اونٹنی کا دودھ اب لاہور کے بعد فیصل آباد میں بھی
03 مارچ 2018 (20:17) 2018-03-03

انسولین کھانے کی بجائے ہمیشہ لگائی جاتی ہے، اس لئے کہ نگلنے کے بعد معدے کے ماحول کا یہ مقابلہ نہیں کر پاتی اور بے کار ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ oral insulin بنانے کی مسلسل کوششوں کے باوجود ابھی تک ایسی کوئی پراڈکٹ مارکیٹ کا حصہ بن نہیں سکی۔ چند سال قبل علم میں یہ بات آئی کہ اونٹنی کے دودھ میں انسولین نما کوئی چیز پائی جاتی ہے جو شوگر کوکنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتی ہے ۔ اس انسولین کی خصوصیت یہ ہے کہ معدے کا ماحول اس پر اثر انداز نہیں ہوتا اور یہ ہیٹ کو بھی برداشت کرتی ہے یعنی اونٹنی کے دودھ میں قدرتی طور پر oral insulin موجود ہے۔ بتانے پر خوشی تو ہوتی مگر اس سوال کے بعد کہ یہ دودھ ملے گا کہاں سے، یہ خوشی پھیکی پڑ جاتی کیونکہ بڑے شہروں میں اس کی فروخت عام نہیں۔ لیکن اب یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ حکومتِ پنجاب کے محکمہ لائیوسٹاک نے لاہور میںچولستان کی اونٹنیوں کے خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنا دیا ہے۔

ترکی زبان کا لفظ چول ، معنی ریگستان، اسی سے نکلا ہے چولستان۔سندھ اور بھارت تک پھیلا یہ علاقہ جسے مقامی زبان میں روہی کہا جاتا ہے بہاولپور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر شروع ہوجاتا ہے ۔ روہی کی ثقافت اور یہاںکے رسم و رواج جہاں دلچسپی کے حامل ہیں وہاں اس علاقے کا رہن سہن اور یہاں کے لوگوں کا جانوروں سے لگائو بھی دیدنی ہے۔ نیم خانہ بدوشانہ اس زندگی کا بڑا انحصار لائیوسٹاک اور خصوصاََ اونٹ پر ہے۔ چولستان میں اونٹ پالا نہیں جاتا بلکہ یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے ۔اگر یہ کہا جائے کہ اونٹ چولستان کے لوگوں کو پالتا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ اونٹ اور اس کا دودھ چولستان کے لوگوں کے لئے ایک ایسی نعمت ہے جس کا نعم البدل نہیں۔یہ اونٹ ایک کوہان والا ہے جو ہمارے ہاںچولستان کے ساتھ ساتھ بلوچستان اورسندھ میں بھی پایا جاتا ہے اور عربی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسر ی جانب وسطی ایشیاکے سرد پہاڑی علاقوں کا دو کوہان والا اونٹ ہے ۔ چولستان کی مڑیچہ اور بریلہ نسل کی اونٹنیاں دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں اور انہی نسلوں کی اونٹنیوں کا خالص دودھ لاہور کے بڑے سٹوروں پر دستیاب ہے۔ چونکہ روہی کے یہ جانور قدرتی پودوں اور جڑی بوٹیوں پر پلتے ہیں ،اس لئے یہ دودھ آرگینک ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ لاہور کے بعد اب یہ دودھ فیصل آباد میں بھی ملے گا۔

کم کولیسٹرول کے ساتھ ساتھ وٹامن اور نمکیات سے بھر پور روہی کی یہ سوغات منفرد ہے۔ آئرن اوروٹامن سی اس میں کئی گنا زیاٍدہ پایا جاتا ہے۔ زود ہضم ہونے کی وجہ سے بچوں کے لئے بہترین ہے۔ قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ برسوں سے اس کا استعمال یرقان، الرجی، جوڑوں اور جلد کے مسائل اور دیگر بیماریوں کے علاج میں ہو رہا ہے۔ بچوں کی بیماری Autism اور بہت سی اعصابی بیماریوں کے علاج میں بھی اس کا استعمال مختلف ممالک میں ہوتا ہے۔ انسولین نما چیز کی موجودگی کے باعث یہ شوگر کے مریضوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ جلد کے بہت سے امراض میں بھی اس کی شہرت عام ہے۔ جلد کو نکھارنے اور نرم و ملائم کرنے کے ساتھ ساتھ جھریا ں کم کرنے کا باعث بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے کاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اونٹنی کے دودھ میں فیٹ قدرتی طور پر Homogenized ہوتی ہے جس کی وجہ سے ابالنے پر اس کے اوپر بالائی نہیں آتی۔ وٹامن سی کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے اسے ہلکی آنچ پر گرم کیا جاتا ہے تاکہ پھٹکریاں نہ بنیں۔

محکمہ لائیوسٹاک پنجاب اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کا یہ شاندار منصوبہ ہے جس کی بدولت جہاں دودھ میں ورائٹی آنے کی وجہ سے عوام کو فائدہ ہوا وہاں چولستان کے ان غریب افراد کا بھی بھلا ہوا ہے جن سے یہ دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں سرمایہ کاروں کے لئے کاروبار کی ایک نئی راہ بھی کھلی ہے۔

چوائی کے بعد ایک گھنٹے کے اندر دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر چولستان سے مخصوص ٹینکرز کے ذریعے پتوکی لایا جاتا ہے جہاں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے ماہرین کی نگرانی میں کوالٹی چیک کرنے کے بعد اسے پاسچرائز کرکے بوتلوں میں بھردیا جاتا ہے۔چولستان کے جن فارمرز سے دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے انہیں حکومت نہ صرف دودھ کی قیمت اداکررہی ہے بلکہ محکمہ کی جانب سے انہیں منافع میں بھی حصہ دیا جائے گا۔ دودھ کو ٹریسبل بنانے کے لئے ہر بوتل پر رابطہ نمبر بھی درج ہے جہاں سے دودھ لیا گیا۔ اونٹنی کا یہ خالص ،آرگینک اور ٹریسبل دودھ لاہور اور فیصل آباد کے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر دستیاب ہے۔ امید ہے کہ محکمہ اور کاروباری طبقہ اسے باقی شہروں میں بھی پھیلائے گا۔


ای پیپر