کیا تبدیلی سرکار آخری ہچکی لے رہی ہے؟
03 جون 2019 2019-06-03

ہمارے وزیر اعظم جب سے او آئی سی کے اجلاس سے واپس آئے ہیں ،پاکستان میں ان کی آمد کے ساتھ بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ان کی غیرموجودگی میں ان کے غیر سرکاری میڈیا ٹیم کے گوئبلروں کا کارنامہ بھی تبدیلی سرکار کی غیر موجودگی کو نہیں روک سکا۔ جب کپتان سعودی عرب روانہ ہوئے تو اس وقت چیئرمین نیب کا سکینڈل کسی کروٹ اس لیے بیٹھ رہا تھا کہ اپوزیشن کی گرم جوشی کے اورایشو سامنے آگئے تھے۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ایم این ایز کو پاک فوج کی ایک چوکی پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔جس پر اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر پیپلز پارٹی زیادہ پرجوش تھی۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ گرفتار ایم این اے کے پروڈکشن آڈر جاری کئے جائیں تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کی حقیقت کیا تھی۔ بلاول نے ایک تقریر کی خواجہ آصف بھی بولے۔ پالیمنٹ جاننا چاہتی تھی کہ سوشل میڈیا اور غیر ملکی ذرایع ابلاغ جو کچھ کہہ رہا ہے اس میں صداقت کتنی ہے۔ اس کے جواب میں وزیر مملکت نے جو تقریر کی اس میں غداری کے سوا کوئی دوسرا لفظ نہیں تھا۔اس میں یہ بھی مطالبہ تھا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے۔اس بے خبر وزیر کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ان کی رکنیت سپیکر نے مطالبے سے ختم نہیں کرنی تھی بلکہ اس کے لیے آپ کو الزامات فریم کرنا پڑنے ہیں۔ کپتان ان کی تعریف کرتے تھے۔ ابھی محسن داوڑ نے 26ویں ترمیم پیش کی تھی یہ بل ابھی سینٹ میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔ جس میں فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا گیا ہے۔ حکومت کو خطرہ ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ سینٹ سے یہ بل منظور نہیں ہو گا کیونکہ حالات کافی بدل گئے ہیں۔کپتان جب اقتدار میںنہیں تھے وہ عوام کے سامنے نواز شریف کے دوروں کو ہدف بنایا کرتے تھے اقتدار میں آنے کے بعد اخراجات کم کرنے کی جو مہم وزیر اعظم ہاوس سے شروع کی تھی ۔پھر یہ بھی اعلان ہوا کہ وہ غیر ملکی دوروں میں کمرشل فلائٹ سے سفر کریں کے۔او آئی سی اجلاس کے لیے وزیر اعلیٰ بزدار اور کے پی کے کے وزرائے اعلی کا کیا کام۔مریم اورنگ زیب کا تنقید کرنا جائز ہے وہ کپتان سے پوچھ رہی ہیں کفائت شعاری کے ڈرامے۔دوستوں کو مفت سیریں۔اور مفت عمرہ پر کتنا خرچ آیا۔ تبدیل سرکار اس وقت بڑی مشکل میں ہے۔ پارٹی کے اندر فواد چودھری نے پارٹی کے اندر منتخب اور غیر منتخب کی جو بحث چھیڑی ہے کہ اہم عہدوں پرجولوگ مسلط ہو رہے ہیں اور اوپر سے جو فیصلے آتے ہیں ان کو من و عن مانا جا تا ہے۔بات تو فواد چودھری نے درست کی ہے ۔یہ کام آج سے نہیں بہت پرانی ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد کے خلاف محمد علی بوگرہ نے اسمبلی سے گورنر جنرل کے اختیارات کی کمی کا بل راتوں رات پاس کریا اس کے بعد محمد علی بوگرہ امریکا کے دورہ کا بہانہ کرکے چلے گئے تو کمابڈرانچیف ایوب خان اور وزیر داخلہ سکندر مرزا وزیر اعظم کو پکڑ کر لائے اور ان کو غلام محمد کی عدالت میں پیش کیا ۔غلام محمد نے ایوب خان سے کہا اب یہ میرے کسی کام کا نہیں ۔گورنر جنرل نے ایک کاغذ اپنے سرہانے سے نکلا جس میں لکھا تھا کہ میں ایوب خان کو اقتدار سونپتا ہوں۔ایوب نے انکار کر دیا مگر محمد علی بوگرہ نے نئی کابینہ بنائی اس میںا یوب خان کو وزیر دفاع اور اسکندر مرزا کو وزیر داخلہ بنا دیا۔اس طرح بیوروکریسی اور ملٹری کی جو تگڑم قائم ہوئی۔بہار ہو کہ خزاں یہ آج تک ختم نہیں ہوئی۔ اپوزیشن تو پہلے ہی کپتان کو کسی کی آنکھ کا اشارہ اورکٹھ پتلی کہہ رہی ہے۔اور کپتان کے لیے سیلیکٹ وزیر اعظم کی اصطلاع عام ہوئی ہے۔قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میںخواجہ آصف نے انکشاف کیاتھا کہ پارٹی کپتان کو مائنس ون کرکے نیا وزیر اعظم لا رہی ہے۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا تھا کہ اس بات کا سپیکر صاحب کو بھی علم ہے۔سپیکر نے تو اس خبر کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا لیکن بات اسی طرف جارہی ہے۔ فواد چودھری کے خلاف شوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔انہیں ایک ویڈیو میں بار بار غدار کہا جا سکتا ہے۔ وہ آخری گیند تک کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر ان کی اننگ طوفانی منظر نامے میں گھر گئی ہے۔ سیاست کے اس طوفانی موسم میں کپتان کی بیٹنگ جاری نہیں رہ سکتی۔فواد چودھری ا کیلے نہیں ہیں ۔پارٹی میں وہ لوگ کھل کر پہلے بھی الیکٹیڈ اور نان الیکٹیڈ کا سوال ایک پارلیمانی پارٹی میں خود کپتان کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔ ایک سوال قومی حکومت کا آتاہے تواس کی پہلی شرط کپتان کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے۔اگر ایسا ہوتا نظر آیا تو کپتان اسمبلی کو برخاست کرتے ہیں ایسی صورت میں نئے انتخاب ہوتے ہیںتو نگران حکومت بنانے کا اختیار چیف الیکشن کمشنر کا پاس چلا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں پر مشتمل حکومت بن سکتی ہے۔یہ سبھی تب ہوگا جب فواد چودھری کے مطابق اوپر سے اشارہ آئے گا۔ کپتان کے سامنے امنڈھتے ہوئے طوفانوں میں جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کے خلاف چوروں کی طرح ریفرنس دائر کرنا تھا۔کپتان کے نو رتنوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی سے اس معاملے کو نیب چیئرمین کے سکینڈل کی طرح ہینڈل کر لیں گے۔مگر ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔اب پوری حکومت پسپا ہو رہی ہے۔عید کے بعد مولانا فضل الرحمان ریفرنس شروع ہونے کی تارخ سے پہلے میدان میں آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں گے تو وکلا تو پہلے ہی اس کا اعلان کر چکے ہیں۔ عمران خان کے مشکل وقت کے ساتھیوں کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ نئی وکلا تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں۔یہاں تو کپتان کا معاملہ یہ تھا کہ سامان سو پل کا ،مگرپل کی خبرنہیں ۔سینٹ نے تبدیلی سرکار کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر قرارداد منظور کر لی ہے۔اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں اگر قومی حکومت نہیں بنتی تو ملک معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا،کپتان کو نہ جانے یہ زعم کیوں ہے کہ وہ دنیا کے آخری ایمان دار شخص ہیں۔ سب نے مل جل کر ملک کو معاشی گرداب سے نکالنا ہے۔جس نظام سے کپتان ٹیکس بڑھانا چاہتاہے اس کے بارے میں کپتان کے حال میں ہی لائے چیئرمین ایف بی آر کہ چکے ہیں کہ ٹیکس کا موجودہ نظام ناقابل عمل اور ملکی معیشت کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔اور خامیوں کی وجہ سے کاروباری طبقہ ٹیکس نیٹ میں آنے کے لیے تیار نہیں۔ وزیر اعظم کا یہ موقف بھی درست نہیں کہ ملک کا ایک فیصد طبقہ ٹیکس دیتا ہے۔ یہ بات وزیر اعظم کی درست نہیں کہ حکومتیں تو غریبوں کے ٹیکس سے ہی چلتی رہی ہیں۔پٹرول ،بجلی،موبائل، کچن آئٹمز پر غریب لوگوں کو نچوڑ کر جو ٹیکس لیا جاتا ہے ۔غریبوں کی چیخیں تو سنو۔احساس پروگرام۔انصاف کارڈ،صحت کارڈ۔غریبوں کے لیے پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں ۔ کاغذی ڈرامے تو اس ملک میں 72سالوں سے ہو رہے ہیں ۔ ملک کی برآمدات نہیں بڑھ رہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی ڈالر اور کبھی پیٹرول مہنگا ہوتا جا راہا ہے۔ ایمنسٹی سکیم کے بارے میں جو تخمینہ لگایا گیا تھا ابھی تک اس کی رفتار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کی اس میں بھی حکومت کو مطلوبہ ہدف پورا کرنا مشکل ہے۔


ای پیپر