ایک حمام میں۔۔۔!!!!
03 جون 2018

سنتے اور پڑھتے تھے سیاست عبادت ہے ۔۔۔ اس کا مقصد کسی بھی گروہ علاقے یا قوم کو ایک بہتر اور منظم انداز میں چلانا ہوتا ہے ۔۔۔تا کہ اللہ کا نائب معاشرت کو اعلیٰ انسانی اقدار کے تحت تشکیل دے سکے ۔۔۔عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے ادوار ہمیں اس بات کا عملی ثبوت دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔ جہاں مسجد نبوی مرکز ہوا کرتا تھا مشاورت کا ۔۔۔ جس کے دروازے ایک عام انسان کے لئے بھی کھلے رہتے شاید اس لئے کہ ان ہستیوں کے دامن پاک تھے اور انہیں کوئی خوف نہ تھا ۔۔۔آج اس سیاست کی جھلک ہم مغربی ممالک میں دیکھتے ہیں او ریہی ان کی کامیابی کا راز ہے ۔۔۔لنکن اِن یونیورسٹی کے گیٹ پر دنیا کے بہترین قانون دانوں کے ناموں میں سر فہرست رسول اللہؐ کا نام ہے ۔۔۔ یورپ میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے حضرت عمرؓ کی اصلاحات کو نمونے کے طور پر لیا جاتا ہے ۔۔۔ کتنے بدقسمت ہیں ہم کہ جن کے '' رہنما '' چانکیہ او رمیکاولی کی سیاست کا سبق پڑھنے او رسے لاگو کرنے کو کبھی امریکہ کبھی روس او رکبھی چین کے آگے بچھے جاتے ہیں ۔۔۔ نہ اپنے یو نیورسل دین کوجانتے ہیں نہ سمجھنے کوتیار ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد محض حکومت کرنا عوام کا خوں چوسنا اور اپنے محل و خزانے بنانا ہے . بہت سے مذہبی رہنما اور پارٹیاں قوم کو ایک کرنے کی بجائے۔ مختلف مسلک اور فرقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان میں مزید دوریاں پیدا کر رہی ہیں ۔۔۔ علاقائی اور عالمی امن اور محبت کا پہلا سبق ہمارے دین نے یہی دیا ہے ۔۔۔ لیکن اس کا مطلب ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا سودا ہرگز نہیں ۔۔۔ اگران سیکڑوں ہزاروں نام نہاد لیڈران میں سے ایک بھی '' سچااور مخلص رہنما '' ہوتا تو یہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت دنیا کی رہنمائی کر رہی ہوتی ۔۔۔الٹا ہم ہر وقت کشکول تھامے عالمی طاقتوں کے سامنے گھگھیا رہے ہوتے ہیں مختلف قسم کی پابندیوں سے خوف زدہ دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود دہشت گردی کا الزام لئے پھرتے ہیں کہ ہمارے قدرتی وسائل چند خود غرض بے ضمیروں کے ہاتھوں میں ہیں ۔۔۔ افرادی وسائل غیروں کے ہاتھ ہیں ۔۔۔پالیسیاں ہماری فارن میڈ ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کا قبلہ ان کی خواہشات کے حساب سے بدلتا رہتا ہے ۔۔۔ اور اب مزید حیرت ہوئی یہ جان کر کہ سال بھر کے احتساب ومقدمات کے شور و غوغا اور بھاگ دوڑ کے بعد نتیجہ یہ ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کاغذات نامزدگی میں نہ دوہری شہریت کی شرط ہے نہ کسی تعلیمی سند کی ضرورت ۔۔۔ کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے تو بھی چلے گا کہ سیاست دانوں کی گڈیاں چڑھتی ہی کرپشن کی ڈور سے ہیں ۔۔۔ٹیکس اور دولت و جائیدادکے حساب کی بھی ضرورت نہیں آخر یہ ملک انہی کے باپوں کی جاگیر تو ہے۔۔۔ویسے ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ دیتے ہیں کرسی کے لئے مگر یہاں خاموشی سے اتفاق ہو جاتا ہے کہ مشترکہ مفادات اور عوام کو الو بنانے کا ایجنڈا تو ایک ہی ہے سب کا ۔۔۔ عوام کی ضرورت تو کرسیاں بھرنے کے لئے ہوتی ہے۔ انہی کے لوٹے مال سے تھوڑی خیرات کر کے جلسہ گاہیں بھر لی جاتی ہیں ۔۔۔ سو سیاست کا بازار گرم ہو جاتا ہے ۔۔۔چند ہزار کے علاوہ اب عوام ان سارے ٹوپی ڈراموں سے تنگ آ چکے ہیں ۔۔۔ ویسے بھی انہیں غربت اور مسائل کی چکی میں اس طرح الجھا دیا گیا ہے کہ انہیں ہوش ہی نہ رہے کہ اس ملک کے خزانے جن پر عوام کا حق ہے کیسے لوٹے جا رہے ہیں ۔۔۔عرصہ دراز سے محاورہ بن چکا ہے جب کوئی چالاکی مکاری کرتا ہے تو کہا جاتا ہے '' سیاست نہ کرو مرے ساتھ '' یہ ہے اصل حقیقت اس سیاست اور نام نہاد جمہوریت کی ۔۔۔ مذہبی رہنما ہوں یا روشن خیال سب کا ایک ہی مقصد ہے حکمرانی اور ذاتی مفادات ۔۔۔یونہی تو نہیں اربوں کی کرنسی اور سونا گھروں کے خفیہ خانوں سے برآمد ہوتا ۔۔۔ بیرون ملک کھربوں کی جائیدادیں بنتیں اور ۔۔۔دن رات میڈیا پر بیٹھے یہ لوگ اور ان کے خریدے ہوئے صحافی ، اینکرز اور مختلف طبقات سے '' چنیدہ '' افراد بھوکی بلکتی بنیادی ضروریات زندگی کو ترستی بیمار عوام او ربچوں کی دردناک حالت زار کا خالی ڈھول پیٹتے رہتے ہیں ۔۔۔اپنی دکانیں چمکانے کو ۔۔۔ اتنا ہی درد ہے تو جاؤ قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور مہینے کی لاکھوں کروڑوں کی آمدن سے چند لوگوں کا علاج ہی کروا دو ۔۔۔ مگر نہیں یہ مسائل حل ہو گئے تو انتخابی مہم کیسے کیش ہو گی ووٹ لینے کو کیا ایشوہو گا ؟ ۔۔۔ میڈیا مالکان کس طرح سنسنی پھیلا کر اشتہارات لیں گے ۔۔۔؟ آخر ان سارے '' بے چاروں '' کی روزی روٹی بھی تو انہی مسائل کے ڈھنڈورے پیٹنے سے جڑی ہے ۔۔۔ یہ کام بھی پسے ہوئے درد مند دل ہی کرتے ہیں ۔۔۔ اپنے محدود وسائل سے خاموشی سے اپنے ارد گرد والوں کی محرومیاں دور کرتے ہیں ۔۔۔یہ ملک انہی کے دم سے قائم ہے لیکن یہ نہ کسی کو نظر آتے ہیں اور نہ کوئی انہیں ملکی نظام میں لانا چاہتا ہے کیونکہ ایسے لوگ اخلاقی و مالی کرپشن کا حصہ نہیں بن سکتے، وہ کسی بھی قسم کے ’’مال کی سپلائی ‘‘کی ’’خوبیوں‘‘ سے آراستہ نہیں بلکہ ’’پائپ لائن‘‘ میں روڑا بن جاتے ہیں۔ سو ان سے الرجی ضروری ہے ۔۔۔سال بھر عوام ذوق و شوق سے کسی اچھی خبر کے انتظار میں بیٹھے ’’نیک لوگوں‘‘ کو دعائیں دیتے رہے مگر انتخابی کاغذات نامزدگی میں شامل شقوں نے ساری خوش فہمیوں کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔ ایک دوست نے نم آنکھوں کے ساتھ کہا ایک دو بار کسی امید پر ووٹ دیا تھا اب نہیں دوں گا
کنور دلشاد صاحب جب سیکرٹری الیکشن کمشن تھے تو اس وقت میں پنجاب tv اور سٹار ایشیا چننیل کی اسلام آباد سے سٹیشن ہیڈ رہی کچھ صہ ۔۔۔ پھر چھوڑ دیا بے زار ہو کر ۔۔۔ خیر وہ الگ کہانی ہے۔۔۔اس زمانے میں کنور دلشاد صاحب سے خاصی ملاقاتیں رہتی تھیں ان کی حب الوطنی اور تجزیات کی میں تب بھی قائل تھی آج بھی ہوں ۔۔۔ ہمارا باہمی احترام کا رشتہ اسی طرح قائم ہے ۔۔۔ان سے اکثر گفتگو کے نتیجے میں اور IFES کی الیکشن مہم کا حصہ ہونے کی وجہ سے اندازہ ہوا کہ ووٹنگ کا تناسب ملا جلا کر 15 فی صد ہے تقریباً ۔۔۔وجہ صاف ظاہر ہے ۔۔۔ لوگ ان کھوکھلے لوگوں اوران کے جھوٹے نعروں سے تنگ آچکے ہیں ۔۔۔ان سب خالی ڈھولوں کی آوازیں پھٹ چکی ہیں جو صرف پیسے او رغنڈہ گردی کی بنا پر عوام پر مسلط ہیں ۔۔۔انہوں نے ہماری گردنوں پر پاؤں رکھے ہوئے ہیں دہائیوں سے اور ہم سسک سسک کر انفرادی و اجتماعی موت کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔۔۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اپنے وطن کی خاطر اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر۔۔۔ ان سب کو اب آئینہ دکھانا ہو گا ۔۔۔ کسی خوف و لالچ سے بالا تر ہو کر الیکشن میں تمام گندے انڈوں کو ٹوکری سے نکال باہر پھینکنا ہو گا ۔۔۔دھاندلی سے جیتنے والے یہ سیاست دان جب خود کو 21 کروڑ عوام کا نمائندہ کہتے ہیں چاہے وہ کوئی بھی پارٹی ہو تو ہنسی بھی آتی ہے او ر رونا بھی ۔۔۔ یا اللہ پھر سے بھیج کوئی اپنا بندہ جس میں جناحؒ کا کردار اور اقبالؒ کی فہم و فراست ہو ۔۔۔آمین


ای پیپر