اللہ دیکھ رہا ہے۔۔۔
03 جون 2018 2018-06-03

حضرت عمر فاروقؓ کہیں جا رہے تھے راستے میں ایک مکان سے ماں بیٹی کی گفتگو کی آواز آئی تو رک گئے، ماں بیٹی سے کہہ رہی تھی جلدی سے بکریوں کا دودھ دھو لواور اس میں تھوڑا پانی بھی ملا دینا، بیٹی انکار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کا دور ہے میں یہ کام ہرگز نہیں کر سکتی تو ماں آگے سے کہتی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کونسا اس وقت دیکھ رہے ہیں تو لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو دیکھ رہا ہے ، یہ سن کر جناب حضرت عمر فاروقؓ تشریف لے آئے اور پوچھا کہ فلاں گھر کس کا ہے پتہ چلنے پر بیٹے کیلئے اسی لڑکی کا رشتہ مانگ لیا صرف یہ سوچ کر کہ جسے اللہ کا ڈر ہے وہ لڑکی کتنی پاکباز اور خوف خدا رکھنے والی ہوگی۔

ہم بھی خوف خدا رکھنے والے ہیں تبھی تو دودھ کی مقدار بڑھانے کیلئے انجکشن استعمال کرتے ہیں کیمیکل کا استعمال ہوتا ہے دہی کی تیاری میں بھی نہ جانے کون کون سی گند بلا ڈالتے ہیں اس کے باوجود کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم بے ایمانی سے باز نہیں آتے، پہلے یہ اندیشہ نہیں ہوتا تھا کہ سبزیاں بھی ناقص ہونگی مگر اب سبزیاں بھی کیمیکل سے پاک نہیں ملتیں، پھلوں کو ہی لے لیجیے ان میں بھی دو نمبری چلنے لگی ہے کبھی سوچا نہ تھا کہ سبزیوں میں بھی ہیرا پھیری ہوگی اس کے باوجود کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم چور بازاری سے باز نہیں آتے۔

جان بچانے والی ادویات دو نمبری سے بھی آگے تک جا پہنچی ہیں، ٹیکہ لگتے ہی بندہ میانی صاحب پہنچ جاتا ہے کسی کی مجال کہ کوئی مافیا پر ہاتھ ڈالے، اگر کوئی کارروائی کرتا بھی ہے خانہ پری کیلئے تو مگر مچھ ہڑتال کر دیتے ہیں، جانوروں کیلئے تیار ادویات انسانوں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں، ایک کمپنی ملتے جلتے دوسرے ناموں سے کئی کئی ادویات تیار کر رہی ہیں، پچھلے دنوں اسی سلسلے میں میڈیکل سٹوروں کی ہڑتال ہوئی آخر حکومت کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑے ہمارا کامل یقین ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اس کے باوجود جگہ جگہ جعلی ادویات کا دھندہ عروج پر ہے ۔

فلور ملز مالکان ناقص گندم پیس پیس کر شہریوں کوکھلا رہے ہیں، آٹے میں گندم کم اور سوکھی روٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کے علاوہ بھی نا جانے اور کیا کیا اس میں مکس کیا جاتا ہے اور تھیلے پر لکھا ہوتا ہے نمبر ون آٹا، نمبر ون تو واقعی ہوتا ہے لیکن بے ایمانی میں؟ روٹی توڑنے پر بندہ اپنی بے عزتی کروا لیتا ہے اس لئے کہ اس میں ویسے تو جان نہیں ہوتی لیکن نہ جانے کیا ملاوٹ کی ہوتی ہے کہ ماڑے بندے سے چبائی ہی نہیں جاتی اور یہ سب کچھ سرکاری محکموں کی آشیر باد سے ہو رہا ہے ، ہے کوئی جو انکو روکے ٹوکے، جو روکے ٹوکے گا اگلے دن نوکری پر نہیں ہوگا، آٹا کے نام پر فلور ملز مالکان سیاستدانوں کے ڈسے عوام کو زہر کھلا رہے ہیں، یہاں سب چلتا ہے اس لئے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔

ہوٹل مالکان کو ہی لے لیں الا ماشاء اللہ ناقص کھانے دیدہ دلیری سے کھلائے جا رہے ہیں، اکثر کالا پیلا یرقان پھیلا رہے ہیں، جہازی سائز کے بورڈ لگا کر لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے اخبارات، چینلز اور کیبل والوں کی خدمات بھی حاصل کی جاتیں ہیں صرف اور صرف دھندے کو عروج دینے کیلئے، انتظامیہ نے آنکھوں پر کالی پٹی باندھ رکھی ہے انہیں مٹھی گرم کرنے کے بدلے سب اچھا نظر آتا ہے ، کھانوں میں ناقص گھی، ناقص مصالحہ جات استعمال کیے جاتے ہیں جس سے پیٹ کی بیماریوں سمیت دیگر موذی امراض بھی جنم لیتی ہیں، کاروبار دھڑلے سے جاری ہیں اس لئے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔

جانوروں کی انتڑیوں سے گھی تیار کیا جا رہا ہے اسی گھی سے بازار میں سموسے پکوڑے اور کھانے تیار کیے جاتے ہیں جنہیں کھا کر کئی لوگ ہسپتال اور کئی سفر آخرت کو چلے جاتے ہیں، پنجاب فوڈ اتھارٹی آئے روز کارکردگی شو کرنے کیلئے اخبارات میں تصویریں چھپواتی ہے لیکن نہ جانے جانوروں کی انتڑیوں سے گھی کے نام پر زہر تیار کرنے والے فوڈ اتھارٹی کو کیوں نظر نہیں آتے حالانکہ ناقص گھی تیار کرنے والوں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔

ملاوٹ مافیا ہر جگہ حکمرانوں کا منہ چڑا رہا ہے کہ کر لو جو کرنا ہے ، مجال ہے کہ کسی ایک کیخلاف کارروائی ہوئی اور سزا ملی ہو پسی ہوئی سرخ مرچیں اب کھوتے بھی کھا لیتے ہیں کبھی بندہ زبان پر سرخ مرچیں رکھتا تو سی سی ہو جاتی تھی، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ڈال کر مافیا دھندے کو پروان چڑھا رہا ہے شائد انہوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے تبھی تو نہ محکمہ ہیلتھ کو نظر آتے ہیں نہ پولیس کو؟ نمک کے نام پر بھی دو نمبری ہو رہی ہے گند مند پیس کر لوگوں کو کھلایا جا رہا ہے ، کوئی انہیں بتائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، ہم عاشق رسولؐ بھی ہیں، عاشق صحابہؓ بھی ہیں، عاشق اہل بیتؓ بھی ہیں، بزرگوں کے ماننے والے بھی ہیں مگر عمل نام کی کوئی بات نہیں ہم میں ورنہ جو گند ہم دنیا میں پھیلا رہے ہیں اس سے اجتناب کریں کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔


ای پیپر