پاکستان کا سافٹ امیج اور روہی کا دیس
03 مارچ 2018 (20:19)

روہی کے دیس میں گزرے تین دن۔ ہم تین دوست شعیب مرزا ، فضل اعوان اور میں، سیر و سیاحت کا شوق ہمیں روہی کے دیس میں لے آیا۔ جہاں پر جیپ ریس کا انعقاد کیا گیا۔ پچھلے تیرہ سال سے یہ میلہ سجایا جا رہاہے، مگر اس میں رتی برابر بھی مزید بہتری نہیں لائی گئی۔ روہی چولستان میں ’’جیپ ریلی 2018ء ‘‘جس میں شرکت کیلئے ’’ہوبارہ فائونڈیشن‘‘نے ہمیں میزبانی کا شرف بخشا۔ رحیم یار خان ایک دن قیام کے بعد لال سہانرا، بہاولپور میں میجر خالد لئیق نے ہماری اچھی آئو بھگت کی۔
صبح سویرے ناشتے کے بعد روزانہ تینوں دن تینوں صحافی دوستوں کو روہی چولستان کے صحرا میں دلوش سٹیڈیم پہنچایا جاتا جہاںپر جیپ ریلی کا سٹارٹنگ پوائنٹ تھا۔ وہاں پر صوبیدار رشید اور ان کی ٹیم نے ہمارا استقبال کیا۔ اگرچہ اس جیپ ریلی کے انعقاد کا سہرا پاکستان ٹورازم کارپوریشن کو جاتا ہے، مگر برائے نام۔ تمام تر اخراجات یا تو ہوبارہ فاؤنڈیشن برادشت کرتی ہے یا پھر دوسری سپانسر کمپنیز جس میں ڈیو بھی شامل تھی۔ جس میں انڈین اداکاررتیک روشن کی تصاویر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ آویزاں تھیں جس پر ہم نے اپنا اعتراض ریکارڈ کرایا کہ قومی جیپ ریلی جس کا مقصد پاکستان میں فروغِ کھیل اور دنیا میں سوفٹ میسج روشناس کرانا تھا۔ یا کسی کو خوش کرنے کیلئے انڈین اداکار کی تصویر لگائی گئی۔
’’ہوبارہ فاؤنڈیشن ‘‘کے میجر طاہر مجید اور ای ڈی او فنانس راحیل صدیقی جن کا شمارجیپ ریس کے بانیوں میں ہوتا ہے نے تیرہ سال پہلے جیپ ریلی کی بنیاد رکھی اور مقامی حکومت کے ساتھ مل کر اسے عملی شکل دی۔ بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور ٹریک کی مارکنگ کی گئی اور محدود وسائل میں رہ کر تیرہویں ریلی تک کا سفر طے کیا۔ اس جیپ ریلی میں ’’ہوبارہ فاؤنڈیشن ‘‘ نے تقریباً تین ملین روپے خرچ کئے۔ فوج نے بھی اس جیپ ریس کے انعقاد میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ جس نے سکیورٹی اور کمیونیکیشن سسٹم کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ضرورت تھی توبڑی
بڑی کمپیوٹرائزڈ سکرینوں کی جو جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتیں نہ کہ مینوئل طریقے سے گاڑیوں کی نقل وحرکت کو بورڈ پے بتایا جاتا۔ مگر ٹریک کے ایندنگ پوائنٹ تک جدید مشینری کے مارکنگ آلات نصب تھے۔ تا کہ ریلی کا صاف و شفاف انعقاد ممکن ہو سکے۔
روہی کے دیس میں بوجہ ریلی میلے جیسا سماں ہوتا ہے۔ قلعہ دراوڑ کے ارد گرد کے علاقوں اور ملک کے دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوںکی تعداد تقریباً پانچ سے چھ لاکھ ہوتی ہے۔ جو ریس ٹریک 400کلو میٹر تک کے پوائنٹ تک اتنی تعداد موجود تھی۔ جو کسی کرکٹ سٹیڈیم میں بھی اتنی تعداد ناممکن ہے۔ حالانکہ اس پر اربوں روپیہ اندھا دھند لگایا جاتا ہے جب کہ جیپ ریلی کے ذریعے جہاںپاکستان کا امن اور سوفٹ میسج دنیاکو جاتا ہے وہاں اس سے تین دنوں میں کروڑوں روپے کا رینویو گورنمنٹ آف پنجاب کما سکتی ہے۔ جنوبی پنجاب کومحرومی اور پسماندگی سے نکالنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ ریلی میں آنے والے 400کلومیٹر تک کے ٹریک پر شرکاء خیمے لگا کر خوب ہلاگلااور ڈھول تاشے سے سماں باندھتے ہیںاور یوں تین دن تک جنگل میں منگل کاسماں ہوتا ہے۔ قلعہ دراوڑ کے ارد گرد جہاں دکانیں ہوٹلز مقامی طور پر شرکاء کی ضروریات زندگی فراہم کرتے ہیں وہاں مقامی لوگوں کیلئے روزگار بھی میسر آتا ہے۔ جیپ ریلی کے تیسرے اور آخری دن 57گاڑیوں نے ریس میں حصہ لیاجن میں سے 25گاڑیوں نے 210کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ جیپ ریس میں تین خواتین نے بھی حصہ لیاجن میں عاصمہ صدیقی ، مومل خان اور تشنا پٹیل شامل تھیں۔ ان کے علاوہ ریس میں تھائی لینڈ، کینیڈااور انگلینڈ کے ایک ایک ڈرائیور نے حصہ لیا۔ جیپ ریس بالترتیب چارچار منٹس کے بعدچلائی جاتی تھیں ۔ ریس کے اختتام پر نادر مگسی پہلے اور صاحبزاد سلطان 45سیکنڈ کے فرق سے دوسرے نمبر پر آئے۔سینیٹرسعود مجید جن کا شمار جیب ریلی کے بانیوںمیں بھی ہوتا ہے، جن کو حادثہ لاحق ہوا اور زخمی حالت میں ریس سے باہر ہوئے۔ خواتین میںعاصمہ اور مومل خان نے بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ نادر مگسی جو کہ پہلے نمبر پر آئے جس کا انعام اڑھائی لاکھ دیا جاتا ہے، جس کو وصول کرنے کیلئے ان کے ڈرائیور کو بھیجا گیا۔ جیپ ریس میں ریس کے شیدائی کروڑوں روپے کی گاڑیاں ریس میں لگاتے ہیں جبکہ انعام کی رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔
سورج غروب ہونے سے پہلے 210کلومیٹرکا مقررہ فاصلہ 25گاڑیوں نے طے کیا اور باقی گاڑیاں صحرا کے اندھیرے میں گم ہو جاتی رہیں جنہیں بعد میں آرمی اور سکیورٹی اہلکار واپس لے کر آتے ہیں۔ بعض گاڑیوں کو خرابی کو دور کیا جاتا اور زخمی افراد کو ریسکیو کیا جاتا ہے پھر یہ قافلے واپسی کا سفر باندھتے ہیں۔
اگرچہ جیب ریلی کا آغاز تیرہ سال پہلے کیا گیامگر پاکستان ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے جیپ ریس کے فروغ کیلئے کوئی خاص اقدامات وضع نہیں کیے۔ تا ہم ’’ہوبارہ فائونڈیشن‘‘جو اپنی تشہیر کو بھی پس پردہ رکھتا ہے حالانکہ چولستان کے صحرامیں صحت ،تعلیم اور بنیادی ضروریات زندگی کیلئے کارہائے نمایاںانجام دئیے ہوئے ہے۔ مگر پھر بھی روہی میں کھیل اور سیاحت و ثقافت کے فروغ کیلئے ہمہ تن کوشاں نظر آتا ہے۔ حکومت کو چاہیے جہاں
کرکٹ کے فروغ کیلئے PSLجیسے ایونٹ کراتی ہے جیپ ریس کی بھی بین الاقومی سطح پر تشہیرو فروغ پر توجہ دے۔ وہاں سڑکوں کو کشادہ کیا جائے ، ہوٹلز کا قیام ایمرجنسی کیمپس، سٹارٹ اور اینڈینگ لائن کے ٹریک کو نمایاںومحفوظ کیا جائے اور کیمرے نصب کئے جائیں ۔ غیر ملکی جیپ ڈرائیورز کو دنیا بھر سے جیپ ریس کیلئے مدعو کیا جائے۔ اوّل، دوئم و سوئم آنے والے ڈرائیورز کو کیش انعام کے ساتھ ٹرافی اور میڈلز کا بھی اجراء کیاجائے۔ غیرملکی سیاحوںکی سکیورٹی اور مناسب سہولیات عمل میں لائی جائیں تا کہ دم توڑتی وینٹیلیٹر پر لگی ٹورازم معیشت کو فروغ حاصل ہو تا ہم اس سلسلہ میں ’’ہوبارہ فائونڈیشن‘‘ کے اقدامات کسی ٹانک یا آکسیجن سے کم نہیں۔
جیپ ریس کے انعقاد سے اربوں روپے کمایا جا سکتا ہے جس کو بین الاقوامی انداز میں منظم کرنے کی بڑی گنجائش موجودہے اور پاکستان ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی ری شیڈولنگ اور ری سٹرکچرنگ کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جہاں دوسرے کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں وہاں جیپ ریلی کے منظم انعقاد پر ذاتی دلچسپی لینی ہوگی تا کہ سیاحت و ثقافت اور کھیل کو تقویت ملے۔
جنوبی پنجاب کی بدترین بدحالی ، بحرانی حالت، محرومی اور پسماندگی کو ختم کرنا ہوگا تا کہ شمالی پنجاب کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ روہی چولستان جیب ریلی کا دائر کار کو وسیع کر کے تھر ماروی کے دیس سندھ میں بھی ایسے ایونٹ کا انقعاد کرایا جائے بلکہ پاکستان کے ہر حصہ میںایسے ایونٹس سے کھیلوں کے فروغ میں کامیابی اور ملکی معیشت میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔ جیساکہ فیجی ، مڈگاسکراور سوئٹزرلینڈجن کی معیشت کی ترقی کا انحصار سیروسیاحت اور ثقافت پر محیط ہے۔جنوبی پنجاب کا یہ ایونٹ وہاںکے دلدر و محرومیوں اور پسماندگی کو دورکرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے اور پاکستان کا ’’سوفٹ میسج ‘‘دنیا میں روشناس ہو اور پاکستان امن ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکے جوکہ ’’ روہی کے دیس میں ‘‘ہونے والی جیپ ریلی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔


ای پیپر