آنکھیں کھولئے!
03 مارچ 2018 (20:21) 2018-03-03

حکمرانوں کی ہمیشہ، جب سے ملک عزیز وجود میں آیا ہے یہ خواہش رہی ہے کہ نظام زر ہی پھلے پھولے کیونکہ انہیں اس میں اپنی بقا اور غذا دونوں بآسانی دستیاب ہیں لہٰذا وہ اس کی حفاظت جدید سوچ کے ذریعے… کر رہے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں شاید کہ انجام کار ان کی ساری حکمت عملیاں اور سوچیں ناکام ہو جائیں گی کیونکہ ایک ہی طرح کے ماحول اور فضا میں تادیر سانس نہیں لیا جا سکتا… اگرچہ حکمران طبقہ لوگوں کو اپنے نظام سے مطابقت وانسیت کے لیے طرح طرح کی… ترکیبیں نکالتا رہتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ دوسرا کوئی ایسا نظام معیشت نہیں جس میں ترقی کے مواقع موجود ہوں مگر جب عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا… اور وہ یہ کہہ کر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دھیرے دھیرے ہی سب ٹھیک ہو گا… پھر وہ عالمی تناظر میں بھی حالات کو دیکھنے کی تلقین کرتا ہے…

ارتقائی عمل کا نتیجہ بھی قرار دیتا ہے… یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمارے عوام سمجھنے کی سعی نہیں کرتے کہ جب زندگی میں تبدیلیاں آنی ہی ہیں تو وہ اس نظام کو کیونکر سینے سے چمٹائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے علیحدہ کیوں نہیں ہو جاتے… مگر مجال ہے وہ اس پہلو پر غور کریں… بس جا رہے ہیں حکمران طبقے کے پیچھے سر جھکائے… جب تک وہ سر اٹھانا… نہیں سیکھتے اور اپنے مسائل اور مشکلات کا بغور جائزہ نہیں لیتے انہیں جینے کی راہ دھندلی ہی نظر آئے گی…؟ انہیں پھر یہ حق بھی حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اہل اختیار و اقتدار سے شکوہ شکایت کریں کیونکہ انہوں نے (حکمران طبقے) ان کو (عوام) حالات کے بھنور میں پھنسائے رکھنا ہے تاکہ وہ ان کے برابر سینہ تان کر کھڑے نہ ہو سکیں۔ لہٰذا حکمران کبھی بھی اس نظام زندگی سے نجات پانے کی نہیں سوچیں گے اسی طرح ہی آگے بڑھیں گے… یعنی جب ندی نالوں میں طغیانی آنے کا امکان ہوتو اعلان کر دیا جائے کہ لوگ محفوظ مقامات پر چلے جائیں، اگر نہیں جائیں گے تو وہ کسی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے…؟

چلیے مان لیا کہ آہستہ آہستہ ہی چیزیں بدلتی ہیں، مشکلات کم ہوتی ہیں مگر اب اور کتنا عرصہ درکار ہو گا… اکہتر برس تو بیت چلے۔ ان برسوں میں عوام کی حالت بہتر سے بہتر ہو جانی چاہیے تھی… ان سے متعلق ریاستی اداروں میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور فرض شناسی کا احساس جاگزیں ہو جانا چاہیے تھا… مگر افسوس ایسا نہیں ہو سکا… ہوتا بھی کیسے، انہیں حکمران طبقے نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہی استعمال کیا… اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انہیں، عوام کو محکوم بنانے ،ان میں خوف پھیلانے کے لیے واضح اور غیر واضح انداز میں کہا گیا… جنہوں نے انہیں شروع دن سے گھورتی آنکھوں سے ہی دیکھا… ان کے جائز کاموں میں رکاوٹ ڈالی گئی، رشوت لے کر یا سفارش کروا کر ان کی تھوڑی بہت سنی گئی… لہٰذا ٓج صورت حال یہ ہے کہ ایک بے چینی ہے، غیر یقینی ہے اور اہاہا کار مچی ہوئی ہے…!

جس کا جو جی چاہتا ہے وہ کر رہا ہے… مجبوریوں اور بے بسیوں سے فائدہ اٹھانا ہماری ایک عادت سی بنتی جا رہی ہے ہمدردی، خلوص، وفا اور محبت نجانے کس صحرا اور کس ویرانے کی طرف منہ کر گئے ہیں… مکاری، ہوشیاری اور دھوکا ریاستی کلچر کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں… اس صورت میں کیا ترقی ہو گی، کیا بنیادی حقوق کی بات ہو گی… حقوق کی بات تو اب کرنا گویا جرم بنتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو اسے الٹا کہا جاتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو… کسی مسئلے کو عوامی سطح پر حل کرنے کی خواہش یا کوشش کی جاتی ہے تو بھی اہل اختیار تڑپ اٹھتے ہیں کہ یہ تو ان کا کام ہے… مگر یہ نہیں بتاتے وہ اب تک ایسا کیوں نہیں کر سکے… کیوں آزاد ریاست کے باشندوں کو غلام بنا کر رکھا ہوا ہے… کیوں ان کی ہڈیوں کے گودے سے اپنے پیٹ بھرے جا رہے ہیں، کیوں ان کی عمر بھر کی کمائی پر ہاتھ صاف کیے جا رہے ہیں… کیوں قبضہ گیروں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے…؟

اُدھر اس قدر دروغ گوئی… کہ تو بہ… چپ ہی بھلی… کہا یہ جا رہا ہے کہ ہم نے تو کوئی بدعنوانی کا ارتکاب نہیں کیا۔ ایک دھیلا بھی اِدھر سے ادھر نہیں کیا… مگر حیرانی یہ ہے کہ ملیں بنتی گئیں، جائیدادیں اندر باہر ملکیت میں آتی گئیں، خزانے ذاتی لبا لب ہوتے گئے… اراضی آکاس بیل کی مانند پھیلتی ہی چلی گئی… اور کمیشن خود بخود ان کے محلوں میں داخل ہوتے گئے…؟

بہرحال اہل اقتدار واختیار روپ بدل بدل کر اور قانون و آئین میں تبدیلیاں لا کر جتنا مرضی خود کو محفوظ کرنے کی راہ پر چلیں انہیں عوام کے غم و غصہ کا ایک نہ ایک روز سامنا کرنا ہی پڑے گا… اب جو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے انہیں معاشی طور سے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس کا انہیں سخت رنج ہے… لہٰذا آنے والے عام انتخابات میں ایسی ’’کوششوں‘‘ کو وہ ضرور مدنظر رکھیں گے… بے شک کچھ لوگوں کو سوئی گیس، سیوریج، گلی اور سڑک کے حوالے سے بھی خوش کیا جا رہا ہے… مگر غالب اکثریت ان کے اقدامات سے نالاں ہے۔ تسلیم کہ موجودہ حکمرانوں کے ساتھ عوام کی ایک تعداد ہے جو ان کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہوتی ہے مگر وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ محدود لوگوں کے

ذریعے حکومت کرنا کوئی مناسب بات نہیں… پھر جب ہمارے بیرونی حالات خاصے گھمبیر ہو رہے ہیں اور بدخواہ یہاں کی ترقی و تعمیر سے سخت پریشان ہیں اور اپنے تئیں رکاوٹیں ڈال کر جاری عمل کو متاثر کرنے کے در پے ہیں تو حکمرانوں کو زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت کی ضرورت ہے… مگر وہ اس پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں… لہٰذا یہی تاثر ابھرتا ہے کہ انہیں کسی سے کوئی سروکار نہیں وہ ووٹ کے تقدس کی گردان اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا ہے اور پڑ رہا ہے وگرنہ یہی عوام تھے جن کے ووٹ کو ہر کسی نے اپنے پاؤں تلے روندا… واشنگٹن اور اس کے ماتحت اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تقدس کو… آنکھوں سے لگایا ہے انور موقع پرست کہتا ہے کہ اگر سیاستدانوں اور حکمرانوں نے عوام سے دھوکا فریب نہ کیا ہوتا ان کو اعتماد میں لے کر تمام فیصلے کیے ہوتے تو آج سیاسی منظر قطعی مختلف ہوتا مگر اب جو ہو گا اسے روکا نہیں جا سکتا… ہاں اسے یہ امید ہے کہ عوام کی بات اور ان کے حقوق کو پیش نظر رکھا جائے گا… بصورت دیگر کوئی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے جس سے اہل اقتدار و اختیار کے تمام منصوبے اور پروگرام ہوا ہو جائیں گے…؟


ای پیپر