خواب ،کتاب اور ہم
03 جون 2018 2018-06-03

کتابیں زندہ بھی ہوا کرتی ہیں ،زندہ لفظوں کے ساتھ مہکتی ، بولتی ،گنگناتی ،ہنستی مسکراتی،روتی ،رلاتی اور راستہ دکھانے والی بھی ہوتی ہیں ۔یہ روح جھنجوڑنے،جگانے، اور سنبھالنے والی بھی ہوتی ہیں،ایسی کتابوں کو سینے سے لگا کر رکھنا چاہئے جو آپ کے من کو تبدیل کردیں۔کتابوں کے بغیر گھر کا تصور بھی ناممکن ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور موبائل کی بھرمار نے ہمیں کتابوں سے دور کر دیا ہے ۔اس کے باوجود کتاب کی اہمیت مسلّمہ ہے۔زندہ قومیں کتاب دوستی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں اور کتاب کلچر کے فروغ ،کتابوں کی اشاعت و ترویج کے لئے ہمہ وقت اقدامات کرتی رہتی ہیں ۔ہمارے ہاں کتاب کلچر آخری سانسیں لے رہا ہے۔لائبریریاں اول تو کتابوں کامدفن بن چکی ہیں یا اگر وہ کچھ بہتر حالت میں ہیں بھی تو وہاں کوئی قاری نہیں ۔ یہ لمحہ ءفکریہ ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب کی طرف قارئین کو مائل کیا جائے ۔لائبریریوں کو فعال بنانے کے اقدامات کئے جائیں ،مگر ہمارے ہاں حکومتی سطح پر بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جاتی ۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے کتنے ممبران ہیں جو کتاب سے محبت کرتے ہیں اور باقاعدہ کتابیں پڑھتے ہیں۔کاش امریکہ اور یورپ کی طرح ہمارے ہاں بھی ایسے لیڈر ہوتے جو کتب بینی کا شوق رکھتے ۔مگر ہمارے لیڈر ز میں سے تو اخبار تک پڑھنے والے بھی دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونگے۔کتاب اور قاری کے حوالے سے یہ ساری باتیں ہمیں اس لئے یاد آرہی ہیں کہ ہمار ے ایک ادب دوست اور لکھاری شاہد بخاری نے اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ شاہد بخاری ریٹائرڈ بینکار ہیں ان دنوں سماجی اور ادبی خدمات کے لئے خود کو وقف کئے ہوئے ہیں، کئی ادبی پرچوں کی ادارتی معاونت کرتے ہیں ۔ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے کالم بھی لکھتے ہیں ۔ ان دنوں وہ اپنے گھر کے قریب ایک ریڈنگ روم بنانے پر تلے ہوئے ہیں ، کہتے ہیں فیصل ٹاﺅن اور ٹاﺅن شپ میں کوئی لائبریری یا ریڈنگ روم نہیں ہے ،فیصل ٹاﺅن ڈی بلاک کے مسجد کے قریب پارک میں ایک کمرہ خالی ہوا ہے اس میں اگر ڈی جی پی ایچ اے اجازت دیں تو اس کمرے کو مفت ریڈنگ روم یا لائبریری بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ڈی جی صاحب کو باقاعدہ درخواست دے رکھی ہے ۔ اس کی کاپی ہمیں بھی ارسال کی گئی ہے ۔شاہد بخار ی معصوم آدمی ہیں ،ان کا خیا ل ہے کہ اگر کالم میں اس مسئلے کو موضوع بنایا جائے تو ڈی جی صاحب اور ان کا ماتحت عملہ اس خالی کمرے کو منہدم کرنے کے بجائے ،اسے ریڈنگ روم بنانے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ شاہد بخاری کی یہ خوش گمانی ہمیں اچھی لگی ہے اور ہم اس کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں مگر ہمارے ہاںایسے سنجیدہ معاملات میں دلچسپی عموماََ نہیں لی جاتی ۔یہاں سرکاری لائبریریوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ،چہ جائیکہ کوئی نیا ریڈنگ روم بنایا جائے۔تاہم شاہد بخاری کا جذبہ قابل تحسین ہے کہ وہ کتاب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ڈی جی پی ایچ اے کے نام اپنی درخواست میں لکھتے ہیں:
” جامع مسجد ڈی بلاک فیصل ٹاﺅن کے ساتھ پارک میں ٹیوب ویل کے لئے نیا کمرہ بن چکا ہے ،پرانا چیمبر اب خالی ہونے پر اسے منہدم یا مسمار کر دیا جائے گااگر وہ کمرہ علاقے کے لوگوں کے لئے ایک ریڈنگ روم کی شکل بنا دیا جائے تو اس علاقے کے نوجوانوں کے لئے مفت کتابوں کا بندبست ہم کر دیں گے ، کہ ہمیںاہل قلم کا تعاون حاصل ہے۔ اس سے قبل ٹاﺅن شپ اور فیصل ٹاﺅن میں ایسی کوئی لائبریری موجود نہیں۔میرا کسی سیاسی یا مذہبی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں،میرا مقصد صر ف اور صرف کتاب کلچر کو فروغ دینا ہے ۔“
اللہ کرے شاہد بخاری اور ان کے ساتھیوں کے دل کی مراد بر آئے اور وہ اپنے علاقے میں ایک فری اسپرانتو لائبریری بنانے میںکامیاب ہو جائیں۔یہ عمل واقعتاََ ایسا کام ہے جس سے اس علاقے کے نوجوان ،بچے بزرگ کتاب کی طرف مائل ہو سکتے ہیں ،اس مادی دور میں لوگوں میں آگہی اور شعور پیدا کرنے کے لئے ،انہیں کتب بینی کی طرف لانا بہت ضروری ہے ۔ آگہی اور شعور سے انسان میں عجز و انکسار، برداشت،برد باری اور امن و محبت اور اخوت فروغ پاتے ہیں۔ورنہ نئی نسل کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ہر ہاتھ میں موبائل ہے ،ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد اپنے اپنے موبائل پر مصروف ہیں، پاس رہ کر بھی ہم ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔اگلے روز ایک ویڈیو کلپ دیکھا ۔ جس میں ایک نوجوان اپنے دوستوں سے کہہ رہا تھا: ” یار کل جب کافی دیر انٹر نیٹ نہ آیا تو میں اپنے کمرے سے نکل کر گھر والوں کے پاس کھانے کی میز کے گرد بیٹھ گیا ۔ بڑا مزا آیا ہے ،بہت مزیدار ڈسکشن ہو رہی تھی ، یار میرے گھر والے بھی اچھے خاصے معقول لوگ ہیں “
ہمارے بیشتر نوجوانوں کا یہی حال ہے ،وہ گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے کٹے ہوئے ہیں ۔اگر ان میں شروع ہی سے کتب بینی کی عادت ڈالی جاتی ،تو آج وہ زیادہ سنجیدہ شائستہ اور مہذب ہوتے ۔ اس وقت تو سبھی چڑچڑے اور غصیل ہو چکے ہیں ،مسلسل کمپیوٹر اور موبائل کے استعمال نے ان کے اعصاب شل کر دیئے ہیں۔جس سے ڈپریشن کی بیماری عام ہورہی ہے۔ بات کتابوں کی ہورہی تھی ،آج ہی شاہد بخار ی کی مرتب شدہ کتا ب تعلیمات قرآنی بھی موصول ہوئی ،رمضان المبارک میں قرآن فہمی کے لئے یہ کتاب ایک گراں قدر تحفہ ہے۔کتاب میں ہر سورہ کے بارے میں نہ صرف تفصیلات بلکہ اس کا تعارف اور مفاہیم بھی موجود ہیں۔اسے ۶۵۱ ڈی فیصل ٹاﺅن سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔آج ہی ایک اور اہم کتاب بھی ملی ہے جس کی مصنفہ ثوبیہ نورین نیازی ہیں۔ثوبیہ سے صرف ٹیلی فونک رابطہ ہے وہ ہمارے ادبی قبیلے کے سردار ڈاکٹر اجمل نیازی کی فین ہیں ،انہی کے انداز میں نرم ،دلنشیں، اور فکر انگیز نثر لکھتی ہیں ۔ ان کے نثر پارے اکیسویں صدی کے ٹوٹے پھوٹے انسانوں کے لئے روشنی اور امید کا پیغام ہیں ۔ ثوبیہ نہایت سادہ اور بامعنی مضامین لکھتی ہیں،شکر گڑھ کالج میں پڑھاتی ہیں ،وہ اپنے سماج کے لئے دردمندی سے لکھتی ہیں ، انکی تحریریں سوچنے والوں کو متوجہ اور متاثر کرتی ہیں ۔ ” کبھی دیکھ پلٹ کر“ کے نام سے شائع ہونے والی ثوبیہ نیازی کی یہ کتاب قلم فاﺅنڈیشن انٹر نیشنل نے نہایت خوبصور ت گیٹ اپ میں شائع کی ہے اس پر ڈاکٹر اجمل نیازی کے علاوہ روزنامہ خبریں کے مدیر اعلیٰ ضیا شاہد ،عبدالستار عاصم اورندیم اختر ندیم کی آراءبھی شامل ہیں ، عبدالستار عاصم نے تو ثوبیہ کو مستقبل کی بانو قدسیہ قرار دیا ہے۔اللہ کرے ثوبیہ اسی طرح لکھتی رہیں اور اپنے سنیئر سے داد وصول کرتی رہیں ۔ رمضان المبار ک کا مہینہ ہے اسی مناسبت سے اپنے نعتیہ اشعار پیش کر کے اجازت:
آنکھیں سجود میں ہیں تو دل کا قیام ہے
حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے
اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ
اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے
دل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں
اس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے
میں سوچتا ہوں غارِ حرا میں گزار لوں
دل کے سفر میں ایک مہینہ قیام ہے
سجدہ ضرور آئے گا اگلے پڑاﺅ میں
فی الوقت تو یہ سارا زمانہ قیام ہے


ای پیپر