مفاہمت… عمران خان ماڈل
03 جون 2021 (11:18) 2021-06-03

مزاحمت یا مفاہمت بحث ختم نہیں، زوروشور سے جاری ہے۔ چند اہل دانش و حکمت اور کچھ صاحبان بصیرت سمیت سیاستدانوں کی قابل ذکر تعداد مفاہمت کے راستے کو عملی اور فوری طور پر نتیجہ خیز ہونے کی بنا پر مزاحمت کے مقابلے میں قابل ترجیح قرار دے رہی ہے۔ یہ دوسری بات ہے مزاحمتی عمل کے قائلین اسے موقع پرستی سے گردانتے ہیں اور کہتے ہیں مفاہمت کی شاہراہ پر چلتے ہوئے قدم قدم پر اصولوں کی قربانی دینا پڑتی ہے… بسااوقات تو متاع دین و دنیابھی لٹ جاتی ہے لیکن مفاہمتی گروہ ان باتوں سے متاثر نہیں ہوتا… ان کا کہنا ہے سیاست کتابوں کی دنیا میں رہنے کا نام نہیں، عملی میدان کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں… یہ سمجھوتے کا راستہ ہے… اس پر چلے بغیر سیاست میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ ان حضرات کے نزدیک نظری باتوں اور سنہری اصولوں کی اہمیت اور بالادستی اپنی جگہ لیکن جب آپ ان کا شعور و ادراک حاصل کرکے اکھاڑے میں اترتے ہیں تو مقابلے کے پہلوان کو جن دائو پیچ کی مدد سے شکست دی جاتی ہے ان میں صرف لڑائی کے دوران اختیار کرنے والی مصلحت ہی کام آتی ہے… جواب میں دوسرا گروہ کہتا ہے اصولوں کو رہنما بنا کر اور ان کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے آپ وقتی مصالح سے یقینا کام لے سکتے ہیں جو کامیاب عملی زندگی کے لیے ضروری ہے لیکن اگر آپ مصلحت پسندی کو اس حد تک اپنے اوپر غالب کر لیں گے کہ اصول پامال ہوتے چلے جائیں تو من آپ کا نہ تن… خاص طور پر جب مغلوب کو طاقتور سے واسطہ آن پڑے اور اسے رام کرنے کی خاطر آپ سیڑھی سے ایسا پھسلنا شروع ہو جائیں گے کہ کہیں رک نہ پائیں گے… پاکستان میں اس وقت جو بحث جاری ہے اس میں ہماری مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ طاقتور گروہ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ سیاستدان خواہ منتخب ہوں ان کا شمار کمزور طبقے میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جب کمزور طاقتور سے سمھوتہ کرنے کی خاطر اپنے اصولوں کی قربانی دینے پر اتر جائے گا تو کہیں ٹھہر نہیں سکے گا۔اس کے بعد موقع پرستی باقی رہ جائے گی جس کی کارفرمائی کے آخری نتیجے کے طور پر گدلا پانی بھی کیچڑ بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ بحث اگرچہ ووٹوں کی طاقت کے لحاظ سے سب سے مقبول جماعت مسلم لیگ (ن) کے دو چوٹی کے رہنمائوںدرمیان جو سگے بھائی بھی ہیں جاری ہے۔ایک تین مرتبہ وزیراعظم رہا ہے دوسرے کو اتنی بار سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کا موقع ملا ہے۔ دونوں ہمیشہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اپنی اپنی آئینی مدت کے اختتام سے پہلے برطرف ہوتے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف آئینی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کا پرچم تھام کر کھڑے ہیں۔ چھوٹے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے نزدیک عملیت پسندی ہی سب کچھ ہے  تاہم ان کی جماعت کے لیڈر اور کارکن توقع باندھے بیٹھے ہیں کہ جلد دونوں کسی نقطہ اتصال پر پہنچ جائیں گے  یعنی نواز شریف کے آئینی اور جمہوری اصولوں اور شہباز کی حکمت عملی کے درمیان ایسی ہم آہنگی پیدا کر لی جائے گی کہ ان کی جماعت کے لیے کامیابی اور سرخ روئی کے ساتھ آگے بڑھنا ممکن ہو جائے گا۔ایسا کب ہو گا اسٹیبلشمنٹ یا مقتدرہ کے مقابلے میں…کس کس جمہوری اصول پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کون سے اصول کو وقتی طور  پر نظرانداز کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی… یہ سب ممکن بھی ہو گا یا نہیں اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں اختیار کی جانے والی پالیسی کے خطوط کو سامنے رکھ کر لگایا جا سکے گا  لیکن آیئے ایک نگاہ اس ماڈل پر ڈالیں جو اس وقت برسراقتدار جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف اور اس کے لیڈر موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عملی سمجھوتہ کر کے اپنایا ہے… اسی کی عملیات کا معروضی جائزہ لینے سے اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ جس عملیت پسندی یا حکمت عملی کا ہمارے یہاں بہت چاچا کیا جا سکتا ہے اس کا موجودہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پیش کردہ ماڈل کس حد تک برگ و بار لا رہا ہے اور کامیابی کی کن منازل کو چھو رہا ہے۔

2017 میں وزیراعظم نوازشریف کی آئینی مدت کی تکمیل سے پہلے برطرفی کی بنیادی وجہ ان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کی راہ اختیار نہ کرنا اور جو بھی ان کے نزدیک آئینی اور جمہوری اصول ہیں ان پر ڈٹ جانا تھا۔ اس کے بعد 2018 کے عام انتخابات ہوئے  نوازشریف کی مسلم لیگ کی شکست کو یقینی بنایا گیا اور علمیت پسند عمران خان وزارت عظمیٰ کی مسند پر فائز ہو گئے… پونے تین سال گزر گئے ہیں… مہنگائی اور بے روزگاری عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے… دونوں قابو میں نہیں آ رہیں… کہتے ہیں سب کچھ پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے… جواب دینے والے کہتے ہیں سرکاری اعدادوشمار سامنے رکھ لیجیے ہمارے عہد میں مہنگائی اور بے روزگاری دونوں کا گراف کہیں نیچے تھا اور ملک معاشی ترقی اور اقتصادی خودکفالت کی راہ پر چل نکلا تھا… آپ نے آ کر دونوں کا کچومر نکال دیا… ہم شرح نمو پونے چھ فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے… ایک سال مزید حکومت کرتے تو یہ سات کے عدد سے آگے نکل جاتی… آپ اب آ کر شرح نمو کے اچانک پونے چار فیصد کا دعویٰ کر رہے ہیں جسے کئی ایک ماہرین تسلیم نہیں کرتے… اس سے قطع نظر دیکھنے والی بات یہ ہے حکومت کون چلا رہا ہے… عمران خان کس کے فرنٹ مین ہیں… اپنی پارٹی کے یا مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ والوں کے… خارجہ پالیسی ہمارے خان بہادر کے ہاتھوں میں نہیں اور دفاع کے امور سے ان کا واسطہ نہیں… امریکی صدر اور اس کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہمارے آرمی چیف کے ساتھ! کشمیر ہاتھ سے نکل چکا ہے… مودی آپ کے ٹیلیفون کا جواب دینا پسند نہیں کرتا… اسے معلوم ہے پاکستان میں کون کتنے اختیارات کا مالک ہے… چین کا صدر یا وزیراعظم یہاں تک کہ وزیر خارجہ سی پیک کی انتہا درجے کی سست روی کی وجہ سے آپ سے اپنی ناراضی چھپاتے نہیں… آپ بڑی اللہ آمین کے بعد پچھلے دورہ سعودی عرب پر گئے تو آرمی چیف نے پہلے وہاں پہنچ کر فضا ہموار کی… یعنی کچھ بھی آپ کے ہاتھ میں نہیں… پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بلاشبہ آپ نے اپنی مرضی کے وزرائے اعلیٰ مقرر کر رکھے ہیں جن کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ مقتدرہ اور عوام دونوں ان سے بیزار ہیں… اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ ایک کے بعد دوسرے ضمنی انتخاب میں شکست سے دوچار ہو رہے ہیں… اب فکر آپ کو یہ دامن گیر ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کا انتخاب سر پر کھڑا ہے… اسے کیسے جیت کر دکھائیں گے… یہ چند جھلکیاں ہیں مفاہمت کے اس ماڈل کی جو عمران خان نے پیش کیا ہے اور مقتدر قوتیں اس پر خاصی مطمئن ہیں کہ حکومت کامیاب ہوتی نظر آئے یا نہیں ہماری بات سنی اور مانی جاتی ہے… ڈوریں ان کے ہاتھ میں ہیں… جب چاہیں مخلوط انتظامیہ کی بیساکھیوں پر کھڑی اس حکومت کو گرا کر مرضی کی نئی لا سکتے ہیں… شہباز شریف اور بلاول بھٹو اسی امید کے سہارے نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں کہ کب انہیں موقع ملتا ہے اور وہ اپنے اپنے مفاہمتی فارمولوں کے تحت اقتدار کے سنگھاسن پر رونق افروز ہوں گے… مقتدر درحقیقت سمجھوتہ سیاستدانوں کے ساتھ نہیں ملک کے متفق علیہ آئین اور مسلمہ جمہوری اقدارکے ساتھ کرتی ہیں… پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے اس نے جب جب سیاستدانوں کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کر کے انہیں شریک اقتدار کیا آئین کو دبا کر رکھا گیا اور جمہوری اصولوں کو پس پشت ڈالنے کی ہر ممکن سعی کی گئی… ناکامی کا ملبہ ہمیشہ سول حکومتوں پر ڈالا گیا… کیونکہ مقتدرہ آخری فیصلوں کی طاقت اپنے پاس رکھتی ہے… بدنامی اگرچہ ہر موڑ پر مفاہمتی سیاستدانوں کا مقدر ٹھہری… اس کی سب سے ’’درخشندہ‘‘ مثال 1988 کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو جیسی اس وقت کی مقبول ترین لیڈر کا باقاعدہ سمجھوتہ کر کے اور اقتدار کی بندربانٹ کے بعد وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنا ہے… 1991 میں یار لوگوں نے سکیورٹی رسک قرار دے کر اڑا کر رکھ دیا… اگر مفاہمت کا یہی ماڈل آگے چل کر نشان منزل بتائے گا تو شہباز، بلاول یا کوئی تیسرا متبادل  دو اڑھائی برس کے لیے وزیراعظم تو بن سکتے ہیں ملک و قوم کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔


ای پیپر