اللہ کا سُودکے خلاف سپہ سالار؟
03 جون 2018

قارئین کرام ، میں ہمیشہ آپ سے دل کی بات کرتا ہوں، بلکہ میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے اجازت دی ہے کہ آپ کے دل کی بھی بات کروں، بہت عرصہ پہلے مجھے مشہور پاکستانی اینکر نورالحسن صاحب کا فون آیا تھا، کہ ان کے والدمحترم فیض صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے بیٹے کی ڈیوٹی لگائی کہ تم نے مجھے نواز میرانی سے ضرور ملوانا ہے، کیونکہ جس شخص نے اپنے کالم کا عنوان ”کلمہ حق“ رکھا ہوا ہے، ظاہر ہے اس نے یہ ”عنوان“ سوچ سمجھ کر رکھا ہوگا اور یہی بات نورالحسن نے مجھے فون پہ بتائی، اور ایک خاص بات بھی انہوں نے مجھ سے کی، کہ آپ اس بات کا برا مت منائیے گا ، کہ میں والد محترم کو ملاقات کے لیے کیوں نہیں لارہا، دراصل میرے والد صاحب کوخاصا عرصہ ہوگیا ہے۔ وہ گھر کے اندر ہی رہتے ہیں اور گھر سے باہر کسی تقریب کے لیے بھی نہیں جاتے۔
میں نے انہیں جواب دیا، کہ میں ضرور حاضر ہوں گا، مجھے گھر کا پتہ سمجھا دیجئے، اور ایک بات میں نے نورکو بتائی، کہ میرے اور آپ کے والد ہم نام ہیں، میرے والد صاحب کا نام بھی ”فیض محمد خان“ ہے۔ جن کے نام کے معنی ہی انتہائی خوبصورت ہیں۔ مجھے نورصاحب کے والد محترم کی گھر سے باہر بالکل نہ نکلنے کی بات انوکھی، اور عجیب وغریب اس لیے نہیں لگی، کہ یہ بات میں پہلے بھی سن چکا ہوں، مجھے کسی نے بتایا تھا، کہ لارنس روڈ ، باغ جناح کے سامنے گیلانی ہاﺅس ہے، جوکہ مخدوش حالت میں ہے، لیکن ”لان“ ختم ہونے کے بعد کھنڈر نما گھر میں کچھ کمرے ایسے ہیں، جن کو مکینوں نے مکان کا نام دے رکھا ہے، اور گیلانی صاحب کا مسکن بھی ان میں سے ایک کمرہ ہے، اتفاق سے میں نے یہ بات جسٹس (ر) میاں نذیر اختر صاحب سے کی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی، اور بتایا کہ میری بھی ان سے ملاقات ہے، گیلانی صاحب نہایت نیک انسان ہیں اور وہ کچھ لوگوں سے ملاقات کرلیتے ہیں۔ میاں نذیر اختر صاحب، اور اشفاق احمد کی خوبیوں میں ایک بات مشترکہ ہے، کہ یہ دونوں حضورﷺ کی ذات صفات سے منسوب کسی بھی شخص سے خواہ وہ مجذوب ہو، فقیر ہو، درویش ہو ، یا عالم ہو، ملنے کے لیے اور ان کے گھر کی دستک دینے کے لیے داستان سرائے والے، اور جج صاحب، ہمیشہ اور ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ کسر نفسی اور خاکپائی کی یہ بہترین مثال ہے۔ بقول حفیظ تائبؒ
بنتا ہے وہ اک چہرہ کبھی گل، کبھی شعلہ
سانچے میں خیالوںکے جو ڈھلتا ہے سرشام
کل میں نور کارمضان المبارک کا پروگرام دیکھ رہا تھا، آج کل جو رسم ورواج چل پڑا ہے کہ ہرپروگرام، موٹرسائیکل، گاڑیاں، فریج ، اے سی حتیٰ کہ بحریہ ٹاﺅن میں گھر کی چابی تک دے دی جاتی ہے، نور بھی اپنے ہاتھوں میں پیکٹ پکڑ ے جوں ہی، لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے آگے ناظرین کی جانب بڑھے، تو تمام لوگوں نے تحائف لینے کے لیے بے تحاشہ ہاتھ آگے کردیئے، تو نور نے فوراً کہا کہ ”میرے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں“ مجھے شرم آتی ہے۔ مجھے ان کا کہنا بےحد اچھا لگا، اور دل سے ان کے لیے دعائیں نکلیں، میں بھی تو ان کے والد محترم سے دعائیں لے چکا تھا، ان سے ملنے کے کچھ عرصہ بعد اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ اور ان کے حبیب ﷺ کی طرف سے مجھے عمرے کی سعادت کے لیے بلاوا آگیا، وہاں میں نے ہرمقام پہ ان کے لیے دل سے دعائیں کیں، نوافل ادا کیے وہاں جن لوگوں کے لیے میں دل سے دعا گو رہا، ان کے نام یہاں لکھنا اس لیے بھی مناسب نہیں کہ ان میں سے ایک شخصیت کے ساتھ میرے تعلقات ”یک طرفہ“ طورپر کشیدہ ہیں، مگر میں ہمیشہ دعا مانگتا ہوں، تو میرے الفاظ کچھ اس طرح سے ہوتے ہیں، کہ اے ذوالجلال والاکرام ، میرے دوست ، دشمن اور احباب کو دین، دنیا، اور آخرت، کی بھلائیاں عطا فرما، اور ازل سے ابد تک تمام مسلمان جن وانس مومن، مومنات، اور میرے جسمانی و روحانی والدین کے درجات بلند فرما۔ مجھے نورالحسن کی آنکھوں سے بار بار چھلکتے آنسو بے حد پسند ہیں، مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کے دیار غیر میں درددل کی خبر ڈاکٹروں سے پہنچتی ہوئی، مجھ تک پہنچی تو میں بے ساختہ بولا کہ ڈاکٹروں کو تو اب پتہ چلا ہے میں تو ان کے درددل سے مدتوں پہلے آگاہ تھا تو خدا گواہ ہے، بات بات پہ نورالحسن کی طرح آنسو میری آنکھوں سے ایسے رواں ہوئے، کہ پورا خاندان مجھے توکل کی تلقین کرتا، مگر میرے دل کو تو پتہ تھا کہ پوری امت کا درد لیے یہ شخص دل تھامے اور دل جلائے دلداری امت کے لیے دریادل ، دل جمعی کے ساتھ تونگری کا دل اور دل پہ میل لیے بغیر ہزاروں میل دور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی عملی تفسیر بن کر ، جنت، دوزخ کی طمع کے بغیر وہاں جا پہنچا ہے کہ جس کے نزدیک فاصلوں کے تکلف کوئی معنی نہیں رکھتے۔ عاشقان نبی اِسی لیے تو کہتے ہیں کہ
فاصلوں سے تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارہ نہیں!
خود انہیں کو پکاریں گے ہم دورسے
راستے میں اگر پاﺅں تھک جائیں گے
مجھے کوئی غرض نہیں کہ یہ بے غرض شخص، کتنی کمیٹیوں کا چیئرمین ہے، مجھے اس سے بھی کوئی سروکارنہیں کہ ان کے تعلقات، ریڑھی والوں سے ہیں، یا اندرونی و بیرونی حکمرانوں سے ہیں۔
قارئین محترم، مجھے تو صرف اتنا پتہ ہے کہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے انہیں کیوں منتخب فرمایا ہے، آخر اس میں کوئی خوبی تو ہے، کہ جو یہ اکیلا و تنہا شخص سود کے خلاف خم ٹھونکے کھڑا ہے،صرف اس لیے کہ اللہ ، اس کے ساتھ ہے، قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے، کہ میری سود والوں کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔
اور اس جنگ کاسپہ سالار“ اللہ نے ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو مقرر کیا ہے، یہ اتنا بڑا اعزاز ، کہ اس پر رسول پاک ﷺ کی پوری عمر کو فخر ہے، حضورﷺ کی اتباع میں انہوں نے اور ایسا کام کیا ہے، کہ جو صرف امتوں کی نہیں آپ کی اور میری زادِ راہ ہے، وہ اخوت یونیورسٹی بنارہے ہیں، جہاں مستحق طلبا کو مفت تعلیم دی جائے گی، آپ ﷺ نے تعلیم پہ اتنا زور دیا تھا، کہ قیدیوں کو رہائی دینے کی شرط رکھی ، کہ جو قیدی مسلمانوں کو پڑھائے گا، اسے رہا کردیا جائے گا اب اگر ایک محمد عربی کا غلام ابن غلام اس کام پہ کمر بستہ ہے، تو اپنی مرضی سے سو روپے، ہزار روپے یا لاکھ روپے، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، ان کے عظیم منصوبے کی نذر کردیں، تو اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں دوزخ سے رہائی دے دے گا اگر کھجور کا ایک ٹکڑا بڑھ کر اُحد پہاڑ کے برابر ہوسکتا ہے، تو ہمیں پھر اور کیا چاہیے، براہ کرم میرے کہے کی لاج رکھیں، اور عطیات اور زکوٰةبینک اسلامی 201100116060201یا 042-111-448حضرت اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پیدا


ای پیپر