جہاد :اسلامی ریاست کی ذمہ داری
03 مارچ 2018 (20:28)

اسلامی ممالک کی حقیقی قیادت نے القاعدہ کے اس جھوٹے بیانیہ کو کہ وہ ’فلسطین کی حمایت‘پرمبنی نظریے کے تحت فلسطینیوں کی مدد کر رہی ہے، مسترد کردیا ہے ۔ اس قیادت کا مؤقف ہے کہ ’فلسطین کی حمایت‘ کے مبنی بر کذب بیانیہ فلسطینیوں کے کاز کو کونقصان پہنچا نے کا موجب بن سکتا ہے۔وہ فلسطین کی حمایت کا پروپیگنڈا تو کر رہی ہے لیکن القاعدہ اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دہشت گرد تنظیموں نے پرائیویٹ جہاد کے نام پر عراق اور شام کی قومی سلامتی، داخلی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ آ ج عالم یہ کے عراق بدترین انتشار کا شکار ہے جب کہ خانہ جنگی نے شام کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ کسی دور کے ترقی یافتہ اور خوشحال شام کے ہرے بھرے اور آباد و شاد بڑے شہر آثارقدیمہ کے کھنڈرات میں میںتبدیل ہوچکے ہیں۔ لیکن اس تنظیم کے نام نہاد جہادیوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ مظلوم ومقہور فلسطینیوں کی مدد کرنے کی خاطر اسرائیل کی سرحد عبور کرے۔ مضحکہ خیز صور ت حال تو یہ ہے کہ حال ہی میں داعش نے حماس اوراس کے ان کارکنوں کے خلاف اعلان جنگ کردیاہے ، جو ڈیڑھ عشرہ سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے اور غاصب صہیونی افواج کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ ارباب ِخبر و نظر کے مطابق داعش کے کارندے دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے فلسطینی مسلمانوں کو لقمہ اجل بھی بنا رہے ہیں۔ثابت ہو چکا ہے کہ عالم اسلام کے کسی بھی ملک میں داعش حملوں کا مقصد مسلم عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ان کا مقصد وحید مسلم معاشروں میں تقسیم کے بیج بونا ہے۔ ان کے اس اس قابل نفرت مجرمانہ فعل کا اسلام یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔اس ریشہ دوانی سے عالم اسلام کے ہر شہری کو خبردار اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ داعش کی عراق اور شام میں تباہ کن کارروائیوں کے تناظر میںسعودی عرب نے بھی ان کے حامیوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے۔
یاد رہے کہ 23ستمبر2015ء کوسعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ نے مسجد نمرہ (میدان عرفات) میں خطبہ حج میں انتباہ کیا تھا کہ’ داعش اسلام کے نام پر مسلم اُمہ کو تباہ کرنے میں مصروف ہے، دین سے گمراہ لوگ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں، دہشت گردوں نے مساجد کو بھی نہیں چھوڑا، گمراہ لوگ امت کے نوجوانوں کو بھی غلط راستے پر ڈالتے ہیں، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر گمراہ کرنے والوں کے خلاف متحد ہوجائیں، داعش جیسے گروہ اسلام کی غلط تشریحات پیش کرتے ہیں اور یہ مسلمان نوجوانوں کو گمراہی اور تشدد کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، مسلمان ریاست پر کسی گروہ یا فرد کا حملہ آور ہونا اسلام کی رو سے گناہِ عظیم ہے،مسلمانوں کو فتنے اور فساد کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا، نبی کریمؐ نے کسی کی جان لینے اور فتنہ پھیلانے سے منع فرمایا ہے، گمراہ کرنے والی سوچ کے خلاف آواز اٹھائیں، اسلام نے انسانوں کو یکجا اور متحد کیا، اسلام کا پیغام انسانیت کا ہے‘۔ انہوںنے نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا
کہ ’صرف حق کے راستے میں اپنی قوت صرف کریں، امت مسلمہ کے نوجوان ہر قسم کے فساد اور برے عقیدے سے دور رہیں‘۔ مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے میڈیا کو مخاطب کرکے کہا کہ ’صحافی گمراہ کن خیالات عوام تک نہ پہنچائیں‘۔ خطبہ حج میں انہوں نے خصوصی طور پر داعش کا ذکر کیا جو اُمہ میں فساد اور انتشار کے شعلے بھڑکا رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہی اتحادِ اُمہ اور اتحادِ بین المسلمین ہے۔ وہ حقیقی علماء جو فروغِ اسلام کو اپنی زندگیوں کا محور و مرکز اور حیاتِ مستعار کا نصب العین بنا لیتے ہیں وہ سراسر محبت کا پیغام دیتے ہیں۔ ہر حقیقی عالمِ دین جانتا ہے کہ انتشار و افتراق ایسی مہلک وبا ہے کہ جو بھی اس کی زد میں آتا ہے فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔
ہلیری کلنٹن اور ٹونی بلیئر کا یہ بیان ریکارڈ پر موجو دہے کہ عراق جنگ کے دوران داعش اور اس کی ذیلی تنظیموں کی تنظیم و تشکیل میں ہم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حیرت تو یہ ہے کہ اس کے باوجود داعش پوری دنیا میں نظامِ خلافت کے احیاء کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شام، عراق، یمن اور کردستان میں مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے باقاعدہ منظم ، مسلح سپاہ بنا رکھی ہے۔ جمہور علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں کسی بھی نجی حربی گروہ کو افواج کی تشکیل اور تنظیم کی اجازت نہیں اور کسی کو شخصی یا گروہی طو رپر اس امر کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ مسلم ممالک میں کسی بھی مقدس اصطلاح کا سہارا لے کر اُمہ کو باہم محاربے و مقاتلے کی دعوت دے۔ اسلام کسی بھی شخص یا گروہ کو اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پیش پا افتادہ مفادات کے حصول کے لئے منافرت کے شعلے بھڑکا کر اتحادِ اُمہ کے دامن کو پارہ پارہ کر دے۔ اُمہ کے حکمرانوں کو افتراق بین المسلمین کے زہر میں بجھے انتشار کے ہر خنجر کے وار کو روکنا ہو گا۔ ہمارے نزدیک وہ عناصر جو اُمہ میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں دراصل وہ اس نازک اور حساس موقع پر لارنس آف عریبیہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔بھلے سے وہ خود کو داعش کا نام دیں یا کوئی اور نقاب اوڑھ کر سامنے آئیں۔ یہاں اس امر کا ذکر از بس ضروری ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو۔ یہ امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب مشرق وسطیٰ میں داعش یا ہر قسم کی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ہر چہرے اور ہر روپ کو بے نقاب کیا جائے۔ داعش کے انتہاپسندانہ اورمتشددانہ نظریات و اقدامات عالم اسلام کے ممالک کی داخلی نظریاتی سرحدوں کی ریزہ کاری، قومی سلامتی ، ملی وحدت اورسالمیت کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔
دریں چہ شک کہ افغانستان کی داخلی صورت حال کشیدہ ہے اور افغان طالبان افغان حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں لیکن یہ افغان طالبان اور افغان حکومت کا معاملہ ہے۔ اگر افغانستان میں داعش موجود ہے تو اس سے بھی نبٹنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔یہ طے شدہ امر ہے کہ پاکستان کو کسی کی جنگ نہیں لڑنا ہے۔ ماضی میں ہم اس کا تجربہ کر چکے ہیں اور نتیجتاً پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ افغان طالبان ہوں یا داعش دونوں سے افغان حکومت ہی کو نبٹنے دیں۔ جہاں تک داعش کے خطرے کی پاکستان میں موجودگی کا تعلق ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اتنی سکت رکھتا ہے کہ وہ اس چیلنج سے نبرد آزما ہو سکے۔
حالیہ دنوں میں داعش کی جانب سے حماس کے خلاف اعلان وسیع پیمانے پر اعلان جنگ کی دھمکی کی مذمت عالم اسلام کے تمام ممالک کو بیک آواز کرنا چاہیے۔ امام حج اور امام کعبہ کی طرح عالم اسلام کے اُن علمائے حق کو جو اسلام اور اُس کے ارکان کی حقیقی روح کا ادراک و احساس رکھتے ہیں، ایک قدم آگے بڑھ کر داعش ایسی سامراج ساختہ تنظیموں کی کارروائیوں کی مذمت کرنا چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ سعودی عرب، مصر، ترکی، افغانستان اور عالم اسلام کے اکثر ممالک کے علماء نے اپنے فتووں کے ذریعے واضح طور پر عالم اسلام کی نوجوان نسل اور شہریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اعلان جہاد صرف اور صرف ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ داعش ایسی تنظیموں یاافراد نے جہاد کے تصورکومسخ کر نے کی مذموم کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے انہیں خارجی قرار دیتے ہوئے اُن کے نیٹ ورک کے تارو پود بکھیر کر رکھ دینے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ امر غنیمت ہے کہ پاکستان داعش اور ٹی ٹی پی سمیت تمام اندرونی اور بیرونی عناصر و گروہوں کے خلاف ہے۔


ای پیپر