میدان سیاست میں اڑتی دھول؟
03 جون 2018 2018-06-03

وفاقی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد واپس عام انتخابات کے اکھاڑے میں چلی گئی ہے صوبوں کی حکومتیں بھی نئے سرے سے ایوانوں میں جانے کے لئے گلیوں، محلوں، قصبوں اور شہروں میں پہنچ چکی ہیں اب وہ عوام کو اپنے ایک ’’کارنامے‘‘ بارے بتائیں گی، سڑکوں، پلوں، ٹرانسپورٹ کے نظام سے متعلق باآواز بلند ان سے مخاطب ہوں گی انہیں کچھ اور سہولتوں کا یاد دلائیں گی، کہ انہوں نے ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی لہٰذا وہ انہیں دوبارہ کامیاب کرائیں اور اپنے ادھورے خوابوں کو پورا کریں، مگر انتخابات تو بعض مشکلات کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں عدالت عالیہ اسلام آباد قریباً بارہ حلقوں کی مردم شمای کو کالعدم قرار دے چکی ہے، بلوچستان اسمبلی تو جاتے جاتے انہیں کچھ دیر اور نہ کرانے سے متعلق ایک قرارداد منظور کر گئی کے پی کے کی طرف سے اسی طرح کا اعلان ہو گیا، اور عوام کا ایک معتبر ترین حلق بھی کہہ رہا ہے کہ جب تک احتساب نہ ہو انتخابات نہیں ہونے چاہئیں اس کا موقف ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں میں بشمول پی ٹی آئی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی لوگ کثرت سے موجود ہیں جنہوں نے اب تک بے حد و حساب دولت کمائی ہے جو زیادہ تر ناجائز ذرائع تے حاصل کی گئی ہے ان کے مزاج بھی شاہانہ ہیں وہ جمہوریت کا بظاہر راگ الاپتے ہیں م مگر ایک فیصد بھی اس کا عملی مظاہرہ نہیں کرتے لہٰذا لازمی ہے کہ پہلے احتساب کیا جائے بصورت دیگر مال بناؤ اورلوٹ جاؤ ایسی سوچ کے حامل ’’نمائندے‘‘ ہی ایوانوں میں جائیں گے جو غریب لوگوں کے لئے قانون سازی نہیں کریں گے، پچھلے ادوار میں انہوں نے اس حوالے سے جو کردار ادا کیا وہ سب کے سامنے ہے۔خیرالیکشن کمیشن آف پاکستان نے شیڈول برائے انتخابات دو ہزار اٹھارہ جاری کر دیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ پچیس جولائی کو انتخابات ہو جائیں گے اور نئی بننے والی حکومت ایک بارپھر جمہوریت کی گاڑی پرسوار ہو جائے گی۔

خدا کرے کہ اب ملک میں کوئی آمرانہ ماحول پیدا نہ ہو اور منتخب حکومتیں قائم ہوں مگر فی الحال جو صورت حال ہے کہ وہ آئینی ہے بھی اور قانونی بھی پھر اس میں اندیشے بھی ہیں اور وسوسے بھی میں عام انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے کیونکہ دن رات ایک بھی الیکشن کمیشن کرے کہ حلقوں کے معاملات نمٹا دے تو بھی اسے کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی، ادھر بلوچستان اور کے پی کے میں جو آواز ابھری ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں صوبے بڑے اہمیت کے حامل ہیں ان میں سی پیک کا منصوبہ زیرتکمیل ہے بلوچوں کے مطالبات بھی ہیں حالات پہلے بھی تسلی بخش نہیں اگرچہ بڑی حد تک ان پر کنٹرول کیا جا چکا ہے مگر مکمل طور سے نہیں لہٰذا یکسر ان سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اگر الیکشن کمیشن جیسے تیسے عام انتخابات کروا بھی دیتا ہے توکیا انہیں من و عن قبول کر لیا جائے گا اور کیا ان کی شفافیت پر انگلیاں نہیں اٹھیں گی، ایسا نہیں ہو گا لہٰذا ہر قدم چھان پھٹک کر اور سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے جلدی میں کوئی فیصلہ مناسب نہیں ہو گا؟

بلاشبہ عوام نئے انتخابات چاہتے ہیں کیونکہ انہیں مسائل کی گھمبیرتا نے پریشان بلکہ نڈھال کر رکھا ہے لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ اب نئی حکومت جلدازجلد بنے جو انہیں درپیش مسائل سے چھٹکارا دلادے، یہی وہ نکتہ ہے کہ انہیں بنیادی طور سے اپنی فلاح مطلوب ہے، آسودگی چاہے انصاف ملے مہنگائی سے نجات حاصل ہو اور تھانے کچہری کا ماحول سازگار ہو اب اگر نگران حکومت انہیں یہ سب ساٹھ ستر فیصد بھی مہیا کر دیتی ہے تو ا نہیں انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔ انتخابات کا مقصد بھی یہی ہے لہٰذا الیکشن کمیشن انتخابات کرائے ضرور مگر موجودہ صورتحال کی حساسیت کا بھی اس کو علم ہونا چاہئے کہ اس میں کہیں کوئی بگاڑ تو نہیں پوشیدہ جس سے ازاں بعد پورے ملک میں کہرام مچ جائے بہرحال یہ قیاس آرائیاں ہیں جو ضروری نہیں حقیقت کا روپ دھار سکیں مگر خدشات جو بنظر غائر دکھائی دے رہے ہیں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کیونکہ اب ملک واقعتاً اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ ہمیں اس وقت انتشار و افتراق سے بچنے کی، ہرممکن کوشش کرنا ہے مجھے آخری روزکے ایوان زیریں میں اپنائیت و یکجہتی کے منظر پر بے حدخوش ہوئی کہ پانچ سالہ عرصہ اقتدار میں آگ کے گولے اگلنے والے، باہم شیر و شکر ہو گئے اور معافیاں مانگتے رہے، یہاں تک کہ عابد شیر علی نے محترمہ شیریں مزاری سے ان کے پاس جا کے معذرت کی کہ ان کی وجہ سے جو ان کی دل آزاری ہوئی ہے اس کا انہیں افسوس ہے، ایسا پہلے کیوں نہ ہو سکا، کیوں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے اور مل کے عوامی خدمت کے وہ ریکارڈ نہ قائم کر سکے جو ان کا فرض تھا ذمہ داری تھی۔

بات وہی ہے کہ ’’نمائندوں‘‘ کی ابھی تربیت کا ریاستی سطح پر کوئی اہتمام نہیں ہوا اگر انہیں ان کے حقوق و فرائض بارے باضابطہ بتایا جائے تو یقینی طور سے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہو سکتے ہیں مگر ابھی یہاں دوسروں کو اذیت پہنچانے کی روایت موجود ہے اپنے مقابل کو بچھاڑنا بھی لازمی تصور کیا جاتا ہے اور اس عمل کو تاحیات اختیار کیا جاتا ہے جبکہ یہ عوام کے مزاج پر منحصر ہے یعنی وہ کسی کو اس قابل بناتے ہیں ، تو وہ دیر تک آگے بڑھتا ہے مگر جب عوام اس سے رخ پھیر لیتے ہیں تو دوسرے کو گرانا ناممکن ہوتا ہے لہٰذا جو کوئی طاقتور بننا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے سامنے والا اسے تسلیم کرے تو وہ عوام کو راضی کرے ان کے لئے اپنا پسینہ بہائے، مگر ایسا نہیں ہوتا بازوؤں کی طاقت پر ہی ہر کوئی انحصار کرنے کا عادی ہے لہٰذا اقتدار میں جو کوئی آتا ہے وہ عوامیت سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرنے لگتا ہے اور عوام سے نفرت کرنا اپنی سیاست کا اہم جزو خیال کرتا ہے۔ اس لئے پچھلے دس سالہ ’’جمہوری‘‘ دور میں مثالیں سامنے نہیں آسکیں کہ ہم مجموعی طور سے ایک ہو کر کام کرنے کے جذبے سے محروم ہو چکے ہیں مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ سیاستدان اس کی خواہش بھی رکھتے ہیں وگرنہ آخری روز کی ’’تصویر‘‘ جو ایوان زیریں میں دیکھنے کو ملی نہ ملتی سوال یہ ہے کہ کیوں اس طرح کا مظاہرہ ملک و قوم کے مفادات میں نہیں کیا جاتا شاید اس کی وجہ ہوس زر اور ہوس اقتدار ہے کہ اس میں ذات کی تکمیل مقصود ہوتی ہے، لہٰذا تنہا پرواز کی جاتی ہے جبکہ یہ دور مل کے بلندیوں کو چھونے کا ہے اور اگر کوئی اس زعم میں ہے کہ وہ اکیلا ہی عوام کی آنکھ کا تارا ہے یا ہو سکتا ہے تو اسے اس نرگسیتی تصور سے جان چھڑا لینی چاہئے، یہ شعوری دنیا ہے اس میں نئے و تازہ خیالات کو پذیرائی ملے گی مل رہی ہے مگر نجانے کیوں حقائق سے روگردانی کی جاتی ہے اور سنجیدہ فہمی سے کام نہیں لیا جاتا۔ اس تناظر میں جناب عمران خان کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو ایسے لوگوں کے حصار میں ہیں جو عوام بیزار ہیں اور زرپرست ہیں لہٰذا وہ انہیں اپنے اور اپنے قبیلے کے افراد کے مفاد کے تحفظ کے حوالے سے ہی مشورے دیتے ہیں اور وہ انہیں یہ سمجھ کر مان لیتے ہیں کہ انہوں نے ٹھیک ہی دیئے ہوں گے، جبکہ یہ سراسر غلط ہے عمران خان کو ایسے مشوروں سے شرمندگی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ ’’یوٹرن‘‘ کے نام سے مشہور ہوتے جا رہے ہیں، میں اپنے کالموں میں اکثر یہ کہتا آیا ہوں کہ وہ ایک ایسے دماغوں کے جھرمٹ میں ہیں جو ان کے خیرخواہ نہیں، وہ دوسرے طبقے کے لوگ ہیں عوام دوست ہرگز نہیں، لہٰذا وہ ان کے لئے ہی سیاست کریں گے، اور عمران خان ہاتھ ملتے رہ جائیں گے حالیہ فیصلے سے انہیں کافی سیاسی ہزیمت اٹھانا پڑی ہے کہ وہ عوام میں سے غیر سنجیدہ شخصیت کے طور سے ابھرے ہیں اور یہ تاثر عام ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے اہل نہیں، کیونکہ وہ ملکی سطح پر کوئی واضح اور مضبوط فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

جاوید خیالوی کے مطابق اب وہ مقبولیت کھو رہے ہیں انہوں نے جو اپنے گرد مجمع اکٹھا کر لیا ہے وہ انہیں پوری طرح گھیرے میں لے چکا ہے جو ان سے عوام کے حق میں کوئی انقلابی فیصلہ نہیں ہونے دے رہا، اور اگر وہ کرتے بھی ہیں تو وہ اسے واپس لینے پر مجبور کر دیتے ہیں ضروری ہے کہ وہ ان کو خود سے دور رکھیں، بلکہ انہیں خدا حافظ کہہ دیں، بالکل صحیح کہا خیالوی نے عمران خان کو ’’سٹیٹس کو‘‘ کی قوتوں نے غیرسنجیدہ سیاستدان قرار دلوا دیا ہے لہٰذا وہ ملک کی باگ دوڑ نہیں سنبھال سکتے مگر وہ دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ایسا کر سکتے ہیں آنے والے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت میں ان کا کردار اہم ہو گا۔


ای پیپر