آپ کے جوتے، ہمارے سر ۔۔۔ مگر !!!
03 جون 2020 2020-06-03

پولیس نے شہر بھر میںغیر قانونی نیلی بتی ، سبز نمبر پلیٹوں اور کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جس میں نیلی بتی کے خلاف مہم سمجھ میںآتی ہے کہ جو بھی اسے غیر قانونی طور پر لگاتا ہے وہ خود کو اعلیٰ پولیس یا ایڈمنسٹریٹو آفیسر ظاہر کرنے کے لئے لگاتا ہے جس کا مقصد بدمعاشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا مگر تیز دھوپ سے بچنے کے لئے کالے شیشے رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی نہ کوئی منطق ہے اور نہ کوئی جواز۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن افسران کے احکامات پر پولیس اہلکار کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں وہ خود شیشے کالے سیاہ کئے پھر رہے ہوتے ہیں ۔

ایک پولیس افسر نے میرے استفسار پر کہا، کالے شیشے اسلحے سمیت دیگر غیر قانونی اشیاءکی نقل و حرکت میںمعاون ثابت ہوتے ہیں،موٹر وہیکلز رولز 1969 کے قاعدہ نمبر 160 کے تحت کوئی گاڑی کالے شیشے نہیں رکھ سکتی تو مجھے جناب کی کامن سینس پر ہنسی آ گئی۔ یہ کیسا قانون ہے جو بااثر لوگوں کے لئے نہیں ہے اور وہ ڈپٹی کمشنر سے خصوصی اجازت نامہ لے کرونڈوز پر بلیک پیپر لگا سکتے ہیں۔ اس قانون کا اطلاق آپ شہریوں کے حقوق و سہولیات کا تحفظ کرنے والے مہذب ملکوں سے امپورٹ ہونے والی گاڑیوں پر بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے لئے لازم ہے کہ آپ ان گاڑیوں کے تمام شیشے تبدیل کروائیں جو ممکن نہیں ہوتا، مختلف ملکوں میں شیشوں کو پچاس فیصد تک کالے رکھنے کی اجازت ہے۔میرے پاس سب سے اہم اوربڑی دلیل یہ ہے کہ آپ کی کار آپ کی’ پرائیویٹ اور پرسنل پلیس‘ہے اور ہر ماجھے گامے کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ آپ کی گاڑی کے اندر جھانک سکتا ہو، ہاں، اگر آپ کو کسی گاڑی پر یہ شک یا شبہ ہے کہ وہ اسلحے،منشیات، شرا یا کسی بھی دوسری غیر قانونی شے کی نقل و حمل میں استعمال ہو رہی ہے تو آپ اس کی کسی بھی قانونی ناکے یا چیکنگ پوائنٹ پر تلاشی لے سکتے ہیں۔

یہ موقف اور مہم کتنی حماقت آمیز ہے اس کا انداہ اس بات سے لگائیں کہ گاڑیوں کے شیشوں پر بلیک پیپر غیر قانونی ہے مگر گاڑیوں کے اندر سن بلاک یا کرٹن یعنی پردے غیر قانونی نہیں ہیں حالانکہ جو کام آپ کالے شیشوں کے ذریعے کر سکتے ہیں وہی کام سن بلاک شیٹس یا پردوں کے ذریعے ہو سکتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ بلیک پیپر آپ کو گرمی سے بچاو کی ایک مستقل سہولت فراہم کر دیتے ہیں ۔ آپ نے اگرافراد اور اشیا کی غیر قانونی نقل و حرکت ہی روکنی ہے تو پھر کار سمیت ایسی سواریاں ہی کیوں، آپ تمام ٹرکوں اور لوڈر گاڑیوں کو پابند کیوں نہیں کرتے کہ ان کے لوڈنگ ایریاز بھی پوری طرح شفاف ہونے چاہئیں یعنی ان گاڑیوں کی دیواریں بھی شیشے کی کروا دیں۔ اس غیرمنطقی مہم پرایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کار کے اندرسیٹوں کے اوپر ہی غیر قانونی اشیاءرکھی جاسکتی ہیں جنہیں پولیس کے جوان جھانک کے پکڑ سکتے ہیں، کیا یہ کام بونٹ اور ڈکی کو استعمال کرتے ہوئے نہیں ہوسکتا ۔اگر آپ اس مہم کا حکم دینے والے پولیس افسران کے مقابلے میں تھوڑی سی کامن سینس رکھتے ہیں تو آپ کہیں گے، ہاں، ایسا ہی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ کی گاڑی کسی ہوٹل یا شاپنگ مال میں جاتی ہے تو اس کا بونٹ اور ڈکی ( جسے باکس بھی کہتے ہیں) دونوں کو کھلوا کے چیک کیا جاتا ہے۔ آج تک دہشت گردی کی بہت ساری وارداتوں میں گاڑیوں کے انہی دو حصوں میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا اور گاڑی ٹکرا کے تباہی مچائی گئی تو پھر کاروں کے شیشے ہی کیوں آپ بونٹ اور ڈکی بھی شیشے کی کروا دیں ۔

میں نے سی سی پی او اور سی ٹی ااو آفس میں ذمے دار، مہربان دوست سے گزارش کی کہ مجھے کوئی افسر دیا جائے جو’ آن دی ریکارڈ‘ میرے سوالوں کے جواب دے سکے تو وہ مجھے موٹر وہیکلز ضابطے کی شق کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔میرا جواب یہ ہے کہ قانون صرف وہ ہوتا ہے جس کی کوئی ضرورت اور جواز ہو،بغیر ضرورت او رجواز کے قانون کو قانون تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اسے غنڈہ گردی اور بدمعاشی ہی کہا جاسکتا ہے چاہے وہ کتنی ہی قانونی اتھارٹی کی طرف سے کیوں نہ ہو۔ہمیں اپنے افسران کو ضابطوں کے منصفانہ جواز اور نفاذ بارے پڑھانے کی ضرورت ہے۔مجھے اس وقت اس ضابطے کے نفاذ کا ایک ہی عملی اورحقیقی جواز نظر آتا ہے کہ ہمارے شہر میں نئے چیف ٹریفک آفیسر آئے ہیں جن کا ٹریفک کنٹرول کرنے کے حوالے سے اس سے پہلے نہ کوئی پوسٹنگ ہے اورنہ ہی تجربہ مگر انہیں سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت اور ملک کے دوسرے بڑے شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے کی ذمے داری دے دی گئی ہے ، یوں لگ رہا ہے کہ انہوں نے لاہوریوں پر ہی یہ کام سیکھنا ہے۔ وہ روایتی تھانے دار لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سابق سی ٹی او کی طرح ان کی موجودگی کا نوٹس لیا جائے۔ یہ تھانے داروں کی روایت ہے کہ جب وہ کسی نئے علاقے میں تعینات ہوتے ہیں تو وہ اہلکاروں کو کہتے ہیں کہ بازار میں جاو اور شہریوں کو لمبا لٹا کے جوتے مارو اور جب کوئی اس کی وجہ پوچھے تو کہنا کہ تمہیں نہیںپتا کہ نیا تھانے دار آیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ٹریفک پولیس کے سربراہ نے لاہور میں ڈپٹی کمشنر کی ذمے داریاں بھی سنبھال لی ہیں، وہ شہر میں تجاوزات کے خلاف بھی مہم چلوا رہے ہیں ، چلیں اچھی بات مگر اس کے بعد جو صاحب بھی ڈپٹی کمشنر ہیں اور بلدیات کے لمبے چوڑے محکمے کی سربراہی کر رہے ہیں انہیںا پنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کرتے ہوئے گھر چلے جانا چاہئے ورنہ تجاوزات کے خلاف مہم بلدیات کے محکمے کی ذمے داری ہے جو شہر بھر سے بھتے اکٹھے کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔

اس مہم کے غیر منطقی اور غیر ضروری ہونے کے بارے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کیا کالے شیشے ٹریفک کے بہاو¿ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں تو اس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔میرے ایک دوست کی گاڑی کو روکا گیا، اس نے بہت شور مچایا کہ اس کی گاڑی امپورٹڈ ہے اور اسی طرح شیشے کالے آئے ہیں مگر فیملی کی موجودگی میں چالان کر دیا گیا۔اس نے سوال کیا کہ کیا اس وقت وزیراعلیٰ، وزرا، ارکان اسمبلی، بیوروکریٹوں اور باالخصوص حکم دینے والے افسران کی فیملی والی گاڑیوں پر بھی قانون کی اسی طرح پابندی کروائی جاتی ہے تو میرا جواب تھا کہ نہیں۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں خواص اور طاقتوروں کے لئے قانون کچھ اور ہے، یہ وہ طاقتور ہیں جو عوام کے ٹیکسوں کی کمائی سے تنخواہیں لیتے ہیں اور انہی کے حکم پر انہی عوام کو جوتے مارے جاتے ہیں جوٹیکس دیتے ہیں۔ تاثر ہے کہ لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد لاہور کی پولیس کو شہریوں کو جوتے مارنے اور ا ن سے رشوت وصول کرنے کے لئے کسی دوسری مہم کی ضرورت تھی لہذا یہ کام شروع کر دیا گیا ورنہ اس سے پہلے کمائی لاک ڈاون کے دوران دکانیں کھلی رکھنے والے تاجروں سے ہو رہی تھی۔ شہر بھر کے تاجر بتاتے ہیں کہ دکان کھولنے کے پانچ سو سے دو ہزار تک وصول کئے جا رہے تھے اور جب اعداد و شمار اکٹھے کئے جائیں گے تو علم ہوگا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اورانٹرنیٹ بیسڈ کاروباروں کے علاوہ کرونا کے دوران سب سے زیادہ منافعے میں جو محکمہ رہا وہ پولیس کا تھا۔

اگر لاہوراور لاہوریوں کے پاس کوئی حکومت میں کوئی حقیقی سیاسی نمائندگی ہے تو اس سے یہی درخواست کی جاسکتی ہے کہ وہ شہریوں کو معافی دلوا دیں۔ لاہوریوں کی زندگی پہلے ہی کرونا اور لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے بہت اجیرن ہے۔وہ اپنی زندگیوں سے بے زار ہوئے بیٹھے ہیں اور ایسے میں کچھ افسران کو اپنی افسری دکھانے کے شغل میلے سوجھ رہے ہیں۔جب کرونا کے جوتے ختم ہوجائیں تو پھر آپ نئے جوتے مار لیجئے گا۔ آپ اور آپ کے بھائی بند جوتے مارنے کے لئے یہیں موجود ہوں گے اور ہم شہری جوتے کھانے کے لئے مگر تھوڑا صبر کیجئے، تھوڑا انصاف کیجئے۔


ای پیپر