ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال کی تجویز
03 جون 2019 2019-06-03

خبر ہے کہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال کرنے کی تیاری ہے۔

موجودہ حکومت اپنے قیام کے وقت سے یہ ڈنڈھورا پیٹ رہی ہے کہ سابقہ حکومتیں خزانہ خالی کر گئی ہیں اور قرضہ چڑھا گئی ہیں۔ یہ اب پینشن کا اربوں روپیہ چھوڑنے کے چکروں میں ہیں۔

خان صاحب کا ساتھ دینے والوں میں تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پیش پیش تھیں کیوں کہ انہیں بے روزگاری کا عفریت سے پالا پڑا ہوا تھا۔ وہ اپنا مستقبل تاریک دیکھ رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسا حکمران آئے جو لوٹ مار نہ کرے اور ہمارا مستقبل محفوظ کرے۔ مجھے خود اس کا تجربہ کا سامنا کرنا پڑا۔ میرا اپنا بیٹا میرے سامنے ڈٹ گیا۔

عمران خان ایک کھرا آدمی ہے ۔زمینی حقائق بے شک ناقابل بیان حد تک خراب ہیں لیکن ان کو درست کرنے کی بات کرتا ہے۔

بابا مجھے تو آپ پر ترس آتا ہے جو ساری زندگی جدوجہد کرتے رہے لیکن ہمارے مستقبل کو نہ سنوار سکے۔ آپ کی طرف سے جدوجہد کی کمی نہ تھی لیکن اس نظام کی پرورش کرنے والے آتے رہے جو ہمیں محرومیاں بانٹتا رہا۔ میں جوان ہو گیا یہ ذہن میں رکھیں میرے جیسے لاکھوں نہیں کروڑوں ہیں جو آج بھی اپنے بیمار اور سفید پوش والدین سے ضرورتیں پوری کرتے ہیں آپ کو ہم لوگ بتا نہیں سکتے اندر سے ہم ٹوٹ رہے ہیں اور آپ انہیں ایلیٹ کلاس کے نوجوان بولتے ہیں جو ایم کام، بی کام، بی سی ایس، ماس میڈیا حتیٰ کہ ایم بی بی ایس اور نہ جانے کیا کیاپڑھ چکنے کے بعد بھی بے روز گاری کی دلدل میںدھنسے چلے جا رہے ہیں خدارا ان بے چاروں کو ایلیٹ کلاس نہ کہیں ان کی امنگوں کا خون ہو رہا ہے ان کی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں ۔دراصل عمران کے سپورٹرز تو زرداری اور شہباز شریف ہیں جو ڈیلیور نہ کر سکے۔ بابا! جب لیڈر شپ نہ ہو تو انار کی آتی ہے لیڈر شپ ہو تو تبدیلی آتی ہے جیسی قائد اعظم ؒ اور بھٹو صاحب کے وقت میں آئی تھی جبکہ موجود حالات انار کی میں داخل ہو چکے ہیں بروقت متبادل لیڈر شپ دے کر اسٹیبلشمنٹ نے بہت بڑی مہربانی کی ہے کہ انار کی تبدیلی میں بدل دیا۔ ناقدین کا یہ الزام کہ یہ اپنے سوا سب کو بددیانت سمجھتا ہے تو سیاسی سکرین پر کوئی ایک نام تو لیں جو دیانتدار ہو۔ ہم عمران کو اس کی خوبیوں خامیوں سمیت قبول کر رہے ہیں جیسے ماضی میں لوگوں نے قائد اعظمؒ اور بھٹو صاحب کو قبول کیا تھا۔ حمید گل و دیگر جرنیلوں یعنی مشرف وغیرہ کی حمایت عمران نے مشرف کو کھراا ٓدمی سمجھ کر اور اس کے ظاہری پروگرام کی وجہ سے کی تھی اور ویسے بھی بابا آپ ہی کہا کرتے ہیں۔ جانور اور بیوقوف اپنے نظریات نہیں بدلا کرتے ورنہ عقل ہمیشہ لچک رکھتی اور اسی وجہ سے معاشرہ ارتقائی مراحل سے گزرتا رہتا ہے۔ عمران خان نوجوانوں کو ورغلا نہیں رہا وہ دل سے چاہتا ہے کہ پاکستان ایک عظیم ملک بنے۔ یہ ہمارے اجتماعی دکھ سے واقف ہے۔ ناقدین کے بقول بھٹو صاحب کے گرد ننگے پائوں ، خالی پیٹ والے معاشرے کے پٹے زندگی کو ترسے ہوئے اور ذلتوں کے مارے لوگ تھے جبکہ اس کے گرد ایلیٹ کلاس کے نوجوان ہیں۔ بابا! میری بات غور سے سنیں یہ نوجوان ایلیٹ کلاس کے نہیں یہ آج کے دور کے بھٹو صاحب کے ننگے پائوں اور ننگے بدن والے نوجوان ہیں جو گریجوایٹ ہونے کے باوجود بے روزگار اور محتاج ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ یہ کرپشن نہیں ہونے دے گا اگر ختم نہ کر سکا (میز پر مکا مارتے ہوئے) کم از کم خود کرپشن نہیں کرے گا اور فی الوقت پاکستان میں یہی بہت بڑا انقلاب اور تبدیلی ہو گی کہ بھٹو صاحب اور بی بی شہید کے بعد اس ملک کا حکمران کرپٹ نہیں ہو گا۔ فوری طور پر یہ انقلاب کیا کم ہے کہ شہباز شریف اور زرداری نے اپنے پرانے کارکنوں کی طرف رجوع کر لیا۔ اگر توقعات پوری نہ ہوں تو ووٹ ضائع جاتا ہے اب کی با ر بابا! آپ مجھے ووٹ دیں ضائع نہیں جائے گا۔ میں عمران خان کا مشکور ہوں اس نے میرا بیٹا باشعور شہری بنا دیا اور میرے بیٹے سے میری شعوری ملاقات کرا دی۔

لہٰذا ’’وزیر اعظم‘‘ صاحب میرے جیسے باپوں کی آپ سے درخواست ہے کہ اس قوم کے نو جوانوں پر رحم کریں بے روز گاری اس معاشرے کا روگ بن گئی ہے لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے والدین نے بچوں کو پڑھایا ہے۔ آج کے تعلیم یافتہ انتہائی مہنگے تعلیمی نظام سے تعلیم حاصل کر چکنے کے بعد وہ بے روزگار ہیں۔ والدین بوڑھے، ناتواں اور کمزور بلکہ بیمار یا وفات پا چکے ہیں۔ 2019-20 ء اور 2023 ء تک لاکھوں لوگ ریٹائر ہوں گے آپ ان کو مزید 3 سال دے کر نو جوانوں کو سرکاری ملازمت کی حد سے تین سال آگے لیجانا چاہتے ہیں۔ عمران خان آپ شوکت خانم کے عمران خان ہیں۔ معاشی ہلاکو خان نہ بنیں، ریٹائر منٹ کی عمر 63 سال ہو گئی تو جو آپ کے جلسوں ، آپ کی آواز پر لبیک کہتے رہے ہیں جو آپ کی کہہ مکرنیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کے خوابوں کو نہ چور کریں ان کو بے روزگاری کی ذلت سے نجات دلائیں۔ زیادہ سے زیادہ سرکاری آسامیاں پیدا کریں نہ کہ پرانے لوگوں کو مزید 3 سال دے کر نئے بچوں کی زندگی کے 3 سال ضائع کریں اور کچھ کے تو یہ تین سال ساری زندگی ضائع کرنے کے مترادف ہوں گے۔ کیونکہ وہ سرکاری نوکری کی عمر کی حد سے تجاوز کر چکے ہوں گے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک ویزہ ایجنسیاں دبئی لے گئے ہیں۔ کوئی ملک ویزہ نہیں دیتا جو پہلے عرب ممالک میں موجود ہیں ان کا انخلاء جاری ہے۔ وطن عزیز میں پڑھے لکھے بے روز گار کروڑوں میں ہیں۔ ایک سپاہی کی نوکری پر ایم اے پاس بچے لائن میں لگے ہوئے ہیں۔کہ ان کو نوکری مل جائے۔ مہنگائی نے اللہ کی نعمتیں آنکھوں کے سامنے ہیں مگر ہاتھ لگنے سے اکثریت کو محروم کر دیا۔ یہ بچے اگر روزگار نہ ملا تو کدھر جائیں گے یہ جرائم میں ملوث ہوں گے یہ نسل جو آپ کے نعرے اور اندازے تقریر سن سن کر ادب اداب تو پہلے بھول چکی ہے بے روزگاری اور مایوسی ان کو جرائم پیشہ بنا دے گی جرم یا خود کشی جی خود کشی کے علاوہ ان کے پاس تیسرا راستہ نہیں ہو گا۔ نو جوانوں کا سوچیں ان کو روزگار دیں ، صحت کارڈ، مسافر خانے، یہ ڈرامے قوم کو بھکاری تو بنا دیں گے عزت دار قوم نہیں ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال کی بجائے 55 یا 58 سال کریں تاکہ نئی نسل کو روزگار ملے اور اگر تعلیمی اہلیت ہونے کے با وجود وہ سرکاری نوکری کی حد سے پار کر چکے ہیں تو قواعد کے مطابق ان کو Rexation Age دیں۔ آپ نو جوانوں کا بازو پکڑیں ہاتھ پکڑیں انہیں بے روزگاری اور ذلت کی دلدل سے نکالیںتا کہ وہ بھی آپ کے بازو بنے رہیں۔ اپنے ووٹروں کی لاج رکھیں ناقدین سچے ثابت نہیں ہو رہے ہو چکے ہیں۔


ای پیپر