بھارتی دہشتگردی کا شکارکشمیری ،حکومت پاکستان کی لاپروائی
03 جون 2018 2018-06-03

مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار نے رمضان المبارک میں نام نہاد سیزفائر کا اعلان کیا اور کہا کہ جنت ارضی کشمیر میں تعینات اس کی ساڑھے آٹھ لاکھ غاصب فوج ماہ مقدس میں کشمیری عوام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی تاکہ مسلسل قتل و غارت گری، احتجاجی ہڑتالوں اور مظاہروں کے سبب کشمیری عوام کے جو معمولات زندگی متاثرہوئے ہیں ‘ ان میں بہتری آسکے۔ بھارتی وزارت داخلہ نے جب اس امر کا اعلان کیا تو کشمیر کے حالات سے آگاہی رکھنے والے تجزیہ نگاروں نے پہلے ہی خبردارکر دیا تھا کہ بھارتی فوج کو کشمیری عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ انڈیا اپنی شکست خوردہ فوج کو ریلیف دینا چاہتا ہے اور نام نہاد جنگ بندی کا ڈرامہ رچا کر بین الاقوامی دنیا کو گمراہ کرناچاہتا ہے۔ سیز فائر ڈرامہ کے بعد پیدا ہونیو الے حالات کا جائزہ لیا جائے تو کپواڑہ، شوپیاں اور سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں مسلسل کشمیریوں کے قتل کی وارداتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ پہلے کی طرح اب بھی جگہ جگہ سرچ آپریشن کے نام پر نہتے کشمیریوں کا خون بہایا جارہا ہے اور ان کی املاک برباد کی جارہی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں کئی نوجوانوں کوبغیر کسی وجہ کے شہید اور بیسیوں افراد کو زخمی کیا گیا ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں کا روزگار بھی تباہ کر رہی ہے۔گزشتہ ہفتے شوپیاں میں سینکڑوں کی تعداد میں پھلوں کے درخت جان بوجھ کر کاٹ دیے گئے اور سیب کے باغات کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اس انتہائی افسوسناک واقعہ کے بعد یہاں کے لوگ سخت خوف و ہراس کی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بھارتی فورسز اہلکار کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور بچوں، خواتین اور دیگر اہل خانہ کو ہراساں کر رہے ہیں۔ اس دوران بعض علاقوں میں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات بھی پیش آئے ہیں ۔ ہر طرف کرفیو کا سماں ہے۔ پلوامہ میں بھی ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب بھارتی فوج نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گھروں کو آگ لگانے کی کوشش کی ۔ بھارتی فورسز اہلکار یہاں کشمیری جہادی تنظیم کے ایک مجاہد کا گھرہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے مکانات کے ارد گرد گھاس پھوس پھینک کر اسے آگ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ مقامی کشمیریوں نے معلوم ہونے پر گھروں سے نکل کر شدید احتجاج کیا جس پر دہشت گرد بھارتی فوجیوں کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور وہ وہاں سے رفوچکر ہو گئے۔
بھارتی فورسز کی جانب سے جنگ بندی ڈرامہ کے دوران ہی ایک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے کشمیر کے درودیوار ہلا دیے ہیں اور پوری کشمیری قوم میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔دو دن قبل نہتے کشمیری مظاہرین بھارتی فوج کی جانب سے نوہٹہ میں تاریخی جامع مسجد کے باہر مسلمانوں کیلئے نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری مظاہرین پر گاڑی چڑھا دی اور دو نوجوانوں کو ٹائروں تلے کچل دیا۔ اس دوران قیصر احمد نامی ایک نوجوان کو گہرے زخم آئے اور وہ ہسپتال لیجانے کے چند گھنٹے بعد ہی شہید ہو گیا جبکہ دوسرا نوجوان یونس احمد شدید زخمی اور ابھی تک موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ بھارتی فورسز کی اس بدترین دہشت گرد ی کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو کشمیر کے ہر گلی کوچے میں مظاہروں کا آغاز ہو گیا۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو شہید کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کیلئے پورے شہر کا محاصرہ کر کے کرفیو جیسی صورت حال پیدا کر دی اور ہر طرف خاردار تاریں لگا کر راستے بند کر دیے گئے تاہم اس کے باوجود ہزاروں افراد کا جم غفیر تمام رکاوٹوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فتح کدل علاقہ میں پہنچا اور شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ بھارتی فوج کی دہشت گردی کا عالم یہ ہے کہ اس نے جنازہ کے شرکاء کو بھی نہیں بخشا اوران پربھی اندھا دھند لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ پیلٹ گن کے چھرے بھی برسائے جاتے رہے جس سے درجنوں کشمیری نوجوان شدید زخمی ہو گئے۔ حال ہی میں کشمیری نوجوانوں کو گاڑی تلے کچل کر شہید کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے ایک ڈرائیور کو گاڑی تلے کچل کر شہید کیا گیااور اب یہ دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔اسی طرح یہ خبریں بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ بھارتی فوج کے بدنام زنامہ میجر گگوئی نے جس کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فوجی گاڑی کے آگے باندھ کر پورے شہر میں گھمایا تھا وہ ذہنی طور پر معذورہو گیا ہے۔ بہرحال کشمیریوں کی جانب سے شہید قیصر احمداور دو دوسرے نوجوانوں کو گاڑی تلے کچلنے کے افسوسناک سانحہ کے خلاف زبردست مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو مائسمہ میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا گیا‘ بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی پچھلے کئی برسوں سے پہلے ہی نظربند ہیں جبکہ میر واعظ عمر فاروق کو بھی ان کی رہائش گاہ پر قید کر دیا گیا ہے تاکہ یہ لیڈر کشمیر میں ہونیو الے مظاہروں کی قیادت نہ کر سکیں۔ کشمیر کے حساس علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے۔ سوشل میڈیا پربھارتی فورسز کے مظالم اور شہداء کی تصاویر شیئر کرنیو الوں کے گرد کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔ بھارتی فوج سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر قبرستانوں میں شہداء کی قبروں کی بے حرمتی کابھی ارتکاب کر رہی ہے۔ ابھی چند دن قبل ہی بھارتی فورسز اہلکاروں کی جانب سے معروف کشمیری کمانڈر سمیر احمد ٹائیگرسمیت دیگر کئی شہداء کی قبروں سے کتبے اکھاڑ کر لیجائے جا چکے ہیں۔ مودی سرکار کی یہ فوج دہشت گردی کے بدترین ریکارڈ قائم کر رہی ہے لیکن اسے کوئی پوچھنے والا اور ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بزرگ کشمیری قائد سیدعلی گیلانی نے درست کہا ہے کہ بھارتی فو ج نے محکوم کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے حصول کیلئے بیش بہا قربانیا ں دے رہے ہیں اور وہ اپنی عظیم جد وجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے تو سیز فائر کا ڈرامہ رچایا ہے لیکن اس کی دہشت گرد فوج نے اپنی حکومت کے اس ڈرامہ کو بھی مسترد کر دیا ہے۔بھارت سرکار اس وقت کشمیری قیادت سے مذاکرات کی باتیں بھی کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں ہندوستانی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ عید سے قبل کشمیر کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔ حریت پسند کشمیری قائدین بھارت کی جانب سے مذاکرات کی باتوں کو بھی دھوکہ ہی سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی انڈیا کا ماضی گواہ ہے کہ وہ حریت لیڈروں یا پاکستان سے مذاکرات میں کسی طور سنجیدہ نہیں رہااور اس نے مذاکرات کی آڑ میں ہمیشہ اپنا فوجی قبضہ مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت بھی جب مذاکرات کا جال بچھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں بھارتی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ جو کہ نریندر مودی کے دفتر میں تعینات ہیں ‘نے کہا ہے کہ کشمیری حریت پسند قائدین اور پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بھارتی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا اور یہ کہ کشمیری قائدین کو مذاکرات کے لئے کوئی مخصوص دعوت نامہ نہیں بھیجا جائے گا بلکہ بھارتی شہری ہونے کی حیثیت سے وہ کبھی بھی مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مودی حکومت اچانک مذاکرات کی باتیں کرنے لگی ہے تو اس پر وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکے؟۔ بھارتی حکومت کا رویہ دیکھ کر محسوس ہو تاہے کہ وہ ایک مرتبہ پھرکشمیری قیادت سے مذاکرات کا ڈرامہ رچاکر تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی یہ سازش بھی ان شاء اللہ کامیاب نہیں ہو گی اور جدوجہد آزادی جس سطح پر پہنچ چکی ہے بھارت سرکار کو جلد بوریا بستر گول کر کے کشمیر سے نکلنا پڑے گا۔


ای پیپر