کرپٹ سیاسی معیشت کی آخری ہچکیاں
03 مارچ 2018 (20:23) 2018-03-03

ٹھہرے ہوئے پانی کی تہہ میں پوشیدہ عوامل اب اپنے اظہار کی جانب بڑھ رہے ہیں
یہ زعم کہ بادشاہت مستحکم عالمی قوتیں جس کی پشت پناہ اور پنجاب میں لے پالک بیورو کریسی جسے 36برسوں میں دودھ پلا کر جوان کیا گیا جس کے ہاتھوں کرپشن کے سرمائے کی تخلیق کا عمل ریاست سے نکل کر عالمی کینوس پر پھیلا ۔
خدمت ہی خدمت یہ تاریخی سند ن لیگ سے جڑیّ مفاداتی طبقہ کی ہے یہ سند روس میں زار شاہی کے رومانوف کے بارے میں پیش کی جاتی ہے لیکن اس تاریخی تقدس کو 9جنوری1905ء کو ہونے والے خونی تصادم نے یکسر روسی عوام کے ذہنوں سے اڑا کر رکھ دیا بہت دنوں سے معماتی ذرائع ابلاغ میں خادم اعلیٰ کی بلے بلے جاری تھی سراب کے ستونوں پر کھڑے خدمت کے نعروں نے نون غنوں کو مدہوش کر رکھا تھا اچانک کسی بد خواہ کی نظر لگی اور احد چیمہ کی گرفتاری نے خادم اعلیٰ کی خدمت کے گن گانے والوں کی آنکھوں کو چندھیا دیا ۔
بیورو کریسی کی اپنے ہم منصب کیلئے ہڑتال انتہائی چالاک نوعیت کی تیاری تھی جس کا پشتیبان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا منتظم تھا مگر سراپا ہڑتال مافیا کی کیفیت اور حالت نے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی طور منظم نہیں اس کمزوری نے خادم اعلیٰ کی حکمت عملی پر ناکامی کی مہر ثبت کردی ’’کرپشن بچائو قرارداد ‘‘اسمبلی میں جاپہنچی لیکن یہ ہتھکنڈے اتنے ہی پرانے ہیں جتنا ن لیگ کا عرصہ اقتدار!
پنجا ب میں خدمت کے نام پر ایک صحت مند سماجی انفراسٹرکچر پیدا کرنے کے بجائے اقتدار کی آنکھیں لوٹ مار اور کرپشن کے بڑے منصوبوں پر گاڑھ لی گئیں ،عوام کی خوشحالی بد حالی میں بدل گئی اور اپنی منظور نظر،یس باس کی گردان کرنے والی دست بستہ بیورو کریسی کی جیبیں موٹی کرنے کا یہ منصوبے باعث بنے ،نوکر شاہی کی ان گدھوں کی بیرونی سرمایہ کاری نے کھوکھلی ترقی کو جنم دیا عوامی خدمت کا جو ڈھول پیٹا گیا وہ سراسر کوتاہ اندیشی پر مبنی رہا بیوروکریسی کے خلاف نیب کے عوامی اقدام نے ایک طبقاتی دیو کو جگا ڈالا۔
اب ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر صفائیوں کا ناٹک شروع ہو چکا ہے ،سرمائے کے بل بوتے پر کرائے کے دانشوروں اور نظریہ دانوں کو عوامی سوچ پر پہرہ لگانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے بجائے اس کے کہ ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہوا جائے پنجاب کا حکمران ذرائع ابلاغ پر اپنی تصویری اور تشہیری مہم اور ترقی کے عارضی عروج سے اپنی قیمت بڑھانے پر لگا ہوا ہے طویل اقتدار کے بوسیدہ ڈھانچے کی شکست و ریخت یقینی ہو چکی اب محض خواہشات کے سہارے صورت حال کو چلانا ممکن نہیں عوام خوف سے نکل کر غصے کی کیفیت میں داخل ہو رہے ہیں حکومتی جماعت کے سیاسی دکاندار اور نعرے باز پنجاب اسمبلی سے کرپشن کے حق میں منظور ہونے والی قرار داد پر کسی قسم کا مباحثہ یا تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں صحت ،تعلیم اور روزگار کے دعوے کرنے والے خادم اعلیٰ کا بانجھ پن عملی طور پر سامنے آچکا زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکلوانے کی بڑھک بازیاں حالات کے تناظر سے محرومی اور بے یقینی کا اعلان ہیں سرکاری سیمیناروں میں اپنے حواریوں کے نعروں کی دھن پر پر جوش تقریروں کے ذریعے اعتماد کے دھوکے کی بحالی ،ان کے دلوں میں اُمید کی شمع جلانے کی کوشش نااُمیدی میں بدل چکی یہ کھوکھلا پن اب آئے روز عوام پر عیاں ہوتا جارہا ہے ،ساری بیان بازی اعتماد اور اُمید کے حقیقی تصور سے محروم ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کتاب کا محض سرورق دیکھ کر ہی اس کے مندرجات کا تجزیہ کر لیا جائے ۔
درباری سیاست میں یہ انکار ممکن نہیں کہ ن لیگ میں بعض حلقوں کی طرف سے مریم نواز کو پارٹی صدر دیکھنے کی عملی خواہش پر یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ ’’تاج اور خنجر کبھی بھی ایک جگہ نہیں سجائے جاسکتے 36سالہ اقتدار کی طویل عمر پانے والی بے دام غلام بیورو کریسی ،ریاستی پولیس کے سائے تلے پنپنے والی جمہوری حکومت کی دسترس اور دائرہ اختیار سکڑ رہا ہے عوام کو جبر کے ذریعے کنٹرول کرنے کا وقت گزر گیا ۔
کرپشن کی سیاسی معیشت دم توڑ رہی ہے جس کو بچانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ایک خاندانی جمہوریت جس میں طرز پیداوار کسی منصوبے سے مبرا اور آزاد ہے جو محض چند بیوروکریٹس اور حکمران خاندان کے ذاتی منافعوں کیلئے متحرک ہے ایسی جمہوریت کے اندر بحرانوں کے بیج بھاری تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو اپنے اظہار کے بغیر نہیں رہتے ۔
بیوروکریسی میں ’’احد چیمہ ‘‘ کی گرفتاری کی شکل میں اُٹھنے والا طوفان مذکورہ خاندانی جمہوریت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔یہ گراوٹ اور تنزلی کا نقطہ ء ِ آغاز ہے کہ حکمرانی کرپشن میں لتھڑے کسی بیوروکریٹ کو پاکباز ثابت کرنے میں لگی ہو اور عوام کے حق ِ خود ارادیت تک کو اسمبلی فلور پر پامال کردے یہ ایک ایسی بد حواسی اور حواس باختگی ہے جس میں حادثاتی اور اتفاقی عوامل نہیں قدرت کا کوڑا حرکت میں آچکا ایک خاندانی جمہوریت کیلئے یہ انتہائی غیر معمولی ،ناخوشگوار زوال و انہدام ہے جنہوں نے استفادے سے قسمت کو خوب سنوارا ان کا وقت آپہنچا ۔
ایک پریس کانفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف تنائو کی شدت ،غصے کے تیور بجا لیکن احتساب سے راہ فرار کیوں ؟
صوبائی اور وفاقی حکمرانی کے ایوانوں میں بھونچال کیسا ؟کیا یہ تلخی محض اس لئے نہیں کہ ’’احد چیمہ ‘‘ کی کرپشن کی داستانوں کا کُھرا پنجاب کے خادم اعلیٰ ہائوس تک جاتا ہے ؟خجالت اور بوکھلاہٹ میں کیا یہ مفادات کا تحفظ نہیں ؟کیا لہجے میں درشتی اور کرختگی عوامی خدمت کی حکمرانی کا مزاج ہوا کرتا ہے ؟محض ایک چہیتے کی گرفتاری پر فصاحت اور روانی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اگر ایسا نہیں تو ایک کرپٹ بیورو کریٹ کی گرفتاری پر شور و غلغلہ کیسا ؟کیا اس سوال کا جواب ہے حکمرانوں کے پاس کہ ایک ایسا خاندان جس کے اثاثے 1980ء میں صرف 7کروڑ تھے آج کہاں کھڑے ہیں ؟


ای پیپر