قو می انتخابات کا ا نعقا د
03 جون 2018 2018-06-03

لیجیے صا حب، سب ا فوا ہو ں کو پھلا ند تی ہوئی آ خر کا ر بخیر و آ فیت خبر آ ن پہنچی کہ و طنِ عزیز کی و فا قی حکو مت کے سا تھ سا تھ چا ر و ں صو با ئی حکو متیں اپنی آ ئینی مد ت پو ر ی ختم کر نے کے بعد ختم ہو گئیں۔و ز یر ا عظم شا ہد خا قا ن عبا سی ا پنے عہد ے سے دست بر دا ر ہو چکے ہیں۔ و فا قی کا بینہ او ر چا ر و ں صو با ئی اسمبلیا ں بھی ا پنی مد ت پو ری کر نے کے بعد تحلیل ہو گئیں۔دوسر ی جا نب ا لیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ الیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ دو سے چھ جون تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکیں گے۔ 14 جون تک سکروٹنی ہوگی اور 29 جون کو انتخابی نشان الاٹ کیے جائیں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم نے شیڈول آئین و قانون کے مطابق جاری کیا ہے۔ بر و ز جمعہ چیف جسٹس ر یٹا ئر ڈجنا ب نا صر ا لملک نے بطو ر نگر ا ن اپنے عہد ے کا حلف ا ٹھا لیا ہے۔بہر کیف انتخابی شیڈول کا ا ا جر ا ء اور الیکشن پہلے سے اعلان کردہ تاریخ پر کرانے کی یقین دہانی خوش آئند ہے۔ اس یقین دہانی کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ کچھ حلقوں کی جانب سے الیکشن کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کردینے کا مطالبہ دہرایا جا نا تا حا ل جاری ہے۔ اور تو اور بلوچستان اسمبلی میں بھی صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے 2018ء کے عام انتخابات ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے سے متعلق قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں شدید گرمی کے باعث انتخابی عمل متاثر ہوسکتا ہے، پولنگ سٹیشنوں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پولنگ سٹاف کا بیٹھنا بھی محال ہوگا اور جولائی میں بہت سے لوگ حج کے لیے بیرونِ ملک ہوں گے، لہٰذا الیکشن 25 جولائی کے بجائے اگست کے آخری ہفتے میں منعقد کرائے جائیں۔ پشتونخواہ اور نیشنل پارٹی کے اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی اور اپوزیشن ارکان قرارداد کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ کچھ افراد کی جانب سے انفرادی طور پر بھی یہی مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب وہ حلقے ہیں جن کا خیال ہے کہ الیکشن اور روز آگے نہیں ہونا چاہیے اور جس تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے، اسی تاریخ کو ہونا چاہیے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جو قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی سابق ہوچکے ہیں، نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں کسی قسم کی تاخیر قابل قبول نہیں۔ 5 سالہ جمہوری سفر میں فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی گئی، مگر خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بدھ کے روز وزیر اعظم (سابق) نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر تاخیر کی گئی تو ذمہ داران پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اسی طرح قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف (اب سابق) خورشید شاہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی جانب سے آنے والی بات کو سازش نہیں کہوں گا، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ انتخابات ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔تا ہم ا س مقا م پر ا گر ز مینی حقا ئق کا جا ئز ہ لیں تو ہم د یکھتے ہیں کہ ا مید و ا ر ا پنے کا غذ ا تِ نا مز د گی دو جو ن سے جمع کر ا نا شر و ع ہو چکے ہیں۔ کا غذ ا ت جمع کر ا نے کی آ خر ی تا ر یخ چھ جو ن مقر ر کی گئی ہے۔اس کے فو ر ا ً بعد سا ت جو ن کو امید و ا ر و ں کی عبو ری فہر ست آ و یز ا ں کر دی جا ئے گی۔ کا غذ ا ت مستر د ہو نے کے خلا ف ا پیلز کی آ خر ی تا ر یخ چھبیس جو ن ہو گی۔ اپنے کا غذ ا تِ نا مز د گی و ا پس لینے و ا لو ں کے لیئے �آ خر ی تا ر یخ ا ٹھا ئیس جو ن مقر ر کی گئی ہے۔ ا ور پھر اسی ر و ز امید و ا رو ں کی حتمی فہر ست آ و یز ا ں کر دی جا ئے گی۔ اس کے بعد مر حلہ آ تا ہے امید وا ر و ں کو ا نتخا بی نشا نا ت ا لا ٹ کر نیکا۔اس کے لیئے انتیس جو ن کی تا ر یخ مقر ر کی گئی ہے۔ ا نتخا با ت کے لیئے پو لنگ کا د ن، جیسا کہ او پر بیان کیا گیا ہے، پچیس جو لا ئی مقر ر کیا گیا ہے۔ قومی ا سمبلی ا و ر صو با ئی اسمبلیو ں میں خو ا تین اور ا قلیتو ں کے لیئے مخصو ص نشستو ں کے لیئے بھی یہی دن طے کیا گیا ہے۔ یہا ں یہ امر بھی قا ر ئین کے لیئے د لچسپی کا با عث ہو گا کہ بیلٹ کا غذ بر طا نیہ او ر فر ا نس سے منگو ا یا گیا ہے۔ عا م انتخا با ت کے ا نعقا د کے لیئے اکیس کر و ڑ سے ز ا ئد بیلٹ پیپر ز فو ج کی نگر ا نی میں چھا پے جا ہیں گے۔
تا ہم ا فسو س نا ک امر یہ ہے کہ ابھی اس حکم نامے کی سیاہی خشک نہ ہوئی ہوگی، جس میں آئندہ عام انتخابات کے لیے 25 جولائی کا دن مقرر کیا گیا کہ ان کے التوا کے لیے شور سنائی دینے لگا ہے۔ دریں اثناء اسلام آباد عدالت عالیہ نے کئی اضلاع میں تازہ ترین حلقہ بندیوں کو بھی مسترد کردیا ہے۔ لہٰذا یہ کام الیکشن کمیشن کو ازسر نو کرنا پڑے گا، جس کے لیے وقت درکار ہے۔ ابھی بہت سے اعتراضات عدالتوں میں فیصلے کے منتظر ہیں۔ اس طرح سیاسی منظر پر ایک طرح کی بے یقینی کی کیفیت چھائی ہوئی ہے اور اگر ابہام ختم کرنے کے لیے ٹھوس کوشش نہ کی گئی تو کئی آنے والے دنوں میں یہ شد اختیار کرتا جائے گا۔ یہاں یہ یاد دلانا مناسب ہوگا کہ ہمارا ماڈل برطانوی پارلیمنٹ اور جمہوری ہے۔ وہاں (برطانیہ میں) انتخابات ہر طرح کے بحرانوں کے باوجود منعقد ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے دوران دو عظیم جنگوں کے دوران ہی انتخابات کو ملتوی کیا گیا تھا، لیکن پارلیمنٹس اس وقت بھی موجود رہی تھیں اور قومی حکومتیں اس دوران بھی کام کرتی رہی تھیں۔ ہمارے ہاں کچھ اس طرح کا تاثر پید اہورہا ہے جیسے ہم دل سے جلد انتخابات کے قائل نہیں۔ آخر تاخیر سے ہم کس بہتری کی توقع کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔ لیکن یہ بھی ضرور دیکھنا چاہیے کہ التوا کے لیے دلیلیں کیا ہیں؟ اور یہ کس قدر مضبوط ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے جو جو قانونی تقاضے ہیں، وہ مکمل کیے جانے چاہئیں اور ساتھ ہی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ہماری تاریخ کے ہر انتخابات کی روداد ایک سی ہے۔ کبھی کسی ہارنے والے نے نتائج کو قبول نہیں کیا۔ شاید اس کا تعلق ہمارے رویوں سے ہے۔ ہم ہار ماننا پسند نہیں کرتے چاہے وہ کھیل کے میدان ہوں یا انتخابات ہوں یا کوئی مباحثہ۔ ٹھیک ہے کچھ مسائل ہیں، جیسے حلقہ بندیوں کا معاملہ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید 6 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم جبکہ 12 اضلاع کی حلقہ بندیاں درست قرار دے دیں، جس کے بعد گزشتہ دو روز میں حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیئے گئے اضلاع کی تعداد 10 ہوگئی۔ لیکن کیا مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ الیکشن ملتوی کیے بنا کوئی چارہ نہیں؟ ایسی صورتحال میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ جو مسائل درپیش ہیں، ان کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ منتخب حکومت کی میعاد پوری ہوچکی، اس لیے ان مسائل کے حل کی ذمہ داری اب نگران حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انتخابات ہر صورت میں ہونے چاہئیں اور بروقت ہونے چاہئیں۔ حالات اتنے گھمبیر نہیں کہ الیکشن ہی ملتوی کردیا جائے۔قا بلِ غو ر ا مر البتہ یہ ہے کہ جا نا جا ئے کہ انتخا با ت کو ملتو ی کر و ا نے کی کو شش کر نے و ا لو ں کی اصل نیت کیا ہے۔ آ یا و ہ وا قعی خلو صِ نیت پہ مبنی ہے یا اس کا ا صل مقصد و طنِ عز یز میں کسی نا کسی شو ر ش کو بپا کیئے ر کھنا ہے۔


ای پیپر