ایک اصول پرست سیاستدان کی یاد میں
03 مارچ 2018 (20:18) 2018-03-03

راشا راشا اصغر راشا کے نعرہ مستانہ سے شہرت پانے والے ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان بھی راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے۔ملک کے طول وعرض میں یہ نعرہ لگتا تو نوجوان اس کے ردھم پر گھنٹوں سر دھنتے اور پشتون نژاد اس کشمیری سپوت مگر اول و آخر پاکستانی سیاستدان کے قربان ہو ہوجاتے۔ ۔ وہ اس ملک کی سب سے بڑی عوامی تحریک ’’تحریکِ نظامِ مصطفی‘‘ کے قائدین میں شامل اور پاکستان قومی اتحاد کے 9ستاروں میں سب سے نمایاں اور درخشندہ ستارہ تھے۔
اصغر خان پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کا ایک لازمی کردار ہیں۔ وہ پاک فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ، دنیا کے کم عمر ترین پائلٹ، ملک کے پہلے ایئر مارشل، پاکستان جسٹس پارٹی کے سربراہ اور تحریک استقلال جیسی بڑی سیاسی جماعت کے چیئرمین رہے۔ وہ ایک جرأت مند، بااصول اور صاف ستھرے انسان، ضوابط کے پابند سپاہی ، آمریتوں سے ٹکرا جانے والے اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے والے سیاست دان تھے۔ ان کی ذاتی اور شخصی خوبیوں کا شمار ممکن نہیں۔ ان کی سیاسی کامیابیوں کی بھی ایک طویل قطار ہے، لیکن فضائیہ جیسے نظم و ضبط کے پابند ادارے اور سیاست کے بے رحم خارزار دونوں میں وہ زیادہ تر متنازع رہے۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت تھی۔ محنت ان کی گھٹی میں شامل تھی اور حوصلہ پیدائش سے موت تک اُن کے توانا
کندھے کے ساتھ جڑا رہا۔ وہ رائل انڈین ایئر فورس کے پہلے پائلٹ تھے جس نے سانگھڑ کے علاقے گوٹھ جام نواز علی میںحر پناہ گزینوں کے نہتے قافلے پر بمباری کرنے سے انکار کر کے اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا سامنا کیا۔وہ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی رسالپور ، ایئر سٹاف کالج اور کالج آف ایرو ناٹیکل انجینئرز کے بانی کمانڈنٹ تھے۔۔ صرف 36 سال کی عمر میں وائس ایئر مارشل اورایک سال بعد ایئر مارشل ہوگئے۔
ملک کے عسکری اور سیاسی حلقوں میںوہ پہلی بار اپریل 1965ء میں متنازع ہوئے جب انہوں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فون کیا اور دونوں ممالک کی ایئرفورسز کو رن آف کچھ کے تنازع سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ اپنی فوجی سروس کے دوران اصغر خان کو ہلالِ قائداعظم اور ہلالِ پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا، مگر اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران انہوں نے یہ دونوں اعزازات واپس کردیے۔
اصغر خان 1965ء کی جنگ کو پاکستان کی عظیم الشان فتح نہیں مانتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ جنگ نہیں جیتی۔ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور عزیز احمد کے ٹولے نے ہمیں اس تالاب میں دھکا دیا۔ انہوں نے 2011ء میں یہ تک کہہ دیا کہ 1971ء کی جنگ کے سوا تمام پاک بھارت جنگوںمیں پہل پاکستان کی طرف سے ہوئی۔۔ 1968ء میں جب ایوبی آمریت کے خلاف تحریک اپنے عروج پر تھی ، مشرقی پاکستان کے جسٹس مرشد، اور مغربی پاکستان کے ایئر مارشل اصغر خان نے اس تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا، جس سے تحریک میں نئی جان پڑگئی۔ اصغر خان کو مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی پیشکش بھی ہوئی، مگر انہوں نے پاکستان جسٹس پارٹی‘ قائم کرلی۔ مارچ 1969ء میں ملک میں مارشل لاء لگا اور عام انتخابات کا اعلان ہوا تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر رہے تھے۔ ایسے میں نواب زادہ نصراللہ خان کی 8نکاتی عوامی لیگ، مولوی فرید احمدکی نظام اسلام پارٹی، نورالامین کا قومی جمہوری محاذ اور اصغر خان کی جسٹس پارٹی کے انضمام سے پاکستان جمہوری پارٹی (پی ڈی پی) وجود میں آگئی۔۔ اصغر خان نے چند ماہ اس پارٹی میں گزارے اور پھر اچانک سیاست ہی سے کنارہ کش ہوگئے۔ لیکن دسمبر 1970ء کے انتخابات میں وہ راولپنڈی کے شہری حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتر آئے۔ تاہم پیپلزپارٹی کے خورشید حسن میر سے ہار گئے۔ جلد ہی انہوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت ’تحریک استقلال‘ قائم کرلی۔
فوجی آپریشن کے بعد ملک دولخت ہوا تو اصغر خان واحد سیاست دان تھے جنہوں نے برملاکہا کہ پاکستان توڑنے کے ذمے دار ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ شاید اسی طرح کے بیانات سے مشتعل ہوکر بھٹو صاحب نے انہیں ’’آلو خان‘‘ کے نام سے پکارنا شروع کیا۔ پورے بھٹو دور میں اصغر خان اسمبلی میں نہ ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کی توانا آواز رہے۔ اصغر خان کے بقول نوازشریف بھی تحریک استقلال کی ٹکٹ لینے آئے تھے۔ 1977ء کے انتخابات میں پی این اے کے ٹکٹ پر وہ کراچی سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ انتخابی مہم کے لیے وہ کراچی پہنچے تو ان کا استقبالی جلوس کراچی ائیرپورٹ سے برنس روڈ 9 گھنٹے میںپہنچ سکا ۔ ان کی یہ مقبولیت حکومتِ وقت کے ساتھ ساتھ کئی اپوزیشن
رہنمائوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث تھی۔ وہ کراچی سے کامیاب ہوگئے لیکن انہوں نے پی این اے کے دیگر 37 منتخب ارکان کے ساتھ قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے سے انکار کردیا۔ ان انتخابات میں کھلی اور منظم دھاندلی کے خلاف پی این اے نے احتجاجی تحریک شروع کی تو اس تحریک کے سب سے نمایاں اور مقبول لیڈر اصغر خان ہی تھے۔خیال تھا کہ اگلے وزیراعظم وہی ہوں گے۔ تحریک کے دوران جب ملک کے چار شہروں میں جزوی مارشل لا لگایاگیا اور فوج کے تین بریگیڈیئرز نے عوام پر گولی چلانے کے بجائے استعفے دے دیے۔تو کہا جاتا ہے کہ ان تینوں افسران کو استعفوں کے لیے اصغر خان نے ہی تیار کیا تھا۔
1983ء میں ضیاء حکومت کے خلاف ایم آرڈی بنی تو اصغر خان کی پارٹی اس اتحاد میں شامل ہوگئی۔ 1988ء کے انتخابات میںبھی اصغر خان اپنی پارٹی کے لیے کوئی نشست نہ جیت سکے، 1990ء میں جب سیاسی فضا بے نظیر کے خلاف ہوچکی تھی، بے نظیر نے انہیں دو نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی پیشکش کی ۔ لاہورکی نشست پر نواز شریف کے مقابلے میں اصغر خان خوداور ایبٹ آبادسے ان کے بیٹے عمر اصغر خان کھڑے ہوئے اور توقع کے مطابق ناکام رہے۔ اس دوران اُن کی پارٹی بھی بکھرتی چلی گئی۔ اس عرصے میں ان کے بیٹے عمر اصغر خان کو پنجاب یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے مشاہد حسین سید کی طرح اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کردیے اور این جی او سیکٹر میں جائے پناہ تلاش کرلی۔ چنانچہ پرویز مشرف نے اپنی کابینہ میں انہیں بلدیات و دیہی ترقی کا وفاقی وزیر بنادیا۔ بطور وزیر ہی وہ کراچی میں اپنے سسرالی گھر میں مُردہ پائے گئے۔ اصغر خان کو جوان اور ذہین بیٹے کی موت نے اندر سے توڑ دیا لیکن وہ حوصلے سے کھڑے رہے۔ اس دوران وہ مہران بینک سکینڈل لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ اس کیس کے فیصلے نے بہت سے سیاسی چہروں سے نقاب الٹ دیے۔ چند سال قبل وہ حالات سے اس قدر مایوس ہوئے کہ انہوں نے اپنی پوری جماعت تحریک استقلا ل کو، تحریک انصاف میں ضم کردیا۔۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف اصغر خان کے نام اور صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھاسکی ۔ اُن کی موت پر بھی پارٹی نے اس گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا جس کے وہ ہر طرح سے مستحق تھے۔ البتہ ان کے بنیادی ادارے پاک فضائیہ نے ان کی میت کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن کر کے اپنا فرض ضرور ادا کر دیا۔


ای پیپر