طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے کا فیصلہ!
03 مارچ 2018 (20:26) 2018-03-03

کابل میں قیام امن کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے دو اہم اعلانات کئے ہیں،ایک افغان طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کر نے اور دوسرا ماضی کو بھول کرحال میں پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے بارے۔ڈاکٹر اشرف غنی کی افغان طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنا اور پاکستان کو نئے سرے سے مذاکرات کی پیشکش مو جودہ حالات میں افغانستان کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔اس لئے کہ چند روز قبل افغان طالبان نے امریکا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن واشنگٹن نے تاحال اس کاکو ئی جواب نہیں دیا ہے۔اسی طر ح اسلام آباد اور کابل میں بھی براہ راست بات چیت کا آغاز اسی سال جنوری کے مہینہ میں ہوا تھا۔پھر اسلام آباد اور کابل میں بات چیت کے کئی ادوار بھی ہوئے لیکن اندازہ یہی ہے کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے،اس لئے ابھی تک اس کا کوئی اعلا میہ جاری نہیں کیا گیاکہ کن امور پر بات چیت ہوئی ہے اور اختلافات کن مسائل پر ہیں۔
ڈاکٹر اشرف غنی نے مذاکرات کے لئے افغان طالبان کو غیر مشروط پیشکش کی ہے۔ طالبان اس پیشکش کا کیا جواب دیتے ہیں ۔یہ ایک الگ معاملہ ہے۔لیکن یہ بات واضح ہے کہ افغان طالبان کوبات چیت پر آمادہ کرنا،ان کے خدشات کو دور کرنا اور ان کو مذاکرات کی میز پر لانا افغانستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس کے لئے صرف اعلان کرنا کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ مخالف فریق کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ بات چیت پر آمادہ ہو۔ضروری ہے کہ اس اعلان کے بعد ڈاکٹر اشرف غنی پارلیمنٹ میں مو جود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں ،جس کو پارلیمان کی تا ئید حا صل ہو تاکہ وہ افغان طالبان کے ساتھ رابطوں کا آغاز کریں۔افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کر زئی چونکہ کئی مو قعوں پر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی نما ئندگی کر چکے ہیں اگر ان کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا،اس لئے کہ وہ کئی بار مذاکرات میں شریک رہے ہیں اور بہت سارے مسائل سے با خبر بھی ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی اس لئے ضروری ہے کہ ایک طرف مخالف فریق یعنی طالبان کو اس بات کا احساس ہو گا کہ وہ قوم کے منتخب نما ئندوں سے بات چیت کر رہی ہیں،دوسرا
جو بھی فیصلے ہونگے پارلیمنٹ میں اس کے دفاع کے لئے ارکان بھی مو جود ہونگے۔اگر کسی معاملے پر رہنما ئی کی ضرورت ہوگی تو بوقت ضرورت وہ پارلیمان سے رہنما ئی بھی لے سکیں گے۔پارلیمانی کمیٹی سے یہ خدشہ بھی ختم ہو جائے گا کہ بعد میں پارلیمان کو یہ شکوہٰ بھی نہیں ہو گا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اگر حکومت اور طالبان مذاکرات شروع کرکے کسی حل پر پہنچ جاتے ہیں تو اس کو پارلیمان سے پاس کرنے میں بھی آسانی ہو گی اس لئے کہ معاہد ہ کسی عام فرد نے نہیں بلکہ ان کے تشکیل کردہ پارلیمانی کمیٹی نے کیا ہو گا۔
عملی اقدامات کے طور پر ایک طرف اگر پارلیمنٹ سے منظور کردہ کمیٹی کی تشکیل کی ضرورت ہے تو دوسری جانب افغان طالبان کو کابل ،قندہار ،قندوز اور چند دوسرے بڑے شہروں میں بھی سیاسی دفاتر کھولنے کی اجاز ت دینا ہو گی۔اس بات کو یقینی بنا نا ہو گا کہ جب تک مذاکرات جاری رہیں گے امریکا یا کوئی اوران دفاتر پر بمباری نہیں کریگا۔کسی بھی فورس کو اجاز ت نہیں ہو گی کہ وہ ان دفاتر پر چھاپہ مارے اور وہاں پر مو جود لوگوں کو گرفتار کریں۔اس لئے کہ ما ضی میں مذاکراتی عمل کو ان حربوں کی وجہ سے سبو تاژ کیا گیا ہے۔اگر مذاکراتی نمائندوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہو گی اور ان کی جان محفوظ نہیں ہو گی تو مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔لہذا مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ طالبان کو افغانستان میں سیاسی دفاتر کھولنے ،اس کی سیکیورٹی ،مذاکرات کاروں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ان کی جانوں کی تحفظ کی ضمانت دی جائے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کر نے سے پہلے ضروری ہے کہ افغانستان میں مو جود سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کا اعتماد میں لینا اس لئے ضروری ہے کہ ما ضی میں افغان طالبان اور سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات رہے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ایک طرف حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت جاری ہو اور دوسری طرف کسی صوبے میں طالبان اور کسی سیاسی جماعت کے درمیان لڑائی بھی جاری ہو۔مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس دوران ملک میں امن ہو تاکہ تمام فریقین یکسوئی کے ساتھ اپنا مو قف پیش کریں اور کسی امن معاہدے پر متفق ہوں۔
افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر اشرف غنی کو چاہئے کہ وہ امریکا کے ساتھ بھی بات چیت کریں۔ ان سے گارنٹی لیں کہ وہ طالبان کے سیاسی دفتر پر حملے نہیں کریں گے۔مذاکراتی نما ئندوں کو گرفتار یا ان کو قتل نہیں کریں گے۔جو بھی امن معاہدہ طالبان اور حکومت کے درمیان ہوجائے اس کو تسلیم کریں گے۔جب تک امریکا سیاسی دفاتر پر حملے نہ کرنا ،مذاکراتی نما ئندوں کو گرفتار نہ کرنے یا ان کو قتل نہ کرنے کی گارنٹی نہیں دے گا اسی وقت تک امن بات چیت کا آگے بڑھنا ممکن نہیں۔اسی طر ح جب تک امریکا اس بات پر راضی نہیں ہو جاتا کہ طالبان اور حکومت کے درمیان جو بھی معاہدہ ہو جائے وہ اس کو تسلیم کر یں گے اسی وقت تک امن بات چیت کا شروع ہو نا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
رہی بات پاکستان کے ساتھ ماضی کو بھول کر بات چیت شروع کر نے کی تو ضروری ہے کہ اس کے لئے بھی افغانستان کی حکومت پارلیمان سے منظور کر دہ کمیٹی تشکیل دیں۔دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسائل پر ماہانہ بنیادوں پر ملا قاتیں کریں۔جن مسائل پر پہلے بات چیت ہونی چاہئے وہ ہے دونوں ملکوں کے درمیان جامع ویزہ پالیسی،تاکہ لوگوں کی آمد ورفت میں آسانی ہو۔تجارت پیشہ افراد،سیاحوں،مریضوں ،طالب علموں اور سرحدی صوبوں کے رہائشی افراد کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ویزہ پالیسی مر تب کر نی چاہئے۔اسی طر ح ایک اہم مسئلہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی بھی ہے۔دونوں ملکوں کو چاہئے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے جا مع منصوبہ بندی کریں۔زیادہ سے زیادہ دوسال تک مہاجرین کی واپسی کو عملی طور پر یقینی بنا یا جائے۔
ایک اہم مسئلہ کالعدم تنظیموں کا بھی ہے ۔جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی مو جود ہے۔ایک دوسرے پر الزام لگایا جارہا ہے کہ حکومتیں یا ریاستی ادارے ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں مو جود ہے۔اسی طر ح افغانستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان میں ہیں۔محفوظ سرحد بھی دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم تنا زعہ ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر دونوں ممالک بنیادی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دہشت گر دوں کو پناہ دینے کے الزامات اور سرحد پر خاردار تار لگا نے کا مسئلہ تھوڑی مدت کے بعد حل ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو ویزہ سے آنے جانے دیا جائے،افغان مہاجرین کو جتنا جلدی ممکن ہو باعزت طریقے سے واپس بھیج دیا جائے۔


ای پیپر