سینیٹ انتخابات ، سندھ سے پیپلزپارٹی نے میدان مارلیا ،تفصیلی خبر دیکھیں

03 مارچ 2018 (22:31)

سینیٹ کی 12میں سے 10نشستوں پر پیپلزپارٹی نے کامیاب، ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ فنکشنل ایک ایک نشست لے سکی

کراچی : پیپلزپارٹی نے سینیٹ انتخابات میں سندھ سے میدان مارلیا ہے ، سینیٹ کی 12میں سے 10نشستوں پر پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے ،جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ فنکشنل ایک ایک نشست لے سکی ہیں ، پیپلزپارٹی کے مولا بخش چانڈیو ،میاں رضا ربانی ،سید محمد علی شاہ جاموٹ ،مرتضیٰ وہاب،مصطفی نواز کھوکھر ،امام الدین شوقین نے جنرل نشست پر جبکہ ڈاکٹر سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری نے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر جبکہ پیپلزپارٹی کے انور لعل ڈین نے اقلیتی نشست پر 100ووٹ لیکر کامیابی حاصل جبکہ ایم کیو ایم کے سنجے پروانی صرف 43ووٹ لے سکے ۔خواتین کی مخصوص نشستوں پر پیپلزپارٹی کی قراة العین مری اور کرشنا کوہلی نے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کے مظفر حسین شاہ نے بھی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔


مسلم لیگ ن ، پی ایس پی اور ایم کیو ایم نے مظفر حسین شاہ کی حمایت کی تھی۔ جبکہ صوبے کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم پاکستان اندروانی اختلافات کی وجہ سے صرف ایک نشست لے سکی ہے ،ایم کیو ایم پاکستان کے فروغ نسیم واحد امیدوار ہیں جو سینیٹر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔12سینیٹرز کے انتخاب کے لئے166میں سے 162ارکان سندھ اسمبلی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ صوبے سے سینیٹ کے لئے سات عام نشستوں، دو خواتین، دو ٹیکنو کریٹس اور ایک اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں کے لئے امیدواران کے درمیان مقابلہ ہوا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 94 ارکان تھے جبکہ گروپ بندی کا شکار ایم کیو ایم پاکستان کے اسمبلی ریکارڈ کے مطابق 50 ارکان تھے لیکن ان میں سے 8 چونکہ پی ایس پی میں شامل ہوچکے تھے اور پی ایس پی نے اپنے امیدوار بھی میدان میں اتارے تھے اور ساتھ میں فنکشنل لیگ کی حمایت کا اعلان بھی کیا تھا ،جبکہ بقیہ مانداس مقابلے کے لئے صوبے کی مختلف جماعتوں کے 33 امیدوار آمنے سامنے تھے ۔


جن میں سے 7جنرل نشستوں کیلئے 18 امیدوار وں کے درمیان مقابلہ تھا۔ پیپلزپارٹی نے 7میں سے 5 نشستیں جیت لیں جبکہ خواتین کی دو مخصوص نشستوں سمیت ٹیکنو کریٹ کی دونوں نشستوں پر پی پی امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔اس کے علاوہ ہفتہ کے روزصوبائی الیکشن کمشنرنے پولنگ کاجائزہ لیا، سینیٹ الیکشن کے موقع پرسندھ اسمبلی کے اطراف میں پولیس اوررینجرزکی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ سینیٹ الیکشن میں پولنگ کی کوریج کے لیے میڈیاپرپابندی عائد کردی گئی تھی ۔ارکان اسمبلی کوموبائل فون پولنگ بوتھ لے جانے سے روک دیاگیا تھا ۔ سندھ اسمبلی سے سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے سندھ اسمبلی آنے والے دونوں راستے کردئے گئے ،جبکہ آرٹس کونسل کی جانب سے آنے والے راستے کھلے رکھے گئے تھے۔جبکہ فوارہ چوک سے پریس کلب کو جانے والا راستہ بھی سیکیورٹی کے باعث بند رکھا گیا تھا ۔ سندھ اسمبلی کے اطراف 10سے زائد تھانوں کی پولیس تعینات تھی۔

مزیدخبریں