مشکوک زرمبادلہ پالیسی، بھارت کرنسی واچ لسٹ میں شامل
03 جون 2018 2018-06-03

امریکا کے مذہبی آزادی کے نگراں ادارے کمشن آن انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم نے بھانڈا پھوڑدیا۔ امریکا کی مذہبی آزادی پر سالانہ رپورٹ نام نہاد سیکولر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لے آئی۔ مودی کے بھارت میں ہندوتوا اور زیادہ مضبوط اور خطرناک ہوگئی۔

امریکا نے مذہبی آزادی پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت کوئی بھی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں ہے جب کہ بھارت کو ان ملکوں کی صف میں شامل کردیا گیا ہے جن کی نگرانی کی جائے گی۔ بھارت میں نچلی ذات کے ہندو دلت بھی محفوظ نہیں۔ رپورٹ میں مرکزی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر کا پارلیمنٹ میں دیاگیا بیان شامل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ2017 میں 822 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں111افراد ہلاک اور 2384 زخمی ہوئے۔ شدت پسند ہندو تنظیموں نے گزشتہ برس 10 مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کردیا۔ مذہبی رواداری میں موجودہ حکومت کے دور میں مزید کمی ہوئی ہے۔ آبادی میں اضافے کے باوجود قانون سازی میں مسلمانوں کا تناسب کم ہوا ہے۔ ریاست اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب19فیصد ہے لیکن2017 میں ریاستی اسمبلی میں ان کی نمائندگی میں 6 فیصد کمی ہوئی۔ وزیر اعظم مودی کے ہندو قوم پرست بی جے پی کے ریاستی اسمبلیوں میں 1400 وزرا میں صرف 4 مسلمان ہیں۔ مذہبی عدم تشدد میں اضافے کی وجہ سے بھارت کو 2018 میں ان ملکوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے جن کی نگرانی کی جائے گی۔امریکا کی وزرات خزانہ نے مشکوک زرِ مبادلہ کی پالیسی پر بھارت کو کرنسی واچ لسٹ میں شامل کردیا۔ اس فہرست میں بھارت اور چین کے علاوہ دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کی جاری رپورٹ کے مطابق واچ لسٹ میں ان تمام بڑے کاروباری شراکت داروں کو شامل کیا گیا ہے جن کی کرنسی پالیسی توجہ طلب ہے۔اس ششماہی رپورٹ میں کانگریس نے بھارت کے علاوہ ان پانچ ممالک کا نام بھی شامل کیا، جو اکتوبر سے مذکورہ فہرست میں موجود تھے۔ ان میں چین، جرمنی، جاپان، کوریا اور سوئزر لینڈ شامل ہیں۔

کرنسی واچ لسٹ میں شامل تجارتی شراکت داروں میں سے کوئی بھی تجارتی فائدے کے لیے کرنسی کو کنٹرول نہیں کرسکا لیکن فہرست میں شامل 5 ممالک کرنسی پالیسی کے 3 میں سے 2 معیار پر پورا اترے جبکہ چین کو امریکا کے تجارتی خسارے میں غیر مناسب شرح کی وجہ سے شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا سے تجارت میں بھارت کو 23 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ بھارت کے زرمبادلہ میں سال 2017 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں اضافہ دیکھا گیا اور ساتھ ہی بھارتی روپے کی قدر میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ان کے حقوق چھینے جارہے ہیں۔ اقلیتوں کے حوالے سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور دیگر مسائل ہر روز سامنے آرہے ہیں۔ بھارت کو اس کے میڈیا اور فلموں کے تناظر میں نہ دیکھیں۔ بھارت کا جنگی جنون میں مبتلا میڈیا حقائق مسخ کرکے پیش کررہا ہے۔ بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ان کے حقوق چھینے جارہے ہیں بھارت میں عورتوں اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں سمیت بچوں اور عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں زیادتی کرنے والوں کے حق میں جلوس نکالے جاتے ہیں۔

بھارت میں تعصب کا جن بوتل میں جانے پر آمادہ نہیں اور متعصب ہندوؤں نے وہاں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں اور نچی ذات کے ہندوؤں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوئے، مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ اور گوشت کھانے کے الزام میں جان سے مار دیا گیا، حد یہ ہے کہ اب مختلف نعروں کو بھی مْلک دشمنی کا ذریعہ بنا لیا گیا اور ’’ بھارت ماتا کی جے‘‘ نہ کہنے والوں کو مْلک دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان رہنمااسد الدین اویسی نے کھل کرکہا کہ ان کی گردن کٹ جائے وہ ’’ بھارت ماتا کی جے‘‘ کا نعرہ نہیں لگائیں گے کہ یہ بھارتی آئین میں نہیں لکھا ہوا۔ اب ایک اتفاق یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ایک رکن صوبائی اسمبلی وارث پٹھان کی رکنیت مہاراشٹر اسمبلی کے ایک سیشن کے لئے معطل کر دی گئی ہے۔ وارث پٹھان کو بھی یہی نعرہ لگانے کو کہا گیا تو انہوں نے انکار کیا اور وضاحت کی کہ وہ جے ہند کہہ سکتے ہیں۔ بھارت ماتا کی جے نہیں، اس پر اسمبلی کے ہندو اراکین جمع ہو گئے اور ایک قرارداد کے ذریعے ان کی رکنیت اس اجلاس کے لئے معطل کر کے ان کو ایوان سے باہر نکال دیا۔انتہا پسند ہندوؤں کے مختلف گروہوں اور ٹولوں کی ایسی متعصبانہ کارروائیوں کو اگرچہ عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے، لیکن مذہبی تعصب یا خوف کی بنا پر ایسی کارروائیوں کی مذمت بھی نہیں کرتے۔ اب دلی سے آواز اْٹھی اس میں چند اور آوازیں ملی ہیں، لیکن یہ مذمت کی حد تک تو ہیں، ایسی کارروائیوں کو روکنے کی اہل نہیں ہیں۔بھارتی انتہا پسندوں کی اِن حرکات کی مذمت تو کی جا سکتی ہے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی آنکھیں اور کان بند کر لئے ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ کا ایک باقاعدہ شعبہ ہے جو اقلیتوں کے تحفظ کے اقدامات کا اہل اور اس کی ذمہ داری ہے، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ،جب اقوام متحدہ اِن مظالم کے خلاف مداخلت کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھی خاموشی ہی نظر آتی ہے۔ اس سے عالمی ادارے کی کارکردگی اور وجود سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔آگرہ، پنجاب، بہار اور اڑیسہ میں دلت سڑکوں پر نکل آئے۔اگرہ میں مظاہرین پر پولیس نے تشدد کیا جس سے ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور جواب میں ان پرآنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے کئی دکانوں کو آگ لگا دی۔ ریلوے ٹریک بند کر دیے گئے جبکہ مختلف شہروں میں ٹرین سروس معطل ہو کر رہ گئی۔ مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے دوران کم از کم 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ 448افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ تشدد آمیز واقعات کی رپورٹوں کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ کئی مقامات پر کرفیو اور بعض مقامات پر دفعہ 144 اور حکم امتناع نافذ کر دیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش اور پنجاب میں فوج بلا لی گئی ہے۔ پنجاب میں کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا ہے، پنجاب میں تو موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے عدالت عظمی کے فیصلے کے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس پارٹی دلتوں کے ساتھ ہے۔ہزاروں دلت بھائی بہن آج سڑکوں پر مودی سرکار سے اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وہ انہیں سلام کرتے ہیں۔


ای پیپر