میری بستی کا مان :ڈاکٹر مغیث
03 جولائی 2020 (15:44) 2020-07-03

انسانی زندگی کے کچھ المیے عجیب ہوتے ہیں اور بعض تو سوہان روح بن جاتے ہیں۔ رئیس بھائی کا انتقال ہوا تو ادھر ان کے بچے وصیت کے مطابق جلد تدفین کرنا چاہتے تھے اور ادھر ڈاکٹر صاحب چار گھنٹے ایئر پورٹ پر بیٹھے رہے مگر انہیں ٹکٹ نہ مل سکی اس طرح وہ اپنے عزیز بھائی کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے۔ والد کے انتقال کے وقت وہ اس قدر چھوٹے تھے کہ جنازہ میں شریک نہ ہو سکتے تھے۔ والدہ نے آخری سانس لی تو ان کے صحت یابی کی دعا کیلئے ڈاکٹر صاحب لندن سے سعودی عرب روانہ ہو چکے تھے۔ چنانچہ وہ جہاز سے اترتے ہی حرم پہنچے اور اس عظیم ماں کے لیے جس نے بچپن بریلی ، جوانی اور بڑھاپا لاہور اور زندگی کے آخری ایام راولپنڈی میں بتائے تھے، ان کی صحت یابی کی بجائے مغفرت کی پر سوز دعائیں کر کے وطن لوٹ آئے۔ ڈاکٹر صاحب کے سب سے بڑے بھائی قمر الدین ان کے سیاسی پشتیبان تھے۔ وہ سیاسی طور پر تو متحرک نہ تھے لیکن ان جلسے جلوسوں میں ضرور جاتے جن میں ڈاکٹر صاحب کی گرفتاری کا خدشہ ہوتا۔ 1973ء کی تحریک ختم نبوت میں ان کی موجودگی نے ہم سب کو بہت حوصلہ دیا۔ وہ انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان میں ملازم تھے اور ڈاکٹر صاحب کی شادی سے قبل ہی راولپنڈی ٹرانسفر ہو چکے تھے۔ والدہ کا انتقال ان ہی کے پاس ہوا تھا۔ کوئی دو سال قبل علالت کے بعد ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہ کسی خونی رشتے کا واحد جنازہ تھا جس میں ڈاکٹر صاحب شریک ہو سکے اور اب 24 جون کو ہماری بستی کے اس سادہ مگر اہمیت کے حامل مکان کا آخری وارث بھی پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قبرستان میںاس طرح جا سویا کہ اسے لحد میں اتارنے کے لیے کوئی بھائی زندہ نہیں تھا

جب احمد مرسلؐ نہ رہے کون رہے گا

اردوکا متروک محاورہ ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے ہی میں نظر آ جاتے ہیں۔ بچپن ہی میں ڈاکٹر صاحب کے اندر ایک بڑا آدمی چھپا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ہماری بستی کی کچی پکی گلیوں میں کنچے، اخروٹ ، کیڑی کاٹا، گلی ڈنڈا اور پٹھو گرم کھیلا جاتا۔ کبوتروں کی بازیاں لگتیں اور لٹوؤں کی بردیں لگائی جاتیں۔ مگر ڈاکٹر صاحب کو کبھی ایسے کھیلتے نہیں دیکھاگیا۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب بہت دبلے پتلے

بلکہ منحنی ہوتے تھے۔ وزن تو انہوں نے بہت بعد میں گین کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے پرائمری سینٹ قادر سکول سے کیا جو محض نام کی حد تک اس زمانے کا نیم انگریزی میڈیم سکول لیکن اصل میں عارف ہائی سکول کا پرائمری سیکشن تھا جسے تکنیکی ضرورت کے تحت یہ نام دیا گیا تھا۔ وہ شروع ہی سے پڑھائی میں بہت اچھے تھے۔ چھٹی کے دن یا اتوار کے روز سفید کرتا شلوار پہن کر اس رڑے میدان میں کرکٹ کھیلتے جسے ہم لوگ کرکٹ گراؤنڈ سمجھتے تھے۔ ہم ایک دیوار پھلانگ کراس ’’عالی شان گراؤنڈ‘‘ میں داخل ہوتے جہاں وکٹوں کے اوپر بیلز کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بیٹنگ پیڈ اس وقت تک ہم نے دیکھے ہی نہیں تھے۔ آنہ آنہ جمع کر کے ایک بیٹ ،چار وکٹیں، گلوز کا ایک جوڑا جو محض کاروباری جعلسازی کا ایک شاہکار ہوتا اور ایک گیند خرید لی جاتی۔ یہ عجب بات تھی کہ گیند حقیقتاً سرخ رنگ کی ہارڈ بال ہوتی جو فرسٹ کلاس سے ٹیسٹ میچز تک میں استعمال ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی باری کے انتظار میں پویلین (جو اصل میں گندے نالے کا کنارہ تھا) میں بیٹھ کر ہر باؤلر اور بیٹسمین کا عمیق نظروں سے جائزہ لیتے اور یہ منصوبہ بندی کرتے کہ کس بائولر کو کس طرح کھیلنا ہے اور کس بیٹسمین کا کون سا انداز اپنانا ہے چنانچہ ہر بار اچھا کھیلتے اور کئی بار تالیوں کی گونج میںنالہ پھلانگ کر اس ’’تاریخی‘‘ پویلین میں واپس آتے۔ اب اس پویلین اور گراؤنڈپر مکانات تعمیر ہو گئے ہیں اور گندا نالہ انڈر گراؤنڈ سیوریج سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پانچویں جماعت پاس کر کے ڈاکٹر صاحب اسلامیہ ہائی سکول لاہور کینٹ چلے گئے جو پڑھائی، ڈسپلن اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لحاظ سے اس علاقے کا بڑا سکول تھا اور یہاں کے بچے اکثر لاہور بورڈ کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کرتے تھے۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں لاہور تعلیمی بورڈ کی حدود پورے پنجاب تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس سکول کے ماحول نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو نکھارنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہیں سے ڈاکٹر صاحب نے تلاوت، تقاریر اور مضمون نویسی کا آغاز کیا۔ سکول کے درویش صفت اساتذہ نے ڈاکٹرصاحب کی صلاحیتوں کو مزید پالش کیا۔ ان میں سے کئی کا ڈاکٹر صاحب اب تک ذکر کرتے تھے۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد ہماری بستی کے بچے ٹائپ رائٹنگ اور شارٹ ہینڈ سیکھتے تھے کہ یہ سرکاری نوکری کے لیے بنیادی شرط تھی اور اس بستی کے لوگ کلرک سے بڑی نوکری کے بارے میں سوچنے کے بھی عادی نہیں تھے۔ مین روڈ پر ایک دو ٹائپنگ سکول بھی موجود تھے۔ کسی چھوٹی سی دکان میں دو تین بوسیدہ سے ٹائپ رائٹرز اور اس سے بھی زیادہ بوسیدہ حال ’’استادجی‘‘ ان سکولوں کی کل کائنات تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی ٹائپنگ سکول میں داخلہ نہ لینے کا انقلابی فیصلہ کی اور فراغت کے ان دنوں میں باقاعدہ قرأت سیکھنا شروع کر دی۔ خوش قسمتی سے گورنر ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کے نوٹیفائیڈ قاری جناب علی حسین صدیقی ہماری بستی ہی میں رہائش پذیر تھے ۔ ریڈیو پاکستان سے صبح اور شام کو ان کی قرأت نشر ہوتی تھی ، ٹیلی ویژن کے آنے کے بعد وہ ٹی وی سکرین پر بھی تلاوت کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ وہ کئی لہجوں میں بہت اعلی تجوید کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے رزلٹ آنے تک کے عرصے میں ان سے قرأت سیکھی تلاوت تو وہ سکول میں پہلے ہی کرتے تھے۔ قدرت نے گلا بھی اچھا دیا ہوا تھا۔ اعتماد ان میں بلا کا تھا بہت جلد ہی وہ اس قرآنی فن کے اسرار و رموز جان گئے۔چنانچہ مقابلوں میں جانے اور انعامات پر انعامات جیتنے لگے۔ ان ہی دنوں انہوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں تلاوت کا آغاز کر دیا۔ اس طرح وہ عام حلقوں میں قاری کے نام سے مشہور ہو گئے۔ اس مختصر سے عرصے میں قاری علی حسن صدیقی نے سکھانے اور نئے نئے قاری نے سیکھنے کا حق ادا کر دیا۔ رزلٹ آیا تو ڈاکٹر صاحب بہت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس ہو گئے۔ اس زمانے میں میٹرک کے رزلٹ کا ضمیمہ اخبارات میں شائع ہوتا تھا۔ شاید ہماری بستی میں سب سے زیادہ نمبر ڈاکٹر صاحب ہی کے تھے وہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخل ہو گئے جہاں ان کی صلاحیتوں کی گونج لاہور کے علاوہ دیگر شہروں تک سنائی دینے لگی۔ وہ حسن قرأت، نعت خوانی، بین الکلیاتی مباحثوں اور تقریری مقابلوں میں شریک ہوتے اور انعامات جیت کر لاتے۔ اس دوران ریڈیو پروگرام بزم طلبا اور بزم جواں فکرمیں بھی شریک ہوتے ،یہ دو سال پلک جھپکتے میں گزر گئے۔ ایف ایس سی میں ڈاکٹر صاحب نے نمبر تو اچھے لیے لیکن انجینئرنگ یورنیورسٹی میں داخلہ نہ ہو سکا۔ یہ دھچکا ان کے لیے نعمت بن گیا وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ طبیعات میں بی ایس آنرز میں داخل ہو گئے اور یہیں سے اس مقام تک پہنچے۔


ای پیپر