ہندوستانی فوج کی دہشت گردی
03 جولائی 2020 (15:45) 2020-07-03

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور اور راجوڑی میں ایک بار بھارتی فورسز نے نام نہاد آپریشن کی آڑ میں 2 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ظلم کی انتہا تو یہ ہوئی کہ ضلع سوپور میں قابض بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے شہری کو اس کے تین سالہ نواسے کے سامنے بے دردی سے شہید کیا۔

گزشتہ ماہ جون کے مہینے میں بھارتی فورسز نے مختلف سرچ آپریشنز کے دوران دو لڑکوں سمیت 54 کشمیریوں کو شہید کیا اور پرامن مظاہروں کے دوران 29 شہری بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ‘ چھروں اور آنسو گیس سے زخمی ہوئے۔ 25 گھروں کو لوٹ کر نقصان پہنچایا۔مگر گزشتہ روز جو بھارتی فوج نے ظلم کیا اس کی مثال ملنا نا ممکن ہے۔ قابض فوج نے ساٹھ سالہ شخص کو تین سال کے نواسے کے سامنے شہید کر دیا۔ بچہ عیاد جہانگیر سہما ہوا نانا کی نعش پر بیٹھ کر روتا اور مدد کو پکارتا رہا۔اس واقعہ کی تصویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اس نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جو ایک طویل عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مقتول بشیر احمد خان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کے والد سامان لینے کا کہہ کر گھر سے نکلے تھے تو قابض فورسز نے والد کو کار سے اتارکر گولیاں مار دیں۔عیاد کو بھارتی اہلکار گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اور بسکٹ دلانے کا کہا۔ معصوم ہچکیاں لیکر نانا کو یاد کرتا رہا۔مقبوضہ کشمیر کے شہریوںکا کہنا ہے کہ بھارت نہتے شہریوں کو شہید کرکے الزام پاکستان پر لگا دیتا ہے۔

مقبوضہ وادی کشمیر کی تاریخ کی یہ انتہائی سنگین اور اندوہناک کہانی ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن اور امریکن اقلیتی ایسوسی ایشن آف چائلڈ رپورٹس کی ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے بچوں کی صورتحال کے عنوان سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی سیکورٹی فورسز مقبوضہ وادی کشمیر میں انتہائی

اندوہناک مظالم کرکے انسانی حقوق اورچائلڈ رائٹس کی سنگین ترین خلاف ورزی کرنے کا معمول بنا چکی ہیں۔بھارتی فورسز نے گرفتار کیے گئے معصوم بچوں کو اپنے ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جہاں بہت سے بچوں کی اموات واقع ہوگئیں تو انہیں اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے دہشتگردی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔شوپیاں کے فوجی کیمپ میں کشمیری بچوں پر تشدد کے دوران مائیک لگا کر ان کی چیخ وپکار علاقے بھرکوسنائی گئیں جس سے گرد و اطراف میں دہشت پھیل گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض دہشتگردبھارتی فورسز کی جانب سے کرفیو کانفاذ کئے 300 سے زائد دن گز رچکے ہیں جس کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامناہے ۔ خواتین ، بوڑھے اور بچے ادویات کی قلت اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ وادی میں مکمل لاک ڈاون کی وجہ سے گھروں میں اشیاء خور و نوش ختم ہو چکی ہیں جبکہ بیمار اور بزرگ حضرات ادوایت لینے سے قاصر ہیں۔کشمیر کی وادی میں زندگی سسک رہی ہے، بلک رہی ہے اور سنسان سڑکوں پر ہر جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جبکہ کاروبار زندگی بند اور موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم بچوں کو درپیش مصائب اور مشکلات معلوم کرنے کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ارکان نے حال ہی میں مقبوضہ وادی کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں معصوم بچوں کیساتھ پیش آنیوالے انتہائی اذیت ناک سلوک کے بارے میں اپنی حقائق پر مبنی مفصل رپورٹ مرتب کی۔ مشن میں خواتین حقوق کی کارکن کویتا کرشن، اکانومسٹ جین ڈریز، آل انڈیا ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن کی رہنماء میمونہ مولا، مارکسٹ کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کی خواتین ونگ کی سربراہ اورایک سماجی کارکن ومل بھائی بھی شامل تھیں۔

کمیشن کے ممبران نے گزشتہ سال 9 اگست سے 13 اگست تک سری نگر، سوپور، بانڈی پورہ، اننت ناگ، شوپیاں اور پامپور کا دورہ کرکے وہاں بچوں کو درپیش حالات کے بارے میں ہمہ جہت تحقیق و تفتیش کی۔ اگست میں بھارتی آئین سے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد بھارتی سیکورٹی فورسز اور فوج کے دستوں نے رات کے اوقات میں گرینڈ آپریشن کرکے 13 ہزار سے زائد بچوں کو گھروں کے اندر سکون کی نیند سوتے ہوئے جگا کر گرفتار کیا اور انہیں غیر قانونی طور پر آرمی کیمپوں اور پولیس اسٹیشنوں کے اندر بند کیا گیا۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں معصوم بچوں کو انتہائی سنگین ترین خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔معصوم بچوں کو قیدی بنا کر ان کے والدین کو بھی بلیک میل کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکام نے نابالغ لڑکوں کو گرفتار کرتے وقت ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا اور دوران حراست بھی ان کم عمر بچوں پر تشدد کیا گیا جبکہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے کئی افراد نے ان میں سے کچھ بچوں کو ان کے والدین سے 20 ہزار روپے سے 60 ہزار روپے تک رقم لیکر چھوڑا۔گرفتار ہونیوالے بچوں کے بارے میں والدین اپنی کوششوں کے باوجود بھی یہ معلوم نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے گرفتار بچے اس وقت کہاں ہیں۔

اس لیے وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانیت کش مظالم کو رکوانے کیلئے مداخلت کرے۔ بھارت کی جیلوں کے علاوہ نظربندی اور تفتیشی مراکز میں قید تمام معصوم بچوں کو رہا کرایا جائے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیری بچوں کے قتل ، عصمت دری اوربدسلوکی کے درد ناک واقعات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث افراد کو گرفتار کرکے ان پر فوجداری عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور بچوں کو آزادانہ زندگی گزارنے ،تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے جملہ حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


ای پیپر