گندی سیاست، گندہ کھیل
03 جون 2018 2018-06-03

31 مئی 2018ء ن لیگ کی حکومت کا آخری دن 5 سال مکمل، کہنے کو میعاد مکمل کرلی مگر جس طرح کی اللہ ایسے دن دشمن کو بھی دکھائے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کر کے رخصت کیا گیا اصل منتخب وزیر اعظم 80 ویں پیشی بھگت کر احتساب عدالت سے نکلا کسی نے کہا آج تاریخی دن ہے اصل وزیر اعظم نے آہ بھری پھیکی مسکراہٹ سے کہا آج سبھی کچھ تاریخی ہے۔ 31 مئی کو گندی سیاست ختم ہوگئی لیکن گندہ کھیل کہاں ختم ہوا کانٹا چبھ جائے تو کہاں چین لینے دیتا ہے پاکستانی سیاست کوسپٹک ہوگیا ہے نتائج پانچ دس سال تک بھگتنے ہوں گے کون بھگتے گا سیاستدان تو پچھلے 70 سالوں سے یہی کھیل کھیلتے آرہے ہیں لا محالہ تباہی قوم کا مقدر ہوگی گندی سیاست نے کیا دن دکھائے منتخب وزیر اعظم ہی نا اہل قرار پائے چاروں کھونٹ نا اہل، پارٹی کے صدر بھی نہیں بن سکتے سوچتے تو ہوں گے اتنا نا اہل تھا تو تین بار وزیر اعظم کیوں بنایا گیا 34 سالہ اقتدار کے بعد گاڈ فادر اور سیلین مافیا کے تمغوں کی شکل میں ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ ملنا تھا تو سیاست میں آنے کی کیا ضرورت تھی لوگ بھی تو دیوانہ بنا دیتے ہیں قدم بڑھاؤ قدم بڑھاؤ کے نعروں نے 34 سال پہلے جوان خون گرما دیا تھا اب خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ اوپر والوں سے کبھی بنی نہیں سب کو پتا تھا تو وزیر اعظم کیوں بننے دیا مئی 2013ء ہی میں واضح کردیتے کہ نواز شریف کو نہیں شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا جائے اچھا بھلا شریف آدمی، سر جھکا کر کام کرنے والا نہ کسی سے کہو نہ کسی کی سنو کے اصول پر کاربند، مشکل حالات میں بھی دس ماہ حکومت کر گیا۔ اس عرصہ میں شیخ رشید کے سوا کوئی مخالف نہ بنا ۔
ن لیگ نے 5 سال پورے کرلیے مگر کیا حکومت کے 60 مہینوں یا 1825 دنوں میں ایک دن بھی سکون کا گزرا ’’ایسی حکومت سے ہم باز آئے ’’جس میں‘‘ گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے‘‘ ہنی مون پیریڈ بھی چین سے نہ گزرا ایک ماہ بعد ہی گندی سیاست کا گندہ کھیل شروع ہوگیا لگتا ہے ’’شوٹر‘‘ انتخابات کے بعد ہی سے نشانہ لیے مورچوں میں بیٹھے تھے۔ قائد ایوان منتخب ہونے تک عمران خان یا علامہ طاہر القادری سے کیا دشمنی تھی۔ علامہ صاحب تو کندھے پر بیٹھ کر غار حرا دیکھ آئے تھے عمر بھر کے لیے ممنون احسان تھے عمران خان لنگوٹیے ساتھ کرکٹ کھیلتے رہے انتخابات کے ایک ماہ بعد عمران کے گھر گئے ملاقات ہوئی۔ گلے ملے بلکہ گلے لگے انہوں نے دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ باقی جماعتیں بھی دل و جان سے تعاون پر آمادہ دکھائی دیں، لیکن پھر کیا ہوا ایک ماہ بعد کایا پلٹ گئی ۔خم ٹھونک کر میدان میں آگئے گلے ملنے والے ہی گلے پڑے۔ غضب خدا کا 126 دن تک ’’بیٹھے ہیں رہ گزر پر ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں‘‘ کی تصویر بنے شاہراہ دستور پر بیٹھے رہے ۔دستور کی نوک پلک درست کرنے والوں نے دہائی دی کہ راستے بند ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیسے شرکت کریں قومی اسمبلی کے خلاف کنٹینر سے دھواں دھار تقریریں شیخ رشید کی دھمکیاں، پی ٹی وی اسٹیشن پر حملہ، ایس پی پر تشدد، یقین دہانی کہ کوئی کچھ نہیں کہے گا واقعی کسی کو کچھ نہیں کہا گیا آنکھوں میں ایسی دھول جھونکی گئی کہ گریباں چاک کرتے لوگ بھی نظر نہ آئے عدالت نے کہا جب جائے واردات پر موجود ہی نہیں تھے تو سزا کیسے دیں۔ 126 دنوں کے دھرنے سے کروڑوں کا نقصان حکومت کو پورا کرنا پڑا یہ ابتدائے عشق تھی۔ منتخب وزیر اعظم صرف آہیں بھرتے رہے وزیر داخلہ کسی کو دار الحکومت میں دندناتے ہوئے داخل ہونے سے نہ روک سکے۔ پتا چل گیا تھا کہ ’’نے باگ ہاتھ میں ہے نہ پاؤں رکاب میں‘‘ حکم یہی تھا کسی کو نہ روکو جمہوریت میں کس کو روکا جاتا ہے۔ جمہوریت مہمان نواز ہے باہر سے آنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے اپنوں کو تختہ دار تک لے جاتی ہے ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے ابتدا ہی سے عمران خان کو چنا گیا بعد میں اس پینل میں علامہ طاہر القادری اور اپنے آصف زرداری بھی شامل کرلیے گئے ’’آنا تیرا مبارک تشریف لانے والے‘‘ مسکراہٹوں سے دل موہ لینے والے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دے کر دبئی چلے جانے والوں نے جانے این آر او کا کیا چمتکار دکھایا کہ نواز شریف کو دن میں تارے نظر آگئے 18 ماہ بعد آصف زرداری کی واپسی سے اندازہ ہوا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا کتنا آسان ہے وہ دن اور آج کا دن نواز شریف اور ان کی حکومت کو ایک لمحہ چین نصیب نہ ہوا موٹر ویز، سی پیک، توانائی منصوبے کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا خاتمہ ، بجلی کے کارخانے، یوتھ پروگرام سب پس منظر میں چلے گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں مقصد یہی تھا کہ عوام کے ذہنوں سے حکومت کی عوامی خدمات بھلا دی جائیں غور تو کیجیے اس کے لیے کیا کیا نہ کیا گیا 16 ترجمان سب چرب زبان، سب نے چینلوں پر ڈیرے ڈال دیے ’’بستر لگا لیا ہے دفتر کے سامنے‘‘ 24 گھنٹے خبروں میں ان حکومتی وزیر مشیر آؤٹ، آزاد گفتگو اخلاق سب رخصت، ’’مروت نام تھا جس کا گئی سادات کے گھر سے‘‘ جو منہ میں آئے کہتے جاؤ مار دھڑ لپا ڈکی سراپا ناز کا شیوہ بنا جوتے چلے تھپڑ چلے شہر مین مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا نواز شریف پر جوتا اچھلا احسن اقبال کو گولی لگیں ٹاک شو کے دوران دانیال عزیز کو تھپڑ پڑا، سیاست میں شائستگی کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلا یار لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ایسی سیاست دیکھی نہ سنی کون سے ملک میں ایسے ہوتا ہے کہ روز اول سے حکومت کے پیچھے لٹھ لے کے پڑ جاؤ اور 31 مئی تک اسے پاتال تک پہنچا دو 3 سو ارب کی کرپشن کا الزام ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ دو سالوں کے دوران کہاں ثابت ہوئی، تا حیات نا اہلی کا تمغہ سجائے نواز شریف پیشیوں سے فارغ ہوں تو کچھ اور سوچیں شاید سوچنے سمجھنے سے پہلے سزا ہوجائے فی الحال جلسوں میں لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کیا میں واقعی نا اہل ہوں جھولیاں بھر کے ووٹ دو تاکہ اہل ہو جاؤں حریفوں کو للکار رہے ہیں کہ بقول مظفر وارثی
ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں
میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں
گندی سیاست گندہ کھیل ، گندی سیاست 31 مئی کو ختم ہوگئی کھیل ختم نہیں ہوا انتخابات ہونے ہیں 25جولائی کو ہوجائیں گے؟ یو ٹرن والے کہاں ہونے دیں گے پنجاب اور کے پی کے کے نگراں وزرائے اعلیٰ پر اتفاق نہیں ہو پایا حلقہ بندیاں کالعدم، اس پر یقین دہانیاں کہ انتخاب 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ بی بی سی نے سرخی جمائی، ’’ایک اور یو ٹرن کا سامنا تھا عمران مجھ کو میں ایک یو ٹرن کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘ انتخابات ہو بھی گئے تو کیا ہو گا۔ جمہوریت کے دروازے پر پھر کوئی دستک ہوگی جمہوریت پھر کسی کا خیر مقدم کرے گی۔


ای پیپر