مودی کا بھارت فسطائی فکر کا شکار
03 جولائی 2020 (15:47) 2020-07-03

دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریہ سمجھا جانے والا بھارت نریندر مودی کے دورِ حکومت میں آر ایس ایس کی فسطائی فکر کا بری طرح شکار ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک عظیم ہندو نیشلسٹ اور تاریخ ساز لیڈر سمجھتا ہے۔ وہ مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کا کٹر مخالف لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر اپنے صوبے کے دو ہزار سے زائد بے گناہ مسلمان مروا دئے اور اس قتل و غارت کے خلاف کوئی عدالتی کاروائی نہ ہونے دی۔ وہ عرصہ دراز سے پاکستان مخالف بیانات دینے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ہمیشہ اپنے پیشرو حکمرانوں پر الزام لگاتا رہا کہ وہ پاکستان کے خلاف بڑی کاروائی کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف کئی فوجی منصوبے بنائے، کولڈ سٹارٹ فوجی حکمتِ عملی اور سرجیکل سٹرائیکس کا منصوبہ بھی آزما لیا جس کا جواب پاکستان کی سخت جوابی کاروائی کی صورت میں سامنے آیا۔ اب اس کے پاس یہی صورت رہ گئی ہے کہ دہشت گردی کی وارداتیں کروائے۔

پاکستان اور چین کے دو طرفہ تعلقات و اقتصادی راہداری کا منصوبہ اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابی یہ سب باتیں بھارت کے لئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اسی لئے چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوج کی شرمناک رسوائی کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے اسٹاک ایکسچینج جیسا دہشت گردی کا واقعہ کروا دیا ، دہشت گردوں کی پشت پناہی میں پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی "را " ملوث ہے۔ کراچی میں امن بھارتی ایجنسی "را" کے لئے فرسٹریشن کا باعث ہے۔ مرار جی ڈیسیائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد ـ" را" کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی۔ اس کی وجہ انہوں نے بیان کی کہ " را" جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرزِ عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی نے اپنے ملک میں انتخابات جیتنے کا آسان نسخہ سجھ رکھا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے داخلی مسائل کا محور بنائے رکھا جائے۔ یوں بھارت کے حقیقی مسائل حل کئے بغیر ہی انہیں اپنے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور خطے میں مستقل طور پر ایک تناؤکا ماحول برقرار رہتا ہے۔ اپنے پچھلے دورِ اقتدار میں مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی ساری دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے۔ مودی نے اسی ایجنڈے پر دوسرے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی چونکہ بھارت کے اقتصادی مسائل بہت زیادہ ہیں تو ظاہر ہے یہی حل وہاں کے سیاستدانوں کو زیادہ آسان لگتا ہے۔

اسی تناظر میں وزیرِ اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو توا کے نظریے پر کاربند مودی حکومت خطے اور ہمسایوں کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔ اس دہشت گردانہ کاروائی کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان نے کھل کر بھارت کے واقعہ میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔ ملک کو بچانے کے لئے ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو جرنیلوں کو آڑے وقت میں حوصلے کے ساتھ ڈائریکشن بھی دے سکے۔ دشمنوں کو آموں کی پیٹیاں، ساڑھیاں بھیجنے اور اپنے بچوں کی شادیوں میں شریک کرنے کی بجائے ان کی جنگی دھمکیوں کا شیر کی دھاڑ سے جواب دینا چاہئے۔ یہ کام صرف سپہ سالار کا ہی نہیں ہے۔ بنیادی طور پر ہماری سیاسی قیادتیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کی بات تو کرتی ہیں لیکن عملی طور پر اس میں خود سامنے آ کر کوئی بڑا کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سیاسی قیادت نے سارا بوجھ فوجی قیادت پر ڈالا ہوا ہے۔ بعض سیاسی لوگ اور سیاسی جماعتوں سمیت اہلِ دانش کا ایک طبقہ اس سارے عمل میں فوج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے اثر نفوذ کو بھی جمہوری نظام کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے مسئلہ محض انتظامی کامیابیوں سے مشروط نہیں ہونا چاہئے، یہ فوری نوعیت کی کامیابی ہوتی ہے جب کہ اصل کام پوری قوم کی فکری رہنمائی کرنا ہے۔ یہ کام فوج نہیں کر سکتی اسے ایک مضبوط سیاسی قیادت، جماعتوں، اہلِ دانش، علمائے اکرام، نوجوان طبقات، میڈیا اور سول سوسائٹی جیسے لوگوں کو اس جنگ سے نمٹنے کے لئے دانشورانہ محاذ پر اپنا مٔوثر کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

دشمن ہماری سر زمین پر ایک ہائبرڈ جنگ چھیڑنے کے لئے سرگرم ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو لسانیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کے نام پر برین واش کر کے ریاست کے مقابلے میں اسلحہ اٹھانے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے مبادا ہزاروںجانوں کی قربانیوں سے آپریشن ضربِ عضب کی جو بے مثال کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں ان کے ضائع ہونے کے خدشات قومی سلامتی اور خود مختاری یعنی پاکستان کی آزادی اور سا لمیت کے لئے خاکم بدہن شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد ملک گیر سطح پر امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بلا تاخیر مٔوثر اور نتیجہ خیز اقدامات کئے جانے چاہیں کیونکہ ایسی صورتحال نہ صرف عوام کے ا عتماد کو مجروح کرے گی بلکہ پوری قومی زندگی پر اس کے ناخوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور بیرونی دنیا میں ملک کی بدنامی بھی ہو گی۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ جب بھی پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہونے لگتا ہے پاکستان میں غیر ملکی اشاروں پر کام کرنے والے ہمارے سیاست دان سرگرم ہو جاتے ہیں اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔


ای پیپر