…لہو لہو
03 مارچ 2018 (20:28) 2018-03-03

سائبیریا میں شیطان کو دور رکھنے کیلئے عوام نے جوش و خروش سے دیو ہیکل پتلے نذرِ آتش کیے۔ تا ہم وہاں سے نکل کر ولا دی میر پیوٹن کی صورت اس شیطان کو شام میں کار فرما دیکھئے۔ ابلیس تو ان کے ہاتھوں ریٹائرمنٹ لئے بیٹھا ہے۔ شام میں جو قیامت برپا ہے اس پر مجبوراً سارے مگر مچھوں کو بھی آنسو بہانے پڑ رہے ہیں۔ یو این چیف بھی بول پڑا کہ غوطہ شہریوں کیلئے بر سرِ زمینِ جہنم بن گیا۔ اسے روکا جائے! بظاہر یو این سیکرٹری جنرل نے سکیورٹی کونسل کی قرار داد کے تحت 30 دن کی جنگ بندی مانگی تھی۔ جب گہری نیند سوئی ہوئی انسانی ہمدردی کروٹ لے کر اٹھ بیٹھی تھی تاہم جنگ بندی یومیہ 5 گھنٹے کے ڈھکوسلے نے حقیقت کا رنگ گھنٹہ دو گھنٹہ بھی اختیار نہ کیا۔ 4 لاکھ غوطہ کے مسلمان 5 سالوں سے مسلسل محاصرے میں ہیں۔ خوراک، ادویات معدوم ہیں۔ اس دوران 19 مارکیٹیں ، 7 میڈیکل سینٹر، 6 سکول، 3 بچوں کی نرسریاں، 10 سول دفاعی مراکز نومبر 2017 سے اب تک روس اور اسدی طیاروں نے تباہ کئے ہیں۔ 18 فروری سے شدید ترین بمباری، درندگی کی ہر حد پار کر چکی ہے۔ ایک فوٹو گرافر کے مطابق اس نے اگست 2013ء میں غوطہ میں برسائے گئے کیمیائی ہتھیاروں میں سینکڑوں بچوں کی اموات کی تصویر کشی کی تھی اور سوچتا تھا کہ اس سے سخت مرحلہ کیا ہوگا! لیکن اب ہوا… محاصرہ اور بعد ازاں۔ بد ترین دن رات بمباریوں کا سامنا۔ دنیا ہمارا حال جان ہی نہیں سکتی۔ آزادی کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے، سو ہم ادا کر رہے ہیں۔ 8 دنوں میں 550 شہری شہید۔ کلورین گیس حملوں سے سسک کر جان دیتے بچوں کی تصاویر الگ۔ روتے چلاتے ننھے پھول۔ 4 لاکھ محصور شہری۔ حتیٰ کہ ناچنے گانے والا عالمی خوش باش آرٹسٹ طبقہ بھی چلا اٹھا۔ 200 اداکاروں موسیقاروں نے قتل عام، جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کہہ کر شدید احتجاج اس صورت حال پر کیا ہے۔ کھلا خط لکھ کر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو پکارا ہے۔ غوطہ کی آبادی کو بچانے کی یہ پکار بھارتی اداکارہ سری دیوی کے مرنے کے غم میں ڈوبے مسلمانوں کیلئے سوالیہ نشان ہے! ہمارے ہاں چہار جانب باراتوں ، خوش باش پٹاخوں، آتش بازیوں اور کرکٹ جنون میں کھوئے امتِ مسلمہ کے خونچکاں مناظر سے منہ موڑے نوجوان۔! لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے اک آہ بھی ساتھ۔ سوشل میڈیا … نیٹ پر نماش بینی کرتے کسی وقت 2011 ء سے شام کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتی وڈیوز پر بھی ایک نگاہِ غلط انداز ہی ڈال لیں! بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق…بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں! شام اور سری دیوی حسبِ ذوق، حسبِ توفیق واٹس ایپ پر لوگوں کے ہاں پائے گئے۔ ایسے میں ایک دکھیاری نے شام کے بچوں کے غم میں پگھلتے ہوئے فون کر کے پوچھا کہ ان کی مدد کیونکر کی جاسکتی ہے۔ ہم نے گھبرا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ بی بی کیوں خود کو اور مجھے ’ ٹیرر فائیننسنگ ‘ دہشت گردی کی مالی مدد۔ یعنی مرتے ہوئے مسلمان کے منہ میں پانی ڈالنا یا زخمی مسلمان کا علاج بھی کرنا ! کے جرم میں پکڑ وانے چلی ہو۔ مسلمان جسے امریکہ ، روس (سمیت بقول اوباما شام پر ہمیں 69 ممالک کی تائید حاصل ہے) جیسے چوہدری نشانے پر لئے بیٹھے ہوں، ان کی مدد کے تو خوابوں پر بھی پہرے بٹھائے گئے ہیں۔ آپ کس بے خبری کے جزیرے سے برآمد ہوئی ہیں؟ شامی دہائیاں دے دے کر اپنی وڈیوز پوسٹ کرتے ہیں کہ ہم نہتے شہری عورتیں بچے مارے جارہے ہیں۔ لیکن اصول عالمی چوہدریوں کا یہ ہے کہ مسلمان جو بھی مرتا ہے وہ دہشت گرد ہی ہوتا ہے (کیونکہ وہ نہتا بھی کفر کے معصوم دل دہلاتا اور اس پر خوف طاری کرتا ہے)۔ پوری دنیا میں افغانستان تا شام جتنی خونخواری گورے چوہدریوں کے قاتل جتھوں نے کی وہ ’امنِ عالم ‘ کی خاطر تھی۔ 9/11 میں

مارے جانے والے 2975 امریکیوں کے خون کے بدلے کم و بیش 20 لاکھ مسلمان مارنے کے باوجود ابھی بدلہ چکایا نہیں گیا۔ باری باری تمام مسلمان ممالک میں ’ دہشت گردی‘ کے نام پر جنگ بوئی اور کاٹی گئی۔ امریکہ میں ایک 19 سالہ لڑکے نے فلوریڈا کے ہائی سکول میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 17 بچے مار دیئے۔ اسے آپ دہشت گردی کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے۔ سالانہ امریکہ میں ایسی 33 ہزار اموات ہو رہی ہیں۔ امریکی بڑی معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے…؟ شام میں امریکہ اور روس کے درمیان باری کی بنیاد پر موت بانٹی جاتی ہے کاش امریکی ٹیکس دہندگان میں اس پر سوال اٹھانے کا شعور ہوتا! امریکہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا کہاں کہاں کار فرما نہیں! گلوب پر جابجا مسلم سر زمین پر خون کے دھبے یونہی تو نہیں ۔ فلپائن میں مورو مسلمان مارنے کو گھسا بیٹھا ہے۔ صومالیہ و دیگر افریقی ممالک منظرِ عام سے کچھ ہٹ کر ہیں۔ امریکہ کے ساتھ پارٹنر شپ میں بھارت ہر جا موجود ہے۔ ہندو سکھ ، ٹرمپ انتظامیہ میں مؤثر مقام پر براجمان ہندو انتہا پسند تنظیموں کو مضبوط کر کے بھارتی مسلمانوں پر جینا حرام کئے ہیں وہاں سے ان تنظیموں کو ’ٹیرر فائیننسنگ‘ سراسر روا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بدھ جتھے میانمار کے بعد اب سر لنکا میں بھی چڑھ دوڑے ہیں۔ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم مزید ہیں۔ یہاں دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی مدد پر تنظیمیں کالعدم ، تنظیمیں جہادی، انتہا پسندی کے لیبل لگا لگا کر حسبِ ضرورت، حسبِ حکم پکڑی باندھی سیاہ قرار دی جا رہی ہیں۔ ہم پر 9/11 والی دھونس دھمکی کا ایک نیا دور چڑھ دوڑا ہے۔ ہم اسی سوراخ سے دوبارہ رہا سہا ایمان امریکہ کے چرنوں میں ڈال کر سودا چکانے کی کوشش میں ہیں۔ اس ملک نے پہلے ہی اہل ایمان کو بیچ بیچ کر ، عقوبت خانوں کی نذر کر کے ، ڈاکٹر عافیہ جیسی معصوم و مظلوم ذہین و فطین بیٹی تھما کر (مکمل بے اعتنائی، بے حسی کا مظاہرہ !) کم گناہ نہیں سمیٹے، اب امریکہ ، دبائو کے تحت از سرِ نو ڈاڑھی ، پردے والوں کی شامت آئی ہے۔ مسنگ پر سنز کے حوالے سے یکا یک غائب کئے جانے والے مردو زن کے اضافے کا ذکر عدالت میں ہوا۔ مگر لاحاصل! جہاں ایک طرف پوری دنیا میں اسلام قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، مسجد ، تمام شعائرِ اسلام ، مسلم آبادیاں پوری ڈھٹائی سے عالمِ کفر کا ہدف ہیں۔ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ڈٹ کر ، کھل کر اسی روش کو اپنائے گا؟ افغانستان کے بہانے ہماری پٹائی کر کے ہمیں ’گرے‘، ’ سیاہ‘ قرار دینے کی کوشش ہے۔ کون نہیں جانتا مسئلہ اسلام اور ایٹم بم ہے۔

مشرف کی بوئی روشن خیالیوں کے ہاتھوں پاکستان کی بدنما بے حیائی جس کے پھل عمران ( جیسے درندوں والے بے شمار واقعات) کی صورت ہم نے کاتے، امریکہ پھر بھی راضی نہ ہوا۔ ہوسکتا بھی نہیں! خاکم بدہن۔ ایٹم بم کا خوف اسے نہ ہوتا تو آج شام، عراق کے مناطر یہاں ہوتے۔ اس کے تمام تر عزائم کسی طور ایٹمی کمبل چرا کر آپ کو اسی مقام پر پہنچانا ہے۔ سویلین حکومتیں انہیں پسند نہیں آتیں۔ پہلے وہ السیسی یا بشار جیسے بلڈوزروں سے عوام کو خوفزدہ کر کے ڈکٹیٹر شپ کی دھاک بٹھاتے ہیں۔ پھر اپنی مرضی کے خونیں کھیل کھیلتے ہیں۔ کیا دنیا کا منظر نامہ بہت واضح نہیں؟ اس کے باوجود سیاسی جماعتیں اور ان کے زعما پاکستان کے سر پر منڈلاتے خطرات دیکھنے والی آنکھ سے محروم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام کے سر پر مہنگائی کا سیلاب، طغیانی کے تھپیڑے لئے کھڑا ہے۔ پاکستان کو بز غم خود کرپشن سے پاک پوتر کرنے کے نام پر وہ گھڑمس مچا رکھا ہے الامان، الحفیظ ! قانون کی حکمرانی کا سب سے بڑا پیمانہ / انڈکس تو حفاظتی عافیت کدہ میں چھپا رائو انوار ہے۔ اور دوسری طرف ایسی ہی کارروائیوں کے نتیجے میں سر گودھا میں نہر میں گولیوں سے چھلنی 3 داڑھی والے نوجوانوں کی تیرتی لاشیں شلوار قمیص میں ملبوس! یہ یقیناً ’دہشت گرد‘ ہی ہونگے۔ بے نام و نشان! کہیں سے اٹھائے گئے۔ مارے پھینکے گئے۔ خاموشی ہی میں عافیت ہے! روس نے شام میں ’دہشت گردی‘ نہیں کی۔ نہ ہی امریکہ کبھی اس گناہ کا مرتکب ہوا۔ اسی لئے خوشی خوشی روس نے 200 نئے ہتھیار مسلمانوں پر آزما کر غوطہ (Testing Ground) میں کشتوں کے پشتے لگا کر اپنی معیشت کی ’فائیننسنگ‘ کی ہے۔ یہ حلال اور جائز، قابل تقلید ہے۔ یہ کام امریکہ تو جابجا کر چکا ہے۔ دنیا کی معیشت کی رگوں میں مسلم خون، پسینے (مظلوموں کا خون، اتحادی محنت کشوں کا پسینہ) کی کمائی کے ڈالر ، روبل ، یو آن، یورو دوڑ رہے ہیں۔ غمزدہ نا سمجھ مسلمانوں کیلئے مظلوموں کی مدد کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وہ بھی دبی زبان میں! سرکاری سطح پر مساجد میں پڑھنے کی بیشتر مسلمان ممالک میں اجازت نہیں! (کیونکہ وہ بلا روک ٹوک اوپر چلی جاتی ہے۔ ) ہم اور کیا کر رہے ہیں۔ ؟ گورنر پنجاب نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے، مردوں کے شانہ بشانہ لائے بغیر ’ترقی‘ ممکن نہی۔ شاپنگ مالز، دکانوں، دفتروں چوراہوں پر ساری لڑکیاں لا کھڑی کرنے کے باوجود معیشت تو تباہ حال ہی ہے!) فرانس سے بڑھ کر ’ترقی‘ کون کرے گا۔ ہمارے نقاب نوچنے والے فرانس میں حالیہ سروے کہہ رہا ہے کہ ہر آٹھ میں سے ایک عورت کی عزت پامال ہوئی ہے۔ 40 لاکھ عورتیں (ترقی یافتہ ، بااختیار ) ریپ ہوئی ہیں۔ باقی ماندہ (صرف) ہراساں ہوئی ہیں۔ یہ جن بوتل سے آپ بھی نکال رہے ہیں۔ خوفناک نتائج سے اللہ محفوظ رکھے۔ ہر اسانی کی اجنبی شرمناک اصطلاح اب ہمارے ہاں بھی روزمرہ کی بات بنتی جا رہی ہے۔

انسانیت کا دعویٰ جنہیں تھا کہاں گئے

دل آگیا ہے آنکھ میں ہو کر لہو لہو


ای پیپر