’اسد طور کا اصل جھگڑا تو عمران خان اینکر کے ساتھ تھا‘
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
03 جون 2021 (16:20) 2021-06-03

ہمایوں سلیم

اسد طور کا اصل جھگڑا تو عمران خان اینکر کے ساتھ تھا ۔اور عمران خان کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے کہ عمران خان اسد طور کی پٹائی کا زمہ دار ہے۔اور یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا ۔گو کہ یہ بات گل بخاری نے کی ہے جو معتبر سورس نہیں لیکن کچھ اور ذرائع بھی اسی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔

اسد علی طور سرگودھا کا رہنے والا ہے شادی شدہ ہے گھر والے سرگودھا خود اسلام آباد کے پوش علاقے میں فلیٹ میں رہتا ہے جسکا کرایہ آج ٹی وی کی تنخواہ سے زیادہ ہے۔

اسد طور نے بطور این ایل ای NLEاپنے کیرئر کا آغاز کیا ۔بعد ازاں کیپیٹل ٹی وی میں بطور پروڈیوسربن گیا۔پھر کاشف عباسی کی ٹیم میں اے آر وائی کا بہت دیر حصہ رہا،عنبر شمسی کی ٹیم کا حصہ رہا۔مطیع اللہ جان،عمر چیمہ اعزاز سید قیوم صدیقی اب سب سے بڑے سپورٹر ہیں اور اب انھی سے دوستی ہے ۔پہلے یہ لوگ اسکے مخالف تھے کیونکہ سب ایک ہی سودا بیچتے تھے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کی حمایت اس کی ٹوئٹر کو مریم نواز کی ری ٹوئیٹس کی وجہ سے پذیرائی ملی اور سب میں دوستی ہو گئی دوسری طرف یہی ٹولہ حامد میر کے قریب بھی ہے۔ شنید یہی ہے کہ پھر اس کو نون لیگ کی طرف سے ہی قاضی فائز عیسیٰ کیس کی رپورٹنگ کی اسا ئنمنٹ ملی اور یہ وی لاگر بن گیا پہلے بلاگ کرتا تھا۔ اس واقعہ کے بعدیہ ہیرو بنایا گیا نون کی طرف سے تو سب اس کے پیچھے چل پڑے۔بنیادی طور پر یہ صحافی نہیں ہیں اس لئے ان کے وی لاگ کی زبان بھی بازاری سی ہے ۔

 موصوف سما ٹی وی میں ثنا بچہ کے بھی پروڈیوسر رہے ۔ اور وہ ثنا بچہ سے بہت متاثر تھے یہی وجہ ہے شاید کہ انھوں نے جب یو ٹیوب چینل شروع کیا تو انٹی اسٹیبلشمنٹ لائن رکھی ۔گزشتہ دنوں قاضی فائز عیسی کی بیوی کی طرف سے صدر مملکت کو لکھا جانے والا خط بھی موصوف نے پبلک ٹی وی میں عدیل ورائچ کے ذریعے بریک کروایا ۔ چونکہ وہ بنیادی طور پر آج کل یو ٹیوبر ہیں اور یو ٹیوبر حضرات وہی لائن اپناتے ہیں جہان سے انھیں ویوز ملنے کا امکان ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ مسلم لیگ ن سے ایک پاپولر لائن بھی مل گئی ۔اسی شوق میں انھوں نے عمران خان اینکر ،حسن نثار اور آفتاب اقبال کے خلاف بھی پروگرام کیا ۔بظاہر اسد طور کا حامد میر سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کی آڑ میں حامد میر نے اپنا سودا بیچنے کی کوشش کی ۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے دونوں کی دوستیاں بھی مشترکہ ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ وہ پاپولیریٹی کے لئے ایسا کر رہے ہوں ۔ جبکہ کچھ کا یہ بھی خیال ہے کہ حامد میر کو چونکہ جیو سے نکالا جا رہا تھا اس لئے انھوں نے غصہ نکالا ہے ،جبکہ جیو کے ذرائع اس بات کی نفی کر رہے ہیں کہ انتطامیہ اس طرح سوچ رہی تھی کہ حامد میر کو نکالا جائے۔ حامد میر ماضی میں بھی مظاہروں میں حصہ لیتے رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ ان کی فرسٹریشن کچھ اور ہی بتا رہی تھی۔

ایک اور بات جو سامنے آ رہی ہے کہ حامد میر سمیت جن لوگوں نے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا مسودہ دیکھا ہے ان کا خیال ہے کہ اگر یہ نافذ ہو گیا تو پاکستان میں اظہار رائے آزادی ختم ہو جائے گی ۔نیوز چینل جن کا شیئر اب صرف چودہ فیصد رہ گیا ہے یہ دو فیصد پر آ جائیں گے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نجی محفلوں میں اس بات کا برملہ فخریہ اظہار کر رہے ہیں کہ آئندہ ایک دو سال میں نوے فیصد صحافی بے روزگار ہو جائیں گے اس قانون کی وجہ سے جو وہ لانا چاہتے ہیں۔ حامد میر وغیرہ کا یہ بھی خیال ہے کہ اصل میں ان کی زبان بندی کی جارہی ہے۔دوسری طرف ایک رائے اور آ رہی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس گیم کے پیچھے میر شکیل اہرحمن بھی تو ہو سکتے ہیں شاید وہ کسی ڈیل پر آنا چاہتے ہیں پریشر ڈال کے۔


ای پیپر