طاقت کی جنگ اور معاشرہ
03 مارچ 2020 2020-03-03

طاقت وہ بنیادی قدر ہے جس نے ہر دور میں معاشروں کو واضح رخ تعین کرنے میں مدد دی ہے۔ مختلف حوالوں سے یقینی بنائی جانے والی طاقت ہی کسی معاشرے کو نمایاں کرنے اور دیگر معاشروں اور خطوں پر اثر انداز ہونے کے قابل بنانے کا ذریعہ بنتی ہے، جن معاشروں نے غیر معمولی ترقی کے ذریعے طاقت پا کر تہذیب کی شکل اختیار کی ہے ، ان کے معاملات کا جائزہ لینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف شعبوں میں یقینی بنائی جانے والی پیش رفت ہی کچھ ایسا کرنے کی تحریک دیتی ہے، جس کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں کی تعداد بڑھے۔ یونان کے لوگ معاشی قوت پر علمی قوت کو فوقیت دیتے تھے۔ ان کے ہاں اہلِ علم± و فنون میں غیر معمولی صلاحیت ، سکت، اور مہارت رکھنے والوں کو معاشرے میں نمایاں مقام دیا جاتا تھا۔ جدید دنیا کو علم و فن کے حوالے سے بنیادی تصورات کے علاوہ سوچنے کی حقیقی تحریک بھی یونان سے ہی ملی۔ یونان میں مختلف علوم و فنون کے ماہرین نے شاگردوں کی شکل میں ایسی ٹیمیں تیار کیں جن کے ذریعے جدید تصورات کو پنپنے کا موقع ملا۔ یونان میں علم و فن کی قدر تھی تو روم میں عسکری طاقت اور شان و شوکت کی۔ اور اس طاقت کے بل پر روم کے شہنشاو¿ں نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر فتوحات کے بعد رومن سلطنت قائم کی۔ ہر دور میں طاقت کے حصول کی یہ جنگ جاری رہی ہے۔

لیکن دور کوئی بھی ہو سماج کے لئے ایک نظامِ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس طرح ریاست کے لئے قانون کی۔ قانون خارجی سطح پر ایک قوتِ نافذہ کا تقاضاکرتا ہے اور سیاسیات کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ قوت ریاست ہی کے پاس ہوتی ہے۔ سماج کے ہاتھ میں اخلا قی قوت ہوتی ہے جس کا ماخذ اس کا نظامِ اقدارہے۔

پاکستان جس جغرافیائی خطے کا نام ہے، یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز ہے۔ موہنجو دڑو سے لے کر ٹیکسلا تک ان تہذیبوں کے آثار پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام نے بھی اس خطے کے مکینوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ آج پاکستان کی آبادی کی غیر معمولی تعداد جو کم و بیش 97 فی صد ہے، مسلمان ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی تہذیبی روایات کی بھی امین ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں طاقت کے حصول کی جنگ میں نہ صرف اخلاقیات کی حدود کو پھلانگا گیا بلکہ اس تمام تر طاقت کبھی بھی عوام اور معاشرے کی فلاح کیلئے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ زیادہ سے زیادہ طاقت کے حصول کو ہمیشہ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ گزشتہ دہائیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں طاقت کا حصول محض کسی عہدے تک محدود نہیں بلکہ ادارے اور افراد “ طاقتِ ک±ل” کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں۔

جن کا کام عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ہے وہ انتظامی امور میں بے جا مداخلت میں مصروف ہیں۔ انتظامی امور کے ذمہ داران اپنا کام چھوڑ کر کسی اور کے کام مداخلت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ سب کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے تو دوسری جانب کسی صوبے کا وزیرِ اعلی پولیس کو، کہیں سیاستدان آپسی جنگ میں عوام کو کچل رہے ہیں اور کہیں بیوروکریسی مزید طاقت کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ یہ جنگ افراد اور اداروں میں موجود مختلف گروہوں کے مابین جاری اور اس کشمکش کا براہِ راست اثر عوام پر مرتب ہوتا آیا ہے۔

عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے۔اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ صالح معاشرہ نہیں ہو سکتا بلکہ ظلم و جبر اور دہشت و درندگی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

خلیفہ عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے کسی حاکم نے اپنے شہر کی ویرانی کا شکایت نامہ بھیجا اور امیرالمومنین سے اس کوآباد کرنے کے لئے مال طلب کیا۔امیر المومنین نے اس کو جواب میں لکھا:

” جب تم میرا خط پڑھو تو اپنے شہر کو عدل و انصاف کے ذریعے سے محفوظ کر دواور شہر کے راستوں سے ظلم و زیادتی دور کر دوکیونکہ ظلم و زیادتی ہی شہر کی ویرانی کا باعث ہے۔“

سورہ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

” کسی قوم (یا فرد) کی عداوت تمہیں بے انصافی پر نہ ابھارے، تم عدل کرتے رہو (کیونکہ) وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“

ہم نے انصاف کے ساتھ آج تک منصفی نہیں کی۔ کہیں نہ کہیں ہم بھی جرم کے مرتکب ہوئے اور ظالم کا ساتھ دیا، خواہ ظاہری ساتھ ہو یا عملی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں انصاف کا حصول ایک طبقاتی مسئلہ بن چکا ہے یعنی جو جتنا زیادہ طاقت ور ہے وہ قانون کی حکمرانی کو اپنے تابع رکھتا ہے اور جو کمزور ہے اس کیلئے انصاف کا حصول کسی دیوانے کے خواب کی طرح ہے۔

آج ہمیں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو عملی طور پر اسلامی اور جمہوری بنانے اور حقیقی تبدیلی لانے کے لیے ہر شعبہ زندگی اور بالخصوص نظامِ عدل میں خود احتسابی کے عمل کی شدیدضرورت ہے۔ اب ہمیں اس غیر فعال نظام سے چھٹکارے کیلئے باہمی افہام و تفہیم ، کھلے دل ودماغ ، برداشت اور دیانتداری کے ساتھ ایک نئے اور قابل عمل نظام کی بنیاد رکھنے کی فوری ضرورت ہے۔ مثالی نہ سہی لیکن بہتر اور مہذب معاشرے کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ صرف قانون نہیں بلکہ قوانین کے ان کی اصل روح کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ عام آدمی کواختیار اورانصاف کے اس عمل میں سانجھے دار ہونے کا احساس دلانا ہو گا۔


ای پیپر