رمضانِ پاکستان
03 جون 2018

رمضان المبارک کے پہلے تین روزوں میں موسم کے خوشگواراحساس نے گرمی کااحساس نہ ہونے دیالیکن چوتھے روزے دس بجے کے بعد سورج نے آگ برسانا شروع کر دی تھی درجہ حرارت بیالیس سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اتوار کا دن تھا اتوارکوآفس سے چھٹی تھی اتوارکوہی سب کام نمٹانا ممکن ہوتا ہے میرابازار میں جانے کاپروگرام شام کا تھا لیکن اڑھائی بجے کے قریب لاہورسے ایک کزن کا فون آیا عامربھائی میں ڈیڑھ گھنٹے تک آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں بس اسی وجہ سے جلدی سے افطاری کے لئے سامان خریدنے کی غرض سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بازارکی راہ لی بازارسے جیسے ہی گلی کی طرف مڑاتووہاں خواتین کا ہجوم اُمڈا ہواتھا پانچ فٹ چوڑی گلی میں تین سوکے لگ بھگ خواتین کا تانتا بندھا ہوا تھا ، پسینے میں بھیگی نقاب پوش خواتین کارش اورخواتین کی آنکھوں سے چمکنے والی بے چارگی کی چمک دیکھ کر دل میں خیال پیداہواسفید پوشی کا دوردورہ ہے بہتر یہی ہے کہ واپس ہوکربازارسے کوئی اورراستہ اختیار کرلیا جائے لیکن احسا س کے عین بیچ میں سات سالہ بیٹے کی ضدآڑے آ گئی نہیں پاپاجی ادھرسے ہی گزرکر جاناہے، ایک شخص گلی کی فرشی سطح سے چھ فٹ اُونچی عرشی دکان پر کھڑا ہاتھ میں ایک کاغذ کی لسٹ لئے خواتین کے نام پکاررہا تھا اپنا نام پکارے جانے پر خاتون آگے بڑھتی اُسے بیس کلوآٹے کا ایک تھیلا ہاتھ میں تھما دیا جاتاپھردوسری خاتون کا نام پکارا جاتا ہم باپ بیٹے خواتین کے درمیان میں سے راستہ بناتے ہوئے آگے نکلے ہی تھے کہ ہم سے تین چار قدم کے فاصلے پرہم سے آگے نکلنے والا ایک راہ گیر کانوں کوہاتھ لگاتا اور استغفار کرتا ہوا خواتین کے نام پکارنے والے کو برا بھلا کہہ رہا تھا اگرآٹا تقسیم کرنا ہی تھا توخواتین کے گھر جا کر انہیں آٹے کے تھیلے دے آتے بے چاری خواتین کی تذلیل کی جارہی ہے ،میں نے ان سے عرض کی لالہ جی کوئی بات نہیں شکرکرے یہاں کوئی کیمرے والا نہیں ورنہ اس کے لئے توباقاعدہ طورپر خواتین کوآٹے کا تھیلا دیتے ہوئے تصاویر بنائی جاتی ہیں مجھے تو آٹے کے بیگ تقسیم کرنے والا غیر سیاسی بندہ معلوم ہوتاہے راہ گیرنے میری بات سن کرکہا ہاں جی پاجی ٹھیک کہا ہے آپ نے لیکن مجھے یہ طریقہ اچھا نہیں لگاکوئی دس بارہ قدم چلنے کے بعد وہ راہ گیر دائیں طرف مڑگیا اورہم بائیں طرف مڑگئے میں دوسال سے خواتین میں آٹے کے تھیلے تقسیم کرنے والے مخیر شخص کی ٹوہ میں لگارہا جس شخص کے ذریعے اس نیک کام کوانجام دیا جارہا ہے وہ میرے بچپن کے کلاس فیلو کا بڑابھائی ہے لیکن وہ اس شخص کا نام بتانے سے انکاری ہے، اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی سورۂ البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اگرتم صدقات ظاہرکرکے دوتب بھی اچھی بات ہے اوراگراس کوخفیہ طورسے ضرورت مندوں کو دو تویہ تمہارے لئے زیادہ بہترہے اس طرح کا دِیناتمہارے گناہوں کوبھی دُورکردے گااوراللہ کوتمہارے سب کاموں کی خبرہے۔‘‘اور دُوسری طرف وہ کنجوس لوگ بھی ہیں جودولت سے محبت کرتے ہیں اورگھر وں کے دروازوں کی پیشانیوں پر ’’ہذا من فضل ربی‘‘لکھا ہواہوتاہے لیکن ’’فضل رَبی‘‘ کے راستے میں پیسے خرچ کرتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے ایسے کنجوس لوگوں کے بارے میں سورۂ آلِ عمران میں فرمایا گیا ہے کہ ’’جن لوگوں کواللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اوروہ کنجوسی کرتے ہیں وہ اس کنجوسی کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں وہ اچھا نہیں بلکہ ان کے لئے براہے وہ جس مال میں کنجوسی کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے گلے میں طوق بنا کران کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اورآسمانوں اورزمین کا وارث اللہ ہی ہے اورجوتم عمل کرتے ہو اللہ کومعلوم ہے۔‘‘ القصہ فروٹ کی دکان پر پہنچا توایک کلو آم جو دوروزے قبل ایک سو بیس روپے میں فروخت ہورہے تھے وہ اب ایک سو اَسی روپے کلو میں فروخت ہورہے تھے،آم فروش بارونق ملتان روڈ پر سرِعام سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگارہا تھا میرا جان پہچان اورحیاء کرنے والا دکان دارہے میں نے عرض کیا جناب روزہ نہ رکھنا الگ بات ہے کم ازکم روزے کے احترام کو تو عزت دو بسا اوقات اگر عبادت قبول نہ ہو تو احساسِ ندامت قبول ہوجاتی ہے، میری بات سن کر چند لمحوں کیلئے چونکا پھر جلدی سے سلگتی سگریٹ پھینک کر کہنے لگا خدا کی قسم رانا بھائی آپ کی احساس بھری بات ضمیراور دل پر لگی آئندہ آپ مجھے ماہِ رمضان میں کبھی بھی سرعام سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھو گے ۔
ضمیر جاگ تو جاتا ہے اگر زندہ ہو
کبھی گناہ سے پہلے کبھی گناہ کے بعد
واپسی پرراستے میں ایک پرانا دوست مل گیا چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی حال چال پوچھنے کے بعد پوچھا آج کل کیا کام ہورہا ہے جناب؟میرا سوال سن کردوست کوئی خاص جواب نہ دے سکاباتوں باتوں میں پوچھا آپ کا ایک ارب پتی تایاجان بھی تو انگلینڈمیں رہتا ہے آپ کے ساتھ کچھ تعاون وغیرہ کرتا ہے؟ٹوٹے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتے ہوئے بولا ہاں رانا بھائی فیس بک پر فرینڈ لسٹ میں ہے ان کی پوسٹس نظروں گزرتی رہتی ہیں ان کی اکثر پوسٹوں میں روٹیوں سبزیوں ،مچھلیوں اور پتوں میں ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا دکھایا جاتا ہے لیکن ہماری آنکھوں میں بے بسی کی چمک اسے نظرنہیں آتی کوئی بات نہیں اللہ مالک ہے، عزیز قارئین جنہیں احساس ہی نہ ہو ان کے ساتھ گلے کیسے، شکوے کیسے؟
بہتر ہے کہ نہ ڈالوستاروں پہ کمندیں
انساں کی خبرلوکہ وہ دم توڑرہے ہیں
اللہ رحیم و کریم قرآن پاک میں فرماتا ہے رشتے داروں کو ان کا حق اداکرواوراس بارے میں نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ کسی مسکین پرصدقہ کرناصرف صدقہ ہے اور یہی صدقہ کسی غریب رشتے دارپرکیا جائے تواس کی حیثیت دوگنی ہوجاتی ہے ایک صدقہ کی اوردوسری صلہ رحمی کی۔‘‘رمضان المبارک احساس، سخاوت ، غمگساری ،رحمتوں ،برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں سخاوت کرنے کوکہا گیا ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ ماہِ رمضان میں تیزآندھی سے بھی زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن اوررمضان کی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


ای پیپر