مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
03 جون 2018

دسمبر2017 ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کیں اور مئی 2018ء کے وسط میں ان ہدایایت پر عمل کرتے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کردیا۔ یوں عالمی طاقت نے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ وہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردوں کو ردی کاغذ کے کٹے پھٹے ٹکڑے اتنی اہمیت بھی نہیں دیتی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی خاموشی بھی دیکھنے لائق تھی ۔ اس خاموشی نے ثابت کیا کہ اقوام متحدہ عملاً عالمی طاقت کی باندی ہے ۔’’ تگڑا مارے اور رونے بھی نہ دے‘‘ کے مصداق مئی 2018ء کے و سط میں امریکا نے دنیا کو پیغام دیا کہ اب یہ دنیا مہذب نہیں رہی بلکہ اب اس میں جنگل کے دور کا راج ہے ،طاقت کی منطق کی حکمرانی ہے ۔ اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کا چلن ہوگاے جس کی لاٹھی ہوگی ، بھینس کے حقوق ملکیت اسے ہی دیے جائیں گے۔ طاقتور کا جرم اب اصول کہلائے گا ۔ ستم ظریفی کی بات تو یہ کہ دنیا بھر میں جارح اور غاصب ممالک کی پیٹھ ٹھونکنے والا امریکا کی وزارت دفاع دہائی دے رہی تھی کہ’’ چین اپنے پڑوسی ممالک کو دھمکا رہا ہے ‘‘۔
یاد رہے کہ دسمبر2017 ء میں صدرڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیااور کہا کہ ’ اب بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیاہے، امریکہ نے 70 سال پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اس دن سے اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت مانتا ہے ، مقبوضہ بیت المقدس 3 بڑے مذاہب کا دل اور کامیاب جمہوریت کا مرکز ہے ، بیت المقدس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی اپنی عبادت کرتے ہیں ہدایت کرتا ہوں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا جائے، امریکہ دو ریاستی حل پالیسی کی حمایت کرتا رہے گا، تمام فریقین کو کہتا ہوں کہ وہ سٹیٹس کو برقرار رکھیں ہماری سب سے بڑی امید امن ہے ‘۔ جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدرکے فیصلے کوتاریخی قراردیتے ہوئے کہا کہ ’ کسی امن معاہد ے میں مقبوضہ بیت المقدس بطوراسرائیلی دارالحکومت شامل ہوگا، دوسرے ممالک بھی امریکہ کی طرح اپنے سفارتخانے یروشلم منتقل کریں‘۔ مئی 2018ء کے وسط میں جب امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل ہوگیا تو امریکی حکام نغ اسغ ایک تاریخی دن قرار دیا جبکہ فلسطینیوں کے نزدیک یہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔
ان دنوں امریکی صدر کی طرف سے رابطہ کرنے پر سعودی شاہ سلمان، مصری صدر السیسی سمیت عرب ممالک کے رہنماؤں نے فیصلے کی شدید مخالفت کی اور خطے کے امن کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کو باز رہنے کا کہا تاہم امریکی صدر نے تمام صورت حال کو ماننے سے انکار کر دیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ ’اعلان سے امریکہ امن عمل کی ثالثی سے دستبردار ہو گیا‘۔مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے سفارتخانہ منتقل کرنے کے اعلان پر پاکستان سمیت عالم اسلام نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو امن کے لئے خطرناک قرار دیا جبکہ چین اور برطانیہ نے بھی امریکی صدر کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاتھا۔فرانسیسی صدر ایمانول میکرون ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، پوپ فرانسس ، یورپی یونین، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، ترک صدر رجب طیب اردوان ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، صدر ایران حسن روحانی، اردن کے شاہ عبداللہ، فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام کو امن عالم کے لیے مہیب خطرہ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ پاکستان نے امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر اظہار تشویش کیا تھا۔ سعودی شاہ سلمان، مصری صدر السیسی سمیت عرب ممالک کے حکمرانوں کی شدید مخالفت، چین ، برطانیہ ،فرانس ، جرمنی کے حکمرانوں، پوپ فرانسس ، یورپی یونین کے اظہار تشویش کے باوجود امریکا نے من مانی کی۔ پاکستانی حکمران واویلا کرتے رہے کہ ’ ایسے اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے ، فلسطین کو آزاد اور مضبوط ریاست کا درجہ دیا جائے، امریکی فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں‘۔ صدر پاکستان ممنون حسین نے کھلے الفاظ میں فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی اقدام سے دو ریاستوں کا حل دفن ہو چکا ، اب سفارتخانہ منتقل کرنے کے بعد امریکا عملی طور پر مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے رات دن کوشاں رہے گا۔ دنیا نے امریکا کی اسلام دشمنی کا ایسا نمونہ پہلے نہیں دیکھا۔ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ۔ مگر نتیجہ کیا نکلا۔ امریکی حکام کے کانوں پر جوں تک بھی نہ رینگی۔ سوائے اس کے کہ صدر ٹرمپ کے اقدام نے پاکستان اور پوری امت مسلمہ کے اندر غصے کی لہر دوڑا دی ۔ محض غصے کی لہر دوڑجانے سے کیا ہوتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے مسلمان لیڈر شپ نے کوئی متفقہ مؤقف اختیار کرکے ٹھوس اقدام کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لیڈرشپ بھول گئی کہ امرکا کہ اس اقدام سے صرف فلسطینیوں ہی کی نہیں بلکہ عالم اسلام کے تمام شہریوں کے حقوق کی پامالی ہوئی ہے ۔
وائے ناکامی کے متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سغ احساس زیاں جاتا رہا
حکیم الامت علامہ اقبال ؒ نے درست نشاندہی کی تھی :
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عالم اسلام مکہ اور مدینہ کے بعد بیت المقدس کو مقدس ترین خطہ سمجھتاہے اور دنیا بھر کے مسلمان مسجداقصیٰ سے عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کا یہ اقدام دنیا کی واحد نسل پرست صہیونی ریاست سے دوستی اور اسلام اورمسلمانوں کے خلاف ا س کھلیعداوت کا مظہر ہے ۔ امریکی صدر بہ خوبی جانتے ہیں کہ مقبوضہ فلسطین میں مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور ہزاروں فلسطینی اس کی آزادی کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں۔ دنیا کا ہر باشعور شہری جانتاہے کہ اس فیصلے کا مقصد وحید القدس الشریف پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو سندِ جواز فراہم کر کے یہ پیغام دینا ہے کہ امریکی انتظامیہ دنیا بھر میں مسلم علاقوں پر قابض غاصب اور جارح ممالک کے ساتھ کھڑی ہے ۔ عالمی مبصرین امریکہ کی یروشلم کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی امن کی کوششوں کے لیے ’’اعلان جنگ‘‘ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ وہ انتباہ کر رہے ہیں کہ ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔ کڑوا اور کھرا سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کر کے عالم اسلام کے پونے دو ارب کے قریب شہریوں کی بے بسی کا تمسخر اڑاتے ہوئے تضحیک کی ہے ۔حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں 224 اور 445میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ جون 1967ء میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے ، وہ اسے واگزار کرنا ہوں گے۔ ال تو یہ ہے کہ کیا محض اظہار افسوس اور مذمتی الفاظ امریکی صدر کو اس کے مذموم عزم کو عملی جامہ پہنانے سے روک سکے۔ اس وقت دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد 55ہے جن میں تین درجن کے قریب عرب ممالک ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین کو بین الاسلامی مسئلہ بنانے کے بجائے اسے محض عرب قوم پرستی کے تناظر میں پیش کیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان سے قبل ہی امریکی انتظامیہ اس امر کا اہتمام کر چکی تھی کہ اسرائیل کی ہمسائیگی میں کسی بھی عرب ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم نہ رہنے دیا جائے کہ وہ کسی بھی وقت اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکے۔ ایک طے شدہ پالیسی کے تحت عراق ، شام اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ اس پالیسی کے تحت ہی مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں مضبوط جمہوریت حکومت قائم نہیں ہونے دی گئی۔ آج مصر شام، لیبیا اور یمن داخلی انتشار اور خانہ جنگی سے دو چار ہیں۔


ای پیپر