نوآبادیات اور لکھاری
03 مارچ 2018 (20:27) 2018-03-03

نوآبادیات ایک تاریخی تصور ہے جو طاقت ور اقوام کی طرف سے کمزور یا ارفع جوہر کی حامل اقوام کی علاقائی توسیعیت کا نام ہے۔بنیادی طور پر اس کا تعلق سرمائے کے حصول کے لیے مختلف منڈیوں کی تلاش سے تھا۔ نو آبادیاتی اکائیاںمقامی منڈیوں میں در آنے کے بعد مختلف صورتوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔وہ وہاںقبل از نو آبادیاتی سماجی صورت، مرکز ، علمیاتی ساختوں ، اور کلی ثقافتی تصور کو انہی کے صارفین کی نظر میں متشکک بنا کر درآمدی متبادل بیانیوں کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں اور آہستہ روی سے مقامی سماجی اکائیوں سے سندِ قبولیت حاصل کرلیتی ہیں ۔متحدہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے لے کر تقسیمِ ہند تک نو آبادیاتی عناصر مختلف شکلوں میںموجود رہے۔ بعد ازاں ہر دو علاقوں بالخصوص پاکستان میں ایک ایسا ثقافتی ابہام پیدا ہوا جس میں عالم گیریت سمیت مختلف النوع ثقافتی بیانیے اپنا کردار ادا کرتے رہے اور پاکستان دن بہ دن اپنی ثقافتی شناخت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہوتا رہا۔نوآبادیاتی اکائیاں اپنے میزبان علاقے کو تین مختلف سطحوں پر متاثر کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے وہ وہاں کے ’’ مراکز‘‘ یعنی مذاہب اور مسالک کی مختلف صورتوں کے مباحث کو ہوا دیتی ہیں ۔عموماً ایسے نزعی بیانیوں کے لیے نو آباد کار بھر پور سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔ اس نزع کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سماجی حلقے باہم الجھ کر اپنے اپنے مذہبی مراکز کی حتمیت پر مصر ہوجاتے ہیں اور قوم بطور ایک مجموعی تشخص کے ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے جس کا فائدہ سرمایہ دار کو ہوتا ہے جو ایسے ہر حلقے کو اپنی شناخت کی حتمیت کے حصول پر اکساتا ہے ۔ بعض اوقات یہی اختلافات شدت اختیار کرلیتے ہیں اور مذہبی منافرت کے ہاتھوں مقامی لوگ باہم دست و گریباں ہوجاتے ہیں ، دواساز اور اسلحہ ساز کمپنیاں اس میدان میں کود پڑتی ہیں اور اس صورتِ حال سے بھر پور مالی فائدہ اٹھاتی ہیں۔دنیا میں فی زمانہ نو آباد کار جہاں بھی جنگ وجدل کا سماں پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ اگر آپ ان کا گہرا مطالعہ کریں تو آپ کو ان کے پیچھے مذہبی منافرت کے پرچار کی ایک طویل کڑی نظر آئے گی۔ حیرت کی بات ہے کہ ہندوستان سمیت دنیا کے ہر اس علاقے میں نو آبادکاروں کے آنے سے قبل مذہبی منافرت خال خال ہی نظر آتی ہے۔ گویا مذہبی تفریق ان بیانیوںمیں سے ایک بیانیہ ہے جو آبادکاروں اور سرمایہ داروں کے لیے ایک نعمت ہے۔دوسرا حملہ مقامی Infrastructure پر ہوتا ہے ۔
بادشاہت ہو یا خلافت ، آمریت ہو یا کوئی اور طریقِ کار جو کسی بھی علاقے میں مروج ہو، نو آبادکار محکوم سرزمینوں میں مغربی ماڈل کی جمہوریت کا پودا لگاتے ہیں ۔ جمہوریت ایک بہترین طرز ِ حکومت ہے تاہم فی زمانہ جمہوریت کے بونسائی پودوں کی چھائوں تلے بیٹھی جمہور کے سروں پر محض دھوپ ہی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ جمہوریت پسند اقوام کے پسندیدہ ترین ’’دوست‘‘ بادشاہ ، آمر اور غیر جمہوریت پسند کرادار ہی رہے ہیں ۔ اور اس دوستی کے پیچھے بھی سرمایہ دارانہ فکر کا عفریت نہاں ہے ۔ دنیا بھی جہاں بھی نوآبادکار آئے ان کے جانے کے بعد میزبان سماج سیاسی طور پر مستحکم نہیں دکھائی دیتے۔سوائے ان چند ایک آبادیوں کے جنہوں نے درآمدی ثقافت اور شناخت کو بطورِ مہابیانہ اختیار کیا اور آج بھی اپنے سابقہ آقائوں کے جھنڈے کو اپنے قومی جھنڈے کا حصہ بنائے ہوئے ہیں ۔نو آباد کاروں کی طرف سے تیسرا اور سب سے اہم وار زبان اور ادب پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ادبی متون غیر سیاسی اور معصوم ہوتے ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں دنیا کا ہر متن ’’ سیاسی‘‘ یا ’’ نظریاتی‘‘ ہوتا ہے ۔ عام طور پر ادبی متون کے ذریعہ استعارہ تخلیق کیا جاتا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں ایک معنی جو مروج جمالیاتی حظ کشید کرنے کا باعث بنتا ہے اور دوسرا گہرا سیاسی معنی جو
عمومی طور پر مقامی ’’ مرکزیت‘‘ پہ حرف گیری کرتا ہے۔ عام طور پر ایسا سماج نو آبادکاروں کی زبان کا شائق ہوجاتا ہے ۔جو مقام ہمارے سماج میں انگریزی کو حاصل ہے وہ کسی اور زبان کو حاصل نہیں ۔ انگریزی چونکہ ہمارے سابقہ آقائوں کی زبان ہے اور نو آباد کارنو آبادیاتی عہد کے دوران ہندوستان کی مرکزی زبان یعنی فارسی کو کامیابی سے بنیادی کلامیے سے نکالنے میں کامیاب ہوچکے تھے لہٰذا انگریزی نے اس خلا کو پُر کیاحالانکہ اردو کے اولین حمایتی انگریز ہی تھے۔ایک لحاظ سے اردو کو فارسی کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا اور پھر انگریزی کو مرکزی دھارے کا حصہ بنا کر اردو کو بھی حاشیے پر رکھ دیا گیا۔کینیا بھی ہندوستان کی طرح برطانوی سامراج کی آبادی رہا ۔ کینیا سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب Ngugi wa Thiong'o لکھتے ہیں کہ کینیا میں انگریزی محض ایک زبان نہ تھی بلکہ ایک ارفع زبان تھی جس کے سامنے دیگر زبانوں کو جھکنا پڑتا تھا۔GikuyU کینیا ، یوگینڈا اور تنزانیہ میں بولی جانے والی ایک اہم زبان ہے ، نگوگی کے مطابق اگر کوئی طالب علم سکول میں GikuyU زبان بولتا پکڑا جاتا تو اسے بہت سخت سزا دی جاتی تھی۔ننگی پیٹھ پر چھڑی سے پیٹا جاتا تھا یا پھر گلے میں ایک آہنی طوق ڈال دیا جاتا تھا جس پر تحریر ہوتا تھا کہ ’’ میں احمق ہوں ‘‘ یا ’’ میں گدھا ہوں‘‘۔ اور ایسے مجرموںجو اپنی مادری زبان بولتے تھے کو پکڑنے کے لیے انہی بچوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ اور اس کے برعکس انگریزی بولنے والے طلبا کو بہت انعام و اکرام سے نواز جاتا اور انہیں اپنے Colonial Agenda کا بنیادی حصہ بنایا جاتا۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ مابعد نو آبادیاتی صورتِ حال میں سابقہ آقائوں کی زبان کو مرکزی حیثیت حاصل تو ہوتی ہی ہے تاہم وہ دیگر مقامی زبانوں اور ثقافتوں کے ترفع کا بیج بھی مقامی زمینوں میں بو دیتے ہیں تاکہ ان زمینوں کی کوئی کلی ثقافتی شکل متشکل نہ ہوپائے۔ ادب کے ذریعے نو آبادیاتی ایجنڈے کی مقامی بیانیوں میں اثر پذیری بہت موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک لکھاری رڈیارڈ کپلنگ تھا۔ کپلنگ کو 1907ء میں نوبل پرائز سے نواز گیا ۔ 1865ء میں ممبئی میں پیدا ہونے والے رڈیارڈ کپلنگ نے ہندوستانی سماج اور لفظیات کو اپنی تخلیقات کو حصہ بنایا۔اس کے نمایاں کاموں میں The Jungle Book ، Kim ، The Man Who Would Be King ، The White Man's Burden،The gods of the Copybook Headings, Gunga Din , Mandalay , اور If— شامل ہیں ۔ ناول ، افسانہ اور شاعری ہر تین ادبی مظاہر میں یوں دکھائی دیتا ہے کہ کپلنگ کا متن ہندوستانی سماج کے لیے دردِ دل سے مزین تھا۔ کپلنگ ایک مشہورِ زمانہ کہانی The Miracle of Purun Bhagat ہے جس میں ایک ریاست کے وزیرِ اعظم پورن داس کا ذکر ہے جو بہت باعلم ، باکردار شخص ہوتا ہے اور اپنی شہرت کی معراج کے دنوں میں عنانِ حکومت چھوڑ ہمالیہ کے جنگلات میںنروان حاصل کرنے چلا جاتا ہے جہاں وہ مستقل قیام کرلیتا ہے اور جنگلی جانور اس کے بہترین دوست بن جاتے ہیں ۔ یہی جانور ایک رات اسے جگاتے ہیں جب بارش بہت زوروں پر ہوتی ہے اور پہاڑی سرک رہی ہوتی ہے مباداکہ بستی اس پہاڑ کی زد پہ آجائے پورن بھگت اپنے اس تازہ تر مقام کو چھوڑ کر لوگوں کو جگاتا ہے اور ان کی جانیں بچاتا ہے اور اپنی جان دے دیتا ہے۔ لوگ اس بھگت کی یاد میں ایک مقبرہ تعمیر کرواتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ وہی شخص ہے جو کبھی مہامنتری بھی رہا تھا۔ بظاہر سادہ سی نظر آنے والی اس کہانی کی مختلف معنوی تہیں ہیں ۔ پورن داس کے کردار کی شکل میں ہندوستان کے مختلف النوع ’’ مذہبی مراکز‘‘ پر انگلی اٹھائی گئی ہے کہ مذہب انسان کو بنیادی عملیت سے الگ دھارے میں لے جاتا ہے ۔ کپلنگ کی ہندوستانی مذاہب کے بارے یہ تفہیم لادرست تھی ۔ دنیا کے تمام مذاہب انسان دوستی پر یقین رکھتے ہیں اور انسان دوستی کے لیے انہیں انسانی سماج کی ضرورت ہوتی ہے اور انسانوں میں رہ کر ہی کوئی مذہبی شخصیت اپنے مذہبی اعمال سرانجام دے سکتی ہے۔ لیکن کپلنگ سمیت بیشتر ایسے لکھاری جو بظاہر نوآبادکاروں اور محکوموں کے درمیان پل کاکردار ادا کررہے ہوتے ہیں دراصل نوآبادیاتی ایجنڈے پر ہی کام کررہے ہوتے ہیں ، یاد رہے کہ کپلنگ بطورِ سیاح مختلف ملکوں اور شہروں سے ہوتا ہوا بالآخر اپنی اصل سرزمین یعنی برطانیہ میں 1936ء میں فوت ہوا اور اس کی قبر ٹامس ہارڈی اور چالس ڈکنز کے ساتھ ہے۔ ( جاری ہے)


ای پیپر