کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ اور دہشت گردی کی جڑیں
03 جولائی 2020 (15:48) 2020-07-03

ٰیہ وقت ہے جبکہ وطنِ عز یز کے سیکیو رٹی ادا رو ں کی جتنی تعر یف کی جا ئے کم ہے۔پیر کے رو ز پا کستان سٹا ک ایکسچینج پر دہشت گر دوں کا حملہ کو ئی معمو لی بات نہیں تھی۔ بلکہ مبصرین کے مطابق سٹاک ایکسچینج پر حملے اور کراچی میں قائم چینی قونصلیٹ میں مماثلت ہے ۔مگر جس بہا دری ، جوا نمر دی، ادر اعتما د سے ڈیو ٹی پہ مو جو د سیکیو رٹی گا ر ڈز نے نہ صرف اس حملے کو پسپا کر دیا بلکہ چاروں دہشت گر دو ں کو مو قع پہ ہلا ک کیا،وہ دنیا بھر میں پا کستان کی نیک نا می کا با عث بنا۔انتہا پسند قوتوں نے کراچی کو اس وقت ٹارگٹ کیا جبکہ ملک کورونا کے خطرناک وائرس سے نمٹنے کے ساتھ ایک اعصاب شکن سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ سٹاک ٹریڈنگ میکنزم آن لائن تھا، کاروبار جاری تھا، دہشت گردوں نے شہر قائد کو اپنے گھنائونے مقاصد کے تحت ٹارگٹ کیا ہے۔ حملہ کے فوری بعد سٹاک ایکسچینج کی بلڈنگ کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔ ابتدائی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دہشت گرد سائوتھ زون کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نیٹ ورک ملک بھر میں ابھی تک فعال ہے اور ان کے ہینڈلرز، سہولت کار، ماسٹر مائنڈز اور سلیپنگ سیلز شہر قائد سمیت دیگر مقامات میں ایکٹو بتائے جاتے ہیں۔ پولیس اور رینجرز حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کی گاڑی بھی تحویل میں لے لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 سے 3 مشتبہ افراد کو پولیس نے جائے وقوعہ سے گرفتار کیا ہے۔ سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے 2 مرکزی دروازے ہیں۔ پہلا دروازہ آئی آئی چندریگر روڈ اور سٹیٹ بینک سے متصل ہے۔ پہلے دروازے سے بیریئر سے گزرنے کے بعد صرف خصوصی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ سینٹرل پولیس آفس CPO بھی چند فرلانگ پر موجود ہے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ سے ٹاور، بولٹن مارکیٹ سمیت آئی آئی چندریگر روڈ پر بھگڈر مچ گئی۔ لیکن سیکورٹی کارروائی کے فوری نتائج سامنے آنے اور حملہ میں ملوث افراد کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد حالات پر قابو پالیا گیا۔ نیٹی جیٹی، آئی سی سی اور آئی آئی چندریگر روڈ کو جلد کلیئر کرنے کے بعد ٹریفک بحال کردی گئی۔ دہشت گردوں کے عزائم اور اٹیکنگ سٹریٹجی کے بارے میں اطلاعات ابھی تحقیقاتی مراحل میں ہیں۔ تاہم دہشت گردوں کی آمد کے تین راستے تھے۔ ایک ٹاور اور نیٹی جیٹی سے، دوسرا بولٹن مارکیٹ یا آئی آئی چندریگر روڈ اور تیسرا امکان ریلوے گودام کے مقابل آنے والی سٹریٹ سے ہوسکتا تھا جو اولڈ ایریا کے علاقہ کا ایک راستہ ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کا اپنا نجی سیکورٹی نظام ہے۔ داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور ہر آنے جانے والے فرد کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے۔ عام طور پر بکتر بند گاڑی سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مسلسل گشت کرتی رہتی ہے۔ احاطے پر 5 مسلح سیکورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، 2 مرکزی دروازوں سے سٹاک

ایکسچینج کے احاطے میں مجموعی طور پر 20 اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔ داخلی دروازے سے دائیں جانب انتظامیہ، سی ای او وار بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دفاتر جبکہ بائیں جانب ٹریڈنگ ہال، بروکرز اور ڈائریکٹرز کے دفاتر ہیں۔ گرائونڈ فلور پر مختلف بینکوں کے دفاتر ہیں۔ کورونا وبا کے باعث پہلے ہی سٹاک ایکسچینج اور بینکوں میں محدود سٹاف آرہا تھا۔ اکثر دفاتر اور بینک کورونا کیس مثبت آنے پر بند تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک نے سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اعصابی جنگ شروع کی ہے جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام کو ہوا دینا اور اپوزیشن جماعتوں کی محاذ آرائی کو مزید شہ دینا ہے۔ سیاسی حلقوں کے خیال میں دہشت گرد ایک خاص ٹائمنگ کے تحت شہر قائد کو ہدف پر لینا چاہتے تھے، انہیں بھس میں چنگاری بھڑکانا تھی جس میں وہ ناکام رہے۔ لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ اس واقعہ کو روایتی انداز میں بھارت اور ’’را‘‘ کی سازش قرار دے کر داخل دفتر نہ کیا جائے کیونکہ دہشت گرد پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کراچی کو زک پہنچانا چاہتے تھے۔ ان کا حملہ پاکستان کی معیشت و سلامتی پر تھا۔ دہشت گرد اگر ایکسچینج کی عمارت میں داخل ہوجاتے اور ان کی لڑائی طول پکڑ جاتی تو نقصان کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہوجاتا۔ دشمن چاہے بھارت ہو یا عالمی طاقتیں یا اندر کے مضطرب سیاسی دھڑے، سب نے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ اٹکائے ہوئے ہیں۔ سب غصیلے بھینسے Bull Raging بنے ہوئے ہیں۔ جن کے نتھنوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ ایسی صورتحال دہشت گرد نیٹ ورک اور کے فعال اور آزمودہ کار سہولت کاروں کے لیے سود مند ثابت ہوتی ہے۔ حکمرانوں کو بلوچستان کی سیاسی حساسیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ فاٹا میں طالبان پھر سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد، تخریب کاری اور تصادم کی صورتحال پیدا کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کے اداروں اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے مڈبھیر کا کیا مقصد ہے۔ ارباب اختیار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ میڈیا ملا منصور کی ریاست دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے ان کی پاکستان کے مختلف علاقوں میں املاک اور جائیداد کی تفصیل دے چکا تھا۔ وہ مارا گیا لیکن اس کے سہولت کار اب بھی اپنا وجود رکھتے ہیں، ان کی فعالیت کی نشان دہی دہشت گردی کے حالیہ واقعہ سے ہوتی ہے۔ دہشت گردی ایک مائنڈ سیٹ، ذہنیت اور کیفیت کا نام ہے۔ ملک میں سیاسی ہلچل ہے۔ تجزیہ کاروں نے حکومت سے نوشتہ دیوار پڑھنے کی استدعا کی ہے۔ خدارا سنجیدہ آوازیں سنی جانی چاہئیں۔ وقت احتساب اور خود احتسابی کا ہے۔ وزیراعظم خوشامدیوں اور مفاد پرستوں سے دامن چھڑائیں۔ ان مانجھیوں سے دور رہیں جو نیا ڈبونے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عوام کے پاس آج کوئی ’’چوائس‘‘ نہیں، جو کچھ کرنا یا جو انقلاب اور تبدیلی لانی ہے وہ حکومت ہی نے لانی ہے۔ یہ کیا کسی پاکستانی جولیس سیزر کی طرف سے آیا ہوا پیغام ہے؟ پھر ضیاء الحق یا جنرل پرویز مشرف کے انداز فکر کی کارستانی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہوچکی ہیں۔ اب حکمرانی صرف موجودہ حکومت کا حق ہے۔ لیکن فہمیدہ عناصر خبردار کررہے ہیں کہ جمہوری عمل کے پیروں تلے زمین کھسک رہی ہے۔ کسی بیرونی طاقت اور جارح دشمن سے حکمرانوں کو اتنا خطرہ نہیں جتنا اپنوں سے ہوسکتا ہے۔ مگر حکومت کے لیے اب بھی وقت ہے کہ دہشت گردی کے ڈنگ سے سسٹم کو بچائے، وژن اور تدبر سے کام لے۔ سیاسی موسم گرما گرم ہوتا جارہا ہے، حکمران اپنے پیدا کردہ سیاسی منظر نامہ کے اسیر نہ بنیں، عوام کو ریلیف دیں، کورونا اور مہنگائی کو مار ڈالیں۔ غربت بڑھ گئی ہے، کورونا نے مجبوروں کو تگنی کا ناچ نچادیا۔ معیشت کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسے 20 سالہ روگ لگ چکا ہے، لاکھوں افراد بے روزگار ہیں۔ بڑی صنعتیں نیم مردہ ہوچکی ہیں، ریونیو شارٹ فال کے تذکرے آسمانوں میں نہیں ایف بی آر کے سامنے ہورہے ہیں۔ حکومت چومکھی لڑائی لڑنے پر کیوں مجبور ہے۔ محاذ آرائی بند ہونی چاہیے۔ تمام سٹاک ہولڈرز کو مکالمہ کی دعوت دی جائے تاکہ سیاسی درجہ حرات کم ہو۔ سیاست میں ٹھہرائو لانے کی ضرورت ہے۔بے شک ہم نے سٹاک ایکسچینج پہ حملے کو پسپا کیا، مگر اس حملے کے نتیجے میں یہ نہیں بھو لنا چا ہیے کہ دہشت گردی کی جڑ یں ابھی مکمل طو ر پر ختم نہیں ہو ئیں۔


ای پیپر