عمدہ طرز حکمرانی: ڈھونڈ اسے…
03 مارچ 2018 (20:17) 2018-03-03

گڈ گورننس کی اصطلاح مشرف دور میں آئی تھی جبکہ تاریخی حقیقت تو یہ ہے کہ بہترین حکمرانی ہی کسی قوم کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہوا کرتی ہے ۔تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ایک اچھا حکمران چند سالوں کے لئے آیا لیکن اس کی حکمرانی کے نقوش تاریخ میں ایسے ثبت ہوئے کہ ان کے بغیر تاریخ مکمل ہی نہیں ہوتی ۔ خلفائے راشدین ؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کی بات تو چھوڑئیے بادشاہتوں میں بھی ایسے ایسے نام گزرے ہیں جن کی حکمرانی کی داستانیں آج بھی سنائی اور دہرائی جاتی ہیں ، اسلامی تاریخ میں نورالدین زنگی ، صلاح الدین ایوبی ، قطب الدین ایبک ، اورنگ زیب عالمگیر اور شیر شاہ سوری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ایسے ہی نااہل حکمرانوں کی داستانوں سے بھی تاریخ بھری پڑی ہے جنہوں نے سالہاسال حکوتیں کیں لیکن سوائے بدقماشی اور بدنامی کے ان کے حصے میں کچھ نہیںآیا۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ اچھے حکمران کے باعث معاشرہ صالح ہوجاتا ہے اور برے حکمرانوں کے سبب معاشرہ بھی ویسے ہی ہوجاتا ہے ۔
سچ پوچھیے تو تاریخ پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ قائد اعظم ؒ اور کسی حد تک لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کو اچھا حکمران نصیب ہی نہیں ہوا۔ ہمارا یقین نہیں ایمان ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا تو نہ صرف پاکستان دو لخت ہوتا بلکہ آج ترقی یافتہ قوموں میں سر فہرست ہوتا کہ پوری دنیا میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاکستان ہی کو ان نعمتوں سے نوازاہے جو کسی کے پاس نہیں۔ سب سے بڑھ کر پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے گوناگوں ایسی صلاحتیں پیدا کررکھی ہیں جن کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارا جاہل سے جاہل اور کمزور سے کمزور شخص بھی مذہب اور پاکستان پر کٹ مرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے ۔ ہم پر الزام ہے کہ تاحال ہم کوئی سوئی بھی ایجاد نہیں کر سکے لیکن جب وقت پڑا تو کسی مددکے بغیر ایٹم بم اور جدید ترین مزائل بھی ایجاد کر لئے ۔ اخباروں میں بیرونی ممالک کام کرنے والے اکثر پاکستانی ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین کے کارناموں کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں ، ہمارا کاشتکار ہر قسم کی موسمی سختیوں کے باوجود ملک کے لئے غلہ پیدا کرتا ہے اور ہمارے وہ نوجوان جنہیں پاکستان میں سوائے سونے اور کھانے کے اور کوئی کام نہیں ہوتا جب یہی نوجوان بیرون ملک جاتے ہیں تو بلا تکان سولہ سولہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرکے پاکستان میں زر مبادلہ بھیجتے ہیں اور اس میںتو کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے ۔ اگر ایسی قوم کو مذکورہ بالا حکمرانوں سے کم تر درجے کا حکمران ہی نصیب ہوجاتا تو بھی ہماری تاریخ یکسر مختلف ہوتی ۔
ہمیں آج یہ باتیں ینگ ڈاکٹروں کے مسلسل دھرنے اور حکومت کی بے حسی کے باعث یاد آئیں ۔ بلا شبہ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک اچھے منتظم کی شہرت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ انہوں نے ایسے ایسے کام بھی کئے ہیںجو شاید تاریخ کا حصہ بن جائیں لیکن سچی بات ہے جب ہم ان کے اجتماعی انتظامی شعور کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں افسوس ہی ہوتا ہے ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ 25.30سال سے شریف خاندان پنجاب پر حکمران ہے گزشتہ ادوار کو تو چھوڑئیے موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف مسلسل ساڑھے آٹھ سال سے پنجاب کے ناظم اعلی بلکہ بقول ان کے خادم اعلیٰ ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بتانا پڑ رہی ہے کہ زمین پر ان کی حکمرانی کا کوئی ذرہ نظر نہیں آتا۔ صورت حال یہ بنتی جا رہی ہے کہ ہمارا ہر آج کل سے بد تر ہے۔ ان آٹھ سالوں میں افسروں کی اتھل پتھل تو ضرور ہوئی ہے ذرا ذرا سی کوتاہیوں پر بڑے بڑے افسروں کو معطلیوںکا سامنا رہا ہے لیکن ان تمام تر انتظامی امور سے افسروں میں خوف و ہراس تو ضرور پھیلا ہے جس کے باعث ان کی تمام تر کوششیں جناب وزیرا علیٰ کو خوش کرنے کے لئے وقف ہو کر رہ گئی ہیں تاہم مختلف محکمہ جات کے انتظامی معاملات جوں کے توں بلکہ بد سے بد ترین ہو چکے ہیں اور مسلسل ہو بھی رہے ہیں ۔ ینگ ڈاکٹروں کا مسئلہ ہی لے لیجئے، ایک عرصہ سے یہ ڈاکٹر وقفوں وقفوں سے ہڑتالیں کرتے اور دھرنے دیتے آ رہے ہیں۔ جب یہ ڈاکٹرز حضرات سڑکوں پر آتے ہیں تو لوگوں کی ہمدردیاں بھی کھو دیتے ہیں کہ ان کے پیشے کا تعلق انسانی زندگیوں سے ہے مگر کسی نے یہ حقیقت معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر یہ لوگ سڑکوں پر کیوں آتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں ذہین ترین طالب علموں کو ہی میڈیکل کالجز میں داخلہ ملتا ہے اور یہ حقیقت بھی سبھی جانتے ہیں کہ ڈاکٹری مشکل ترین مضامین میں سے ایک ہے، اس
کے لئے طالب علم کو دماغ ہی نہیں جسم بھی فنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر ہے کہ قوم کے یہ ذہین ترین لوگ سرکاری ہسپتالوں میں بطور میڈیکل آفیسرداخل ہوتے ہیں اور بد قسمتی سے بطور میڈیکل افسرہی ریٹائر ہوتے ہیں۔ چند خوش نصیب ڈاکٹر ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ سینئر میڈیکل آفیسر کا لاحقہ لگتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوسٹ گریجوایشن ’ سپیشلائزیشن ‘ کرنے کے باجود بھی یہ میڈیکل افسر کے میڈیکل افسر ہی رہتے ہیں۔ ان کا سروس سٹرکچر ضرور تبدیل ہونا چاہئے لیکن یہ کیسے ہو کہ حکومت تو تمام اخراجات سمیٹ کر سڑکوں اور گلیوں نالیوں کی تعمیر کرنے میں ہی وقف ہو کر رہ گئی ہے ۔ہمیں کہنے دیجئے کہ حضور ! سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ضرور کریں لیکن بقول حضرت علامہ اقبال ؒ
جہان نو کی ہے افکار تازہ سے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
ترقی اصل میں انسانی ترقی کا نام ہے اگر انسان ہی مارے مارے پھر رہے ہیں تو ان کے لئے یہ پختہ سڑکیں بھی ان کے راستے ’ سوکھے ‘ آسان نہیں کر سکتیں۔


ای پیپر