ایک فاؤنڈیشن : جو مانگتی نہیں بانٹتی ہے
03 جون 2018 2018-06-03

علم اوردولت سزا کے طور پر مل جاتے ہیں لیکن اس زمین پر علم اوردولت بانٹنے کی توفیق جسے بھی اللہ رب العزت نے دی وہ انعام کے طور پر عطا کی ۔ اس کی سب سے بڑی مثال بت پرست حاتم طائی کی بیٹی کے ساتھ رسالت مآب ﷺ کے حسن سلوک کا واقعہ ہے ۔ سخاوت اللہ تعالی کا محبوب ترین عمل ہے اور پھر یہ عمل اُس وقت زیادہ محبوب ہو جاتا ہے جب تقسیم کار کے پیشِ نظر اللہ کی خوشنودی اور شفاعت مصطفی ؐ کے سوا کچھ نہ ہو۔ شوکت خانم کا تیسرا فلور عبد الرحیم خان کے نام سے منسوب ہے ۔خیال آیا کہ یقیناًیہ فلور اور اس سے مطلقہ ہر شے عبد الرحیم خان صاحب نے ہی عطیہ کی ہو گی سو وارڈ کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے ۔ ایسا ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے لاہور کے ہر بڑے چھوٹے ہسپتال میں ایسا نام لکھے ہوئے ہیں لیکن شوکت خانم جیسے مہنگے ہسپتال میں یقیناًبہت بڑی ڈونیشن کے بعد ہی یہ ممکن ہوا ہو گا ۔ میں نے اسے کسی فرد کا انفرادی فعل تصور کیا لیکن غور سے پڑھنے پر معلوم ہوا کہ یہ عبد العلیم فاؤنڈیشن کا عطیہ ہے اور عبد الرحیم خان صاحب ، عبدالعلیم خان کے مرحوم والد ہیں ۔عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کے بارے میں میرے پاس لا تعداد معلومات ہیں اور یہ میری معلومات کے مطابق واحد تنظیم ہے جو مانگتی نہیں بانٹتی ہے ۔ عبد العلیم خان کسی نے فنڈز نہیں لیتے لیکن اُن کی فاؤنڈیشن کی خدمات کسی بھی بڑے ادارے سے کم نہیں ۔کسی شخص کا اپنی جیب سے اتنا بڑا ادارہ چلانا یقیناًاس مادیت کے دور میں بہت بڑے دل گردے کا کام ہے لیکن اس شہرِ لاہور میں ارب اور کھرب پتی لوگ قطار اند قطار کھڑے بلکہ لیٹے ہیں لیکن بانٹنے کیلئے اللہ تعالیٰ سب کو منتخب نہیں کرتا یہ توفیق سب کو نہیں ہوتی ۔

عبد العلیم خان فاؤنڈیشن اس کے علاوہ گھرکی ہسپتال میں مسحق مریض کے علاج کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے ۔ شالیمار ہسپتال کو عبد العلیم خان فاؤنڈیشن نے مرسیڈیز بینز ایمبولینس کا عطیہ دیا جو آج بھی مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں معاون و مدد گار ہے ۔ اسی فاوئڈیشن نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نزدیک پاکستان انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے راجوانہ ہسپتال کو 55 لاکھ بیس ہزار روپے عطیہ کیا جو اس پسماندہ ترین علاقے میں عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کی اعلیٰ ترین خدمت تھی ۔ فاوئڈیشن نے صغری شفیع ہسپتال نارروال کیلئے ایک بڑی رقم عطیہ کی ۔ یہ ہسپتال سہارا فور لائف کے زیر اہتمام چل رہا ہے اور پاکستان کے مشہور گلوکار ابرار الحق اس کے روح رواں ہیں ۔انمول ہسپتال میں انمول پیشنٹ سوسائٹی کیلئے گیسٹ روم `ًًً500 کے وی کے علاوہ پی ای ٹی سکین کی سہولت کا آغاز عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا گیا ۔ پی ای ٹی سکین انتہائی مہنگا ٹیسٹ ہے جو عام آدمی کی بساط باہر ہے ۔عبد العلیم خان نے انمول ہسپتال میں سہولیات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ میری والد ہ اور والد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے سو میں اس تکلیف کو محسوس کر سکتا ہوں کہ کینسر کا مریض کس تکلیف میں ہوتا ہے ‘‘۔ عبد العلیم خان فاؤنڈیشن شوکت خانم کو سب سے زیادہ عطیہ کرنے والی تنظیم ہے اس رمضان میں عمران خان شوکت خانم فنڈ ریزنگ کیلئے لاہور تشریف لائے تو عوام نے 6 کروڑ دیئے جبکہ عبد العلیم خان فاؤنڈیشن نے اس کارِ خیر کیلئے 6کروڑ دیئے جس کا اعلان خود عمران خان نے کیا اور عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کی گراں قدر خدمات کو سراہا ۔

عبد العلیم خان فاؤنڈیشن نے لاہور کے خوبصورت علاقے میں یتیم بچیوں کیلئے دو ’’ اپنا گھر ‘‘ تعمیر کر رکھے ہیں جس میں اس وقت 80 سے زائد یتیم بچیاں انتہائی آبرومندآنہ طریقے سے زندگی بسر کر رہی ہیں ۔’’ اپنا گھر‘‘ کے ساتھ ہی ’’ تیسری عمارت میں ’’ اپنا گھر سکول ‘‘ کے نام سے بچیوں کا سکول واقع ہے جہاں انہیں بہترین تعلیم میسر ہے ۔ آپ کبھی اِن سکولوں کا وزٹ ضرور کریں آپ کو احساس ہو گا کہ عبد العلیم خان کی ایک نہیں 81 بیٹیاں ہیں ۔اُن کی ہر ضرورت اور سہولت عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کے سپرد ہے ۔2005 کے بدترین زلزلے میں جب ہر پاکستانی غمزدہ تھا اور اپنے بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرنے کیلئے بے تاب تھا تو عبد العلیم خان فاؤنڈیشن بھی اس میں کسی صورت پیچھے نہ رہی اور فاؤنڈیشن نے 80 لاکھ مالیت کی خورارک ، ادویات ، کمبل ، خیمے اور ضروریات کا دوسرا سامان اپنے پختون بھائیوں کیلئے بالا کوٹ بھیجا۔

عبد العلیم خان فاؤنڈیشن نے رمضان میں غریب ، نادار اور ضرورت مند گھرانوں کیلئے رمضان پیکج کا اعلان کر رکھا ہے اور سالہا سال سے یہ سلسلہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جاری ہے ۔ اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے اور بلا امتیاز ہرفرد ، اُس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اس پروگرام سے مستفید ہو سکتا ہے ۔ اس کیلئے فاؤنڈیشن نے انتہائی سائنٹفیک طریقہ اپنا رکھا ہے اور گڑھی شاہو لاہور سے آج کل یہ سلسلہ برادرم عامر مغل ، برادرم محمد علی اور برادرم طارق جٹ کی زیر نگرانی جاری ہے ۔ راشن لینے والوں کے کارڈز پہلے ہی بنا دیئے جاتے ہیں لوگ کارڈ دکھاکر اپنا راشن انتہائی آبرو مندآنہ طریقے سے وصول کر لیتے ہیں ۔ بہت سے سفید پوش گھرانوں کو راشن گھر پہنچانے کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے اور بہت سے سفید پوش صحافی بھی اس سے مستفید ہوتے ہیں اس کیلئے اُن کا راشن مطلوبہ مقامات پر پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ انہیں اپنی مصروفیات ترک کرکے نہ آنا پڑے ۔ اس کے علاوہ 54 فلٹر پلانٹ عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ لاہور جیسے شہر میں جہاں لوگ آج بھی پانی خرید کر پیتے ہیں ۔ فاؤنڈیشن نے کینیڈا کی کمپنی کے ساتھ مل کر بہترین انتظام کیا جہاں ایک فلٹر پلانٹ سے تقریبا پانچ ہزار عام آدمی لاہور میں بکنے والے پانی سے زیادہ صاف او ر بہتر پانی استعمال کر رہے ہیں۔ان فلٹرز پلانٹ کا تعلق صرف انسانوں سے ہے ہر طرح کی سیاست سے بالاتر ہو کر لاکھوں لوگ سارا سال اس تندرست رکھنے والے پانی سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں اوریقیناًیہ سب دعائیں اُسی ایک شخص کیلئے ہیں جو اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود عام ، ضرورت مند انسانوں سے بے خبر نہیں رہتا اور اس کیلئے عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتی۔اس کے علاوہ ابھی تک ڈسپنسریوں کا جال آہستہ آہستہ عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کے زیر انتظام پھیلایا جا رہا ہے جہاں نہ صرف ایم بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہیں بلکہ وقتا فوقتا مختلف بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر بھی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام لگنے والے کیمپوں سے اپنا معائنہ کرواتے رہتے ہیں جہاں انہیں فری ادویات بھی مہیا کی جاتی ہیں ۔

عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تعلیم کے حوالے سے ’’تعلیم سب کیلئے ‘‘ کا پروگرام بھی انتہائی تیزی سے رواں دواں ہے ۔ نمل انجینئرنگ یونیورسٹی کو 40 کمپیوٹر دئیے گئے ۔خصوصی بچوں کیلئے رائزنگ سن انسٹیٹوٹ میں عبد العلیم خان فاؤنڈیشن کا اہم کردار ہے جو اپاہج بچوں کا ادارہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس دور میں کسی ایک فرد کا بیک وقت اتنے کاموں روپیہ اور پیسہ خرچ کرناصرف اللہ کا انعام ہے کہ وہ علم اور دولت بانٹنے کی توفیق جسے بھی دیتا ہے صرف انعام کے طور پر دیتا ہے ۔


ای پیپر