اُنہیں یوں محسوس ہوتا ہے وہ شخص اندر سے کچھ جرنیلوں، شریف برادران یا زرداری وغیرہ سے ملا ہوا ہے، صرف چند اشتہاروں سے اپنی تصاویر ہٹوانے کا حکم وغیرہ جاری کرکے اور اُس حوالے سے ایک دو کالم نویسوں سے اپنے حق میں مہم وغیرہ چلواکر وہ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وہ اب بھی پہلے جیسے خوشامد پسند نہیں ہیں، البتہ یہ بالکل درست ہے اُتنے خوشامد پسند ہرگز نہیں ہیں جتنے شریف برادران تھے۔ (جاری ہے)


ای پیپر