کوئی حقیقی متبادل نہیں ہے
03 جون 2018 2018-06-03

پاکستان میں 25 جولائی 2018 ء کو ایک اور عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں ایک بار پھر حکمران طبقات کے مختلف گروہ اور سیاسی جماعتیں مد مقابل ہوں گی۔ ان عام انتخابات میں آبادی کے بڑے حصے ایک بار پھر اس اہم جمہوری عمل سے باہر رہیں گے۔ محنت کش ، کسان، ہاری، چھوٹے کسان، چھوٹے تاجر اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک بار پھر حکمران طبقات کے ایک یا دوسرے حصے کو ووٹ دینے پر مجبور ہوں گے یا پھر وہ ووٹ ہی نہیں ڈالیں گے۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی متبادل ہی موجود نہیں ۔
محنت کش عوام کی بڑی تعداد کے پاس نہ تو کوئی سیاسی پلیٹ فارم موجود ہے کہ جہاں سے وہ اپنے معاشی، سماجی اور سیاسی حقیق اور مفادات کی انتخابی جدوجہد کر سکیں اور نہ ہی موجودہ بڑی سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل کو اٹھانے اور ان کی آواز سننے میں کوئی دلچسپی ہے ۔ 25 جولائی کے عام انتخابات میں جب محنت کش، ہاری اور چھوٹے کسان ووٹ ڈالنے جائیں گے تو عمومی طور پر انتخابی حلقوں میں غالب اکثریت جاگیرداروں، سرمایہ داروں، بڑے تاجروں، ریٹائرڈ سول یا فوجی افسروں روایتی سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کی ہو گی۔کہیں کہیں چوہدری منظور جیسے سیاسی کارکن بھی موجود ہوں گے۔ جو اپنی انتخابی مہم میں محنت کشوں ، کسانوں ، ہاریوں اور نوجوانوں کے مسائل پر بات کریں گے۔ ان کی خواہشات ، ضروریات اور جذبات کی ترجمانی کریں گے مگر ایسے امیدوار بہت ہی کم ہوں گے۔حکمران طبقات نے انتخابات کو اتنا مہنگا کر دیا ہے اور سرمائے کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ عام آدمی تو دور اب تو درمیانے طبقے کے کسی فرد کے لیے بھی انتخاب لڑنا نا ممکن حد تک مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ جب سیاسی جماعتوں کی قیادت سرمائے اور ذاتی ووٹ بینک کو ، پارٹی ٹکٹ کا معیار بنا دے تو پھر محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کے افراد تو بس انتخاب لڑنے کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ درمیانے اور نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کے پاس سیاسی تجربہ، نظریات، قربانی کا جذبہ اور سیاسی وفاداری تو موجود ہوتی ہے مگر ان کے پاس انتخاب لڑنے کے لیے کروڑوں روپے اور ہزاروں ذاتی ووٹ نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے پارٹی قیادت ان کو انتخاب لڑنے کے لیے موزوں خیال نہیں کرتے۔ہر پارٹی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ٹکٹ پر کوئی بڑا سرمایہ دار، تاجر، جاگیردار، قبائلی سردار اور روائتی سیاسی خاندان کا کوئی نامور فرد انتخاب لڑے۔ اس وجہ سے سیاسی جماعتیں محنت کشوں ، چھوٹے کسانوں ، چھوٹے تاجروں، سیاسی کارکنوں اور مزدور رہنماؤں کو پارٹی ٹکٹ نہیں دیتیں۔ ان کو سارے عمل میں نظر انداز کرتی ہیں ۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان پر ایک بار پھر وہی روایتی سیاسی امیدوار میدان میں اتریں گے۔ بہت سارے حلقوں میں محض انتخابی نشان بدلیں گے کیونکہ پرانے امیدوار ہی سیاسی جماعتیں بدل کر میدان میں ہوں گے۔ بہت سارے حلقوں میں صرف اتنی تبدیلی آئے گی کہ امیدوار تو وہی پرانا ہو گا مگر اس کا انتخابی نشان تبدیل ہو جائے گا۔ ماضی میں اگر وہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ق) کے انتخابی نشان پر انتخاب جیتا تھا تو اس بار وہ تحریک انصاف کے انتخابی نشان پر کامیابی حاصل کر لے گا۔ اور یوں وہ اپنا سیاسی غلبہ اور تسلط قائم رکھے گا۔جس امیدوار کی کامیابی پر گزشتہ انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹروں نے بھنگڑا ڈالا تھا اب اسی امیدوار کی کامیابہ پر ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹر اور حامی بھنگڑا ڈالیں۔ ہر عام انتخابات کے نتائج دراصل حکمران طبقے کی فتح اور کامیابی + جبکہ محنت کش عوام کی ہار کا واضح اظہار ہوتے ہیں۔ 1970 کے عام انتخابات میں پاکستانی عوام نے پہلی مرتبہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور وڈیروں کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ ورنہ عام انتخابات میں عوام کو حکمران طبقے کے ایک یا دوسرے فرد کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے اور وہ اپنی ہار کا جشن بھی خوب مناتے ہیں۔اگر آپ مزدور یا بے زمین کسان ووٹر ہیں اور اپنے جیسے کسی محنت کش یا بے زمین کسان کو ووٹ دینے کے خواہش مند ہیں تو آپ سنگین غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے انتخابی نظام میں کوئی بھی مظلوم اور استحصال زدہ طبقات سے تعلق رکھنے والا شخص انتخاب ہی نہیں لڑ سکتا۔ لہٰذا آپ کے پاس دراصل اتنی چوائس ہوتی ہے کہ آپ دو یا اس سے زائد جاگیرداروں، بڑے زمینداروں یا سرمایہ داروں میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں۔ وہ اپنے لیے محض استحصال کرنے والوں میں سے ہی کسی ایک کو منتخب کر لے۔اگر آپ ایک اسیے ووٹر ہیں جو کہ بائیں بازو کے ترقی پسندانہ خیالات اور نظریات رکھتے ہیں۔ آپ سٹیٹس کے مخالف ہیں اور تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ آپ کسی ایسے امیدوار کو ووٹ ڈالیں جو کہ آپ کے نظریات اور خیالات کا حامل ہو تو اور کسی بڑی سیاسی جماعت کا امیدوار بھی ہوا ایسا ہونا بہت مشکل ہے ۔ آپ بہت خوش قسمت ہوں گے کہ اگر آپ کو اپنے حلقے میں ایسا امیدوار مل جائے۔ ماضی میں ترقی پسند، بائیں بازو کے خیالات رکھنے اور متحرک سوٹ لسٹ کارکنوں کے لیے پیپلز پارٹی ایک چوائس ہوتی تھی۔ مگر اب ایسا نہیں ہے ۔ حالات بہت بدل گئے ہیں۔
1990ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی بھی پاکستانی سماج کے دائیں طر ف جھکاؤ کے ساتھ ہی دائیں بازو کی طرف جھکتی چلی گئی۔ سوویت یونین کے الزام اور سرد جنگ کے خاتمے نے اس عمل کو بہت تیز کر دیا۔ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کی حکومت کے خاتمے اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے قیام کے بعد پاکستانی سماج پر دائیں بازو کے رجعت پسند نظریات اور خیالات تھونپے گئے۔ مزدور تحریک، طلبا تنظیموں اور یونینوں بائیں بازو اور ترقی پسند تحریک کو ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان سے جمہورت، ترقی پسندی اور بائیں بازو کی تحریک کے ہر نشان کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ دائیں بازو کے اجنبی اور شدت پسند نظریات اور خیالات کو ریاستی سرپرستی میں پروان چڑھایا گیا۔ عوامی تنظیموں کو کمزور کیا گیا۔ دائیں بازو کے حکمران طبقات کو مضبوط کیا گیا ۔ ان کی ریاستی سرپرستی کی گئی۔ نچلی سطح سے ابھر نے اور جنم لینے والی سیاسی قیادت کی تمام نرسریوں کی ختم کرنے یا بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ نچلی سطح سے حقیقی قیادت کی بجائے مصنوعی قیادت کو ابھارا گیا۔ نظریات، منشور، پروگرام اور اصولی سیاست کی بجائے سرمائے برادری ازم،فرقہ واریت اور غیر سیاسی رجحانات کو پروان چڑھایا گیا۔ جو بیج اس وقت بوئے گئے وہ اب تناور درخت بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔اس وقت بائیں بازو کی پارٹیاں اور گروپ اس حالت میں نہیں ہیں کہ وہ دائیں بازو قدامت پسند حکمران طبقات کا انتخابی میدان میں مقابلہ کر سکیں۔ اس صورت حال میں بائیں بازو کے ووٹروں کے پاس 25 جولائی کے عام انتخابات میں کوئی حقیقی متبادل نہیں ہو گا جہ جس کو وہ اپنا ووٹ ڈال سکیں۔
اگر آپ سامراج مخالف عالمگیریت کے مخالف سرمایہ داری نظام کے مخالف اور نیو لبرل معاشی پالیسیوں کے مخالف ہیں اور اپنا ووٹ کسی ایسی جماعت یا امیدوار کو دینے کی خواہش رکھتے ہیں تو پھر آپ کے ووٹ ڈالنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ پاکستان میں اس وقت کوئی بھی ایسی بڑی سیاسی جماعت موجود نہیں جو کہ اس قسم کے خیالات۔ پروگرام اور نعرے رکھتی ہو۔ تمام ہی بڑی سیاسی جماعتوں کے معاشی پروگرام میں بہت بڑا فرق موجود نہیں ہے ۔ تمام ہی جماعتیں نیو لبرل ازم اور منڈی کی معیشت کی حامی ہیں اور ان کے نزدیک سرمایہ داری اور منڈی کی معیشت ہی واحد قابل عمل نظام ہے ۔وہ دن گئے جب پیپلز پارٹی قومی ملکیت، زرعی اصلاحات اور ریڈیکل تبدیلیوں کی بات کرتی تھی۔ اب تو یہ الفاظ اور نعرے ان کی سیاسی لغت سے غائب ہو چکے ہیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں غربت، عدم مساوات، سماجی و معاشی ناہمواری، طبقاتی تفریق اور سماجی و معاشی نا انصافیوں کی بات کرتی ہیں۔ مگر کوئی بھی جماعت ان بنیادی مسائل غربت، سماجی و معاشی نا انصافیوں اور عدم مساوات کے خاتمے کو واضح پروگرام۔ پالیسی اور حکمت عملی سامنے نہیں لاتی جس کے نتیجے میں یہ مسائل ختم ہو جائیں گے۔
محنت کش طبقے، درمیانے طبقے اور غریت عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے ۔ بد قسمتی سے موجود انتخابی مہم میں بھی ان مسائل کا محض ذکر ہی آئے گا۔ کیونکہ یہ مسائل اور ان کا حل سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے ۔ یہ انتخابات غربت ، بے روزگاری، بنیادی سہولیات اور ضروریات کی فراہمی، استحصال کے خاتمے ، بھوک کو مٹانے اور محکوم و مظلوم کی زندگی کو بہتر بنانے جیسے بنیادی مسائل پر نہیں لڑے جائیں گے بلکہ حکمران طبقات کے باہمی جھگڑوں، مسائل اور الزام تراشیوں پر لڑے جائیں گے۔
انتخابی سیاست پاکستانی اشرافیہ کے غلبے اور تسلط کا جمہوری تسلسل ہے ۔ سیاسی طاقت اور غلبہ معاشی و سماجی تسلط اور غلبے سے جنم لیتا ہے ۔ جاگیردار، سرمایہ دار، قبائلی سردار اور بڑے تاجر ذرائع پیداوار کی ملکیت رکھتے ہیں۔ اپنی معاشی طاقت یعنی سرمائے اور اپنی سماجی برتری کی بنیاد پر یہ انتخابی سیاست پر غلبہ رکھتے ہیں۔ موجودہ معاشی اور سماجی ڈھانچے کی بنیاد پر ہونے والے عام انتخابات غریبوں، محنت کشوں، چھوٹوں کسانوں، چھوٹے تاجروں اور نوجوانوں کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ ان کے پاس کوئی حقیقی متبادل موجود ہی نہیں ۔


ای پیپر