دل کا راجہ: راولپنڈی ایکسپریس
03 مارچ 2018 (20:25) 2018-03-03

ہندوستان کے پرانے راجے اور مہاراجے کسی سے خوش ہوتے تھے تو اسے اپنے دربار شاہی سے ہاتھی گھوڑے یا کسی قیمتی چیز کا تحفہ دیتے تھے لیکن پوٹھوہار کے جس راجے کا ہم ذکر کرنے جا رہے ہیں ان کے لیے ہمیں ہاتھی گھوڑے یا درہم و دینار والی کرنسی تبدیل کرنا پڑے گی وہ اپنی محبت، خلوص اور چاہت کے بل بوتے پر اپنے مخاطب کو مالا مال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہ وہ راجہ ہے جس کی اپنی کوئی جاگیر نہیں لیکن اپنے چاہنے والوں کے دل پر راج کرنے والے راجہ محمد صادق شاد کی اپنی ایک الگ تھلگ سلطنت ہے جس کی سرحدیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ راجہ صاحب جیسے کردار ہمارے معاشرے میں ہمارے اردگرد موجود ہیں لیکن ہم ان پر اس لیے غور نہیں کرتے کہ آج کل شخصیت کے قدوقامت کا اندازہ جس کرنسی میں ہوتا ہے وہاں راجہ صاحب تنگیٔ داماں کی شکایت پر مجبور ہیں۔
راجہ صادق شاد نے آج سے تین دہائی قبل نئی منزلوںکی تلاش میں اپنی راجدھانی راولپنڈی کو خیر آباد کہہ کر بحرین کی سرزمین پر قدم رکھا تو وہاں انہیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ ایک کنسٹرکشن کمپنی میں پراجیکٹ منیجر کی حیثیت سے شب و روز محنت کے نتیجے میں بعد ازاں اس کمپنی کے مالک بن گئے لیکن ان کی اصل پہچان یہ ہے کہ بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے ان کی سماجی خدمات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بحرین کے کسی کونے سے آپ کسی پاکستانی سے ان کا پوچھیں تو وہ آپ کو بتا دے گا۔ پاکستان کلب بحرین کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلق کی وجہ سے وہ کمیونٹی لیڈر بن کر ابھرے اور کلب کے الیکشن میں تین دفعہ ایگزیکٹو بورڈ کے مختلف عہدوں پر فرائض انجام دیے۔ وہ بہترین شاعر اور شعلہ بیان مقرر مانے جاتے ہیں۔ پاکستان کلب میں ان کے دور میں گورنر پنجاب سابق چوہدری سرور دورہ کریں یا سپیکر قومی اسمبلی ایا ز صادق سرکاری طور پر بحرین میں تشریف لے جائیں پاکستان کلب میں ان کے پروگرام کی میزبانی راجہ صاحب کے حصے میں آتی رہی۔ بحرین میں ہونے والے عالمی سطح کے مشاعروں میں وہ نظامت کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ معروف شاعر مرحوم سعید قیس کے ساتھ ان کی نیاز مندی کے بعد انہوں نے ادبی تنظیم بزم سخن بنائی جس نے شاعروں اور لکھاریوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اس کے علاوہ وہ بحرین میں پاکستان سکول کے بورڈ آف گورنر میں بھی اعزازی طور پر وابستہ رہ چکے ہیں۔
راجہ صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ سیدھی اور کھری بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کے مخالف ہو جاتے
ہیں وہ جون ایلیاء کے اس مشہور شعر کی عملی تفسیر ہیں کہ
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں
سچ بولنے کی پاداش میں سماجی حلقوں میں انہیں اکثر تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کئی دفعہ انہیں پوچھا کہ راجہ صاحب آپ کے آج کے حلیف اگلے دن آپ کے حریف بن جاتے ہیں آپ کو چہرہ شناسی کیوں نہیں آتی، ان کا جواب یہ تھا کہ میں اندر سے سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہوں اور سمجھ رہا ہوتا ہوں لیکن اگر اس طرح کر کے آپ انسانوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دیں گے تو ایک دن آپ بالکل اکیلے ہو جائیں گے۔ راجہ صاحب کی یہ بات میرے لیے آج بھی مشعل راہ ہے۔
راجہ صادق شاد کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے بحرین میں پوٹھوہاری ادب اور کلچر کو متعارف کروانے کے لیے وہاں پروگرام کی میزبانی کی اور پاکستان سے پوٹھوہاری شعراء اور فنکاروں کو وہاں دعوت دی جو کہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ پوٹھوہاری کے مشہور شاعر انور فراق سے کسب فیض حاصل کرتے رہے یہ زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔
پاکستان کی قومی سیاست میں راولپنڈی کا جو contribution ہے وہ آپ سب جانتے ہیں کہ اس خطے میں پارٹی کے ساتھ بڑے بڑے لیڈر ہیں کیونکہ پنڈی بڑا مردم خیز علاقہ ہے۔ بحرین میں پاکستانی حلقوں میں راولپنڈی کی نمائندگی کے لیے راجہ صاحب ایک leading figure ہیں ۔ راجہ صاحب اپنی وفاداری نہیں بدلتے۔ وہ آج سے 25 سال پہلے جس کے ساتھ کھڑے تھے آج بھی اس کے ساتھ ہیں۔ اختلاف کرتے ہیں، لڑائی جھگڑا کرتے ہیں، مگر راہیں جدا نہیں کرتے ۔ یہی ان کی خوبی ہے اوریہی ان کی خامی ہے۔ زمانہ بدل گیا لوگ بدل گئے مگر راجہ صاحب نہیں بدلے۔ آج کے دور میں دوستی تعلقات اور وفاداری میں ایسے بنیاد پرست آپ کو کہاں ملیں گے۔ راجہ صاحب کے ساتھ پاکستان کلب بحرین میں میں نے طویل وقت گزارا ہے۔ ان کے ساتھ میری ذاتی وابستگی ان کی سماجی و ادبی سرگرمیوں سے ماورا ہے۔ وہ میرے مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ مجھے بحرین کو خیر آباد کہے ایک عشرہ بیت چکا ہے۔ ہزاروں میل کے فاصلوں نے پرانے تعلقات کو پیشہ ورانہ مصروفیات کی تہہ میں دفن کر دیا ہے۔ جو لوگ جان جہاں تھے ہوئے فسانہ وہ۔ مگر راجہ صادق شاد کا شمار ان معدودے چند دوستوں میں ہوتا ہے جنہوں نے رابطہ منقطع نہیں ہونے دیا۔
راجہ صاحب تمام تر سنجیدہ مزاجی کے باوجود جس مزاح سے محروم نہیں ہیں۔ ایک دفعہ بحرین کے ایک شیخ صاحب نے انہیں مذاق کرتے ہوئے کہا کہ بڑا راجہ بنا پھرتا ہے ہمارے ہاں تو بال کاٹنے والے کو راجہ کہتے ہیں۔ اس پر راجہ صاحب نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر جواب دیا کہ ہمارے پنڈی میں شادی پر ڈھول بجانے والے کو شیخ کہا جاتا ہے۔ جس پر شیخ صاحب لا جواب ہو گئے۔
راجہ صاحب تقریر تشہیر اورتصویر والی سیاست کے کٹر مخالف ہیں اور ایسے لوگوں کے بارے میں اکثر شاعری کرتے ہیں۔ ان کا ایک پنجابی شعر ملاحظہ ہو…
جاندی وار دی فوٹو کھنچ لٹو اینویں مردا جاندا اے
ساڈے یار دی فوٹو کھنچ لیو اینویں مردا جاندا اے
یہ شعر انہوں نے اپنے سیاسی مخالف کے لیے لکھا تھا مگر یہ پاکستان کی خود نما سیاست کی بھر پور عکاسی کرتا ہے ان کی اردو غزل کے چند اشعار
رات کے پیروں میں زنجیر بھی ہو سکتی ہے
چاند نکلنے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے
نام درختوں پر بھی لکھے جا سکتے ہیں
خواہش پتوں پر تحریر بھی ہو سکتی ہے
ہم سادہ لفظوں والوں کو تم کیا جانو
اپنی بات بڑی گھمبیر بھی ہو سکتی ہے
اپنی گردن آپ بچا کر چلنا صادق
غیر کے ہاتھوں میں شمشیر بھی ہو سکتی ہے
گزشتہ ایک سال سے راجہ صاحب کے ساتھ رابطہ کمزور ہوتا گیا، میں نے یہ سمجھا کہ راجہ صاحب پر بھی بحرین کے موسم کااثر ہو گیا ہے مگر میرا اندازاہ غلط تھا۔ وہ طویل عرصہ غیر حاضری میں بیمار تھے۔ انہیں عارضۂ قلب کا سنگین مسئلہ ہے اور اب جگر کی بیماری ہے۔ حقیقت پتا چلی تو اپنے آپ پر بہت افسوس ہوا۔ فون پر انہوں نے تفصیلات بتائیں تو میں اتنا کہہ سکا کہ راجہ صاحب آپ نے مجھے رلا دیا ہے۔
اپنی پوری زندگی اصولوں اور دوستوں کی خاطر لڑنے والے راجہ صادق شاد آج بھی مصروف جنگ ہے۔ وہ اپنی بیماری سے بڑی بہادری کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ قارئین سے ان کی دعائے صحت کی درخواست ہے ۔ وہ پر عزم اور حوصلہ مند ہیں اور کہتے ہیں کہ
اک دن میں پردیس نوں چھڈ کے
سب کنڈے پیراں چوں کڈھ کے
لم سلمے پینڈے وڈھ کے
تیرے پنڈ وچ آنواں گا
امیدوں اور آرزوؤں کا یہ سفر جاری ہے۔


ای پیپر