پچ تیار نہیں؟
03 جون 2018

جمہوریت نے اپنے دوادوار مکمل کر لیے۔دس سالہ مسلسل جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کر لی۔خوشی کی بات ہے۔ لیکن افسوس بھی تو ہوا ساٹھ سال ضائع بھی تو کیے۔ ہمسایہ ممالک جمہوریت کی راہ پر چلتے ہوئے ہم سے بہت آگے نکل گئے۔ اب پیچھے رہ جانے والے کیا کریں۔ ایک ہی فارمولہ ہے۔ہاں معجزہ ہو جائے تو اور بات ہے اوور ٹائم۔ایکسٹرا کوشش تیز دوڑ کر ہی پیچھے رہ جانے والا باقی دوڑنے والوں کے برابر پہنچ سکتے ہیں۔لیکن ابھی بھی دیکھی اور ان دیکھی رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔
الیکشن کے اس ماحول میں جب صورتحال ہر لمحہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ کوئی بات حتمی طور پر کرنا کہنا ممکن نہیں۔لیکن ایک بات طے ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں الیکشن ملتوی ہو جائیں یا ان کے انعقاد کے متعلق روز آخر تک کنفیوژن رہے۔ قلمکار کا خیال ہے کہ الیکشن ضرور ہوں گے۔امکان غالب ہے کہ فکس ڈیٹ پر ہوں گے۔ کسی تکنیکی رکاوٹ کی وجہ سے کچھ تبدیلی کر نی پڑی تو الگ بات ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کے التواکے متعلق شوشے کون چھوڑ رہا ہے۔ وہ کون ہے جو نئے بہا نے تراش رہا ہے۔ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ابھی حکومتوں کے قیام پر بھی فیصلہ نہ ہو سکا۔ ہے ناں عجیب بات۔ وہ جو کے پی کو 90 دن میں تبدیل کرنے کے دعوے دار تھے۔ وہ جو کہتے تھے کہ ان کو کسی خاص کام کیلئے تیار کیا گیا ہے وہ جن کا دعویٰ تھا کہ وہ بیس سال سے اپنے ذہن میں پلاننگ کر رہے تھے۔ ان کے پاس ملک و قوم کو درپیش ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔ جن کے پاس ایسے ماہرین موجود ہیں جن کی کمٹمنٹ پر کوئی شک نہیں۔جن کی استعداد کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔وہ آئینگے اور ہیلتھ کے شعبہ میں انقلاب آئے گا۔تعلیم کا چہرہ بدل جائے گا۔ انفرا سٹرکچر تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ وہ پانچ سال تک ایک صوبے میں بر سراقتدار بھی رہے۔ ان کی کارکردگی کیسی رہی یہ آج کا موضو ع نہیں۔ لیکن شاید ان کو معلوم نہ تھا کہ الیکشن میں اترنے سے پہلے عوام سے ووٹ حاصل کرنے سے پہلے بھی کچھ مراحل ہیں۔ آئینی مراحل الیکشن سے پہلے مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتوں کا قیام نگران حکومتوں کے قیام سے پہلے مشاورت تو آئینی تقاضا ہے۔یہ مرحلہ کوئی اچانک تو نہیں آگیا۔ کئی ماہ سے معلوم تھا کہ پارلیمانی مدت کب ختم ہونی ہے۔ صوبائی حکومتیں کب تحلیل ہوں گی۔ اس سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کرنا ہو گا۔ کیا یہ محض حسن اتفاق ہے مرکز اور سندھ میں نگران حکومت کا قیام اور حکومت سازی کے مراحل تیزی سے تکمیل کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ لیکن جہاں پی ٹی آئی بطور اپوزیشن یا حکومت موجود ہو وہاں آئینی معاملات کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ مرکز میں کچھ پیچید گیاں آئیں۔ لیکن معاملات کو ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر حکومت اور اپوزیشن نے اپنا رویہ بدلہ۔حتمی میٹنگ ہوئی اور چند منٹوں میں فیصلہ ہو گیا۔ جسٹس (ر) ناصر الملک بطور نگران وزیر اعظم حلف اٹھا کر حکومتی نظام سنبھال چکے۔سندھ میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے معاملہ پارلیمانی کمیٹی تک نہ پہنچنے دیا۔ یہ سطور لکھی جا رہی تھیں تو سندھ نے نگران وزیر اعلیٰ نے حلف اٹھا لیا تھا۔اس دوران وہ اپنی کابینہ کی تشکیل کے مراحل سے گزر چکے ہوں گے۔ رکاوٹ اگر ہے تو کے پی میں گو مگو کی صورتحال ہے تو پنجاب میں جہاں خیر سے پی ٹی آئی اپوزیشن میں ہے۔ بلوچستا ن کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ الیکشن سے پہلے راتوں رات حکومت تبدیل ہوئی۔نیا چیئر مین سینیٹ بھی بلوچستان کے کوٹہ میں آیا۔ پھر بلوچستان میں بھی ایک نئی پارٹی وجود میں آئی بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے۔کے پی میں عجیب تماشہ ہوااپنے ہی سینیٹر کے بھائی منظور آفریدی کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا۔ نامزد وزیر اعلیٰ بادشاہ سلامت کے دربار میں پہنچے اپنی اسناد تقرر پیش کیں۔ فیصلے کی توثیق پائی۔ شاداں وفرحاں واپس پہنچے۔ لیکن وہ بھی پی ٹی آئی تھی جس کے متعلق کوئی پیشگوئی اپنے رسک پر ہی کی جاسکتی ہے۔اچانک اعلیٰ قیادت کو احساس ہوا کہ بڑی غلطی ہو گئی۔ عوام تنقید کر رہے ہیں۔ لہٰذا نادر شاہی حکم جاری ہوا۔ فیصلہ واپس۔فیصلہ کرتے ہوئے سوچا نہ واپس لیتے ہوئے دیر کی۔ ایسے ہی جیسے فاروق بندیال کا معاملہ وکٹیں گرانے کے شوق میں ماضی کے ایک بدنام زمانہ بلا د کار کو سہ رنگا پٹکہ پہناتے وقت دیر نہ کی۔ عوامی رد عمل آیا تو فیصلہ تبدیل۔اب فاروق بندیال کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے جوڑ کر اشک شوئی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ابتری کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا ماہرین نے ماضی کی عظیم اداکارہ شبنم کا جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی گھڑ لیا۔شنید ہے کہ اپوزیشن رہنما مولانا لطف الرحمن بضد ہیں کہ نگران وزیر اعلیٰ منظور آفریدی ہی ہونگے۔ ظاہر ہے زبان بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ پرویز خٹک کی اپنی مرضی۔لیڈر آف دی اپوزیشن ’’ڈیل‘‘ سے کیوں پیچھے ہٹیں۔پنجاب میں تو معاملہ جاسوسی ناول ایسا سنسنی خیز ہو چکا ہر گھنٹہ بعد نیا کردار انٹر ہو تا ہے۔ پی ٹی آئی کے فدائین ابھی شخص مذکورہ کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی ڈیوٹی شروع کرتے ہیں۔ ایک دوسرا لیڈر اٹھتا ہے پہلے کے نام پر کانٹا پھیر کر نیا نام میڈیا میں اچھال دیتا ہے۔سوشل میڈیا کی عدالت میں رسوا کرنے کیلئے ناصر کھوسہ کی کہانی تو پرانی ہو چکی۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ ان کو تبدیلی پارٹی کو فیور کرنے کی غرض سے کچھ بیوروکریٹس کے نام دیے گئے۔ادھر سے صاف انکا ر تو ذمہ داری سوشل میڈیا پر ڈال دی گئی۔ اس کی بعد سے لطیفہ بازی جاری ہے۔ ایک صاحب کا نام آیا جو سلطنت خراسان کے خود ساختہ ترجمان اور جمہوریت کے ساتھ ’’ویر‘‘ رکھتے ہیں۔ ایک اور صاحب کا نام آیا جو پارٹی کوفنڈدینے میں بہت فیاض واقع ہوئے ہیں۔ ایک اور دانشور کا نام آیا ان کی کہانیاں ایسی ہیں کہ فاروق بندیال بھی شرما جائے۔ ایف آئی آر، متاثرہ فریق کی ویڈیو سب کچھ موجود ہے۔نہ جانے کیوں فاروق بندیال ہو یا جناب دوست محمدکھوسہ سب کی پسندیدہ پارٹی ایک ہی کیوں؟ ناموں کی بھر مار ہے لیکن فیصلہ سازی نہیں ہو پا رہی۔ شاید معاملہ فیصلہ سازی کی استعداد کا ہے۔ شاید ایشو اہلیت کا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پانچ سالوں میں احتجاج کے سوا کچھ سیکھا ہی نہ ہو۔ ساست توبڑی نازک لیکن پیچیدہ چیز ہے۔فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ایک مرتبہ فیصلہ کر لیا جائے تو پھر اس پر قائم رہنا ہوتا ہے۔ پنجاب اور کے پی میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی تک جا پہنچا ہے۔ دیکھے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کے ہاتھوں میں سوشل میڈیا کا استرا پکڑا دیا تھا۔ جس کا کا میاب استعمال کیا گیا۔ اب یہ استرا ہر ہاتھ میں ہے۔ حالات ایسے ہو چکے ہیں کوئی شریف آدمی نگران وزیر اعلیٰ بننے کیلئے بھی تیار نہیں۔ لوگوں کو اپنی اور اجدا د کی عزت و نیک نامی عزیز ہے۔ الیکشن کے التوا کا ایک فیصلہ بلوچستان سے آیا حج کے نام پرکیسی بھونڈی دلیل ہے۔ 80 ہزار حجاج میں سے کتنے ووٹر ہیں؟ حج الیکشن سے ایک مہینہ بعد ہوناہے۔ لیکن قائد نوزائیدہ سیاستدانوں کے پاس اور کوئی بہانہ تھا ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور بعض دیگر جماعتیں الیکشن کیلئے تیار ہیں۔کسی تبدیلی کی حامی نہیں۔ راہ فرار وہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جن کو معلوم ہے کہ ابھی پچ تیار نہیں۔کھیلنے گئے تو ہار جائینگے۔ ایمپائر کی کوشش کے باوجود۔


ای پیپر