بوکھلاہٹ کی شکار حکومت
03 جولائی 2019 2019-07-03

حیرت کی بات ہے کہ جس حکومت کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقتدر قوتوں کی اس حد تک سرپرستی حاصل ہو کہ آرمی چیف کھل کر معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہے ہوں، نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل نام کے نئے حکومتی ادارے کے رکن بن گئے ہوں، اپنا تعاون پیش کر رہے ہوں… حکومت کو سعود ی عرب، دبئی اور قطر وغیرہ سے بھاری امداد اور مالی تعاون فراہم کیا جا رہا ہو… آئی ایم ایف کے ساتھ 6 بلین ڈالر سے زائد کے قرض کا معاہدہ طے ہونے والا ہو ، اس نے اپنا متنازع ترین بجٹ بھی قومی اسمبلی سے منظور کرا لیا ہو… پارلیمنٹ کے اندر اس کی اپنی اکثریت نہ سہی لیکن چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کی طرف سے حمایت کی وجہ سے اس کے گھر کی راہ لینے کا خطرہ در پیش نہ ہو… اس کے دو سب سے بڑے سیاسی مخالف اور عوامی مقبولیت رکھنے والے لیڈر جیلوں کے اندر بند ہوں… یوں بظاہر کوئی بڑا خطرہ در پیش نہ ہو ، ایسی حکومت خوفزدہ کیوں ہے… اسے ایک پل چین نہیں مل رہا… اٹھتے بیٹھتے مخالفین کو مطعون کیا جاتا ہے … چور ڈاکو اور پرلے درجے کے بدعنوان سے کم القابات سے یاد نہیں کیا جاتا … صبح شام دھمکیاں دینے کے علاوہ کوئی مشغلہ نہیں … حکومت کو آخر خدشہ کس بات کا ہے…ایک لفظ سلیکٹڈ کو اس نے اپنی چھیڑ بنا لیا ہے… لوگ بار بار وزیراعظم کو اس نام سے پکارتے ہیں اور مزے لیتے ہیں… کیا اس بات کا خوف ہے کہ وہ جنہوں نے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے کسی بات پر ناراض ہو گئے تو حکومت جاتی نظر نہ آئے گی… یا اس بات کا ڈر ہے کہ چھوٹی جماعتیں جو پارلیمانی بیساکھی کا کام دے رہی ہیں ساتھ چھوڑ دیں گی یا اس بات پر سہمی جا رہی ہے کہ جتنی سخت اور کڑی شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی خاطر انگوٹھے لگوائے ہیں، اس کی مرضی کا بجٹ معاہدہ ہونے سے قبل ہی تیار کر کے لاگو بھی کر دیا ہے… اس کے نتیجے میں کمر توڑ مہنگائی نے عام آدمی کا عزت سے جینا اور سفید پوش لوگوں کو بھرم قائم رکھنا مشکل تر بنا دیا ہے… سرمایہ کاری کا عمل رک گیا ہے… صنعتیں بند ہو رہی ہیں پیداواری ترقی کا گراف نیچے گر رہا ہے…ایمنسٹی سکیم نے ہاپا تاپی مچا رکھی ہے… معیشت انجماد کا شکار ہے… اگر کڑی شرائط کے باوجود معیشت سنبھل نہ پائی اور الٹے نتائج برآمد ہوئے تو حکومتی وزرائے کرام اور عالی مرتبت ترجمان گلی محلوں میں لوگوں کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہیں گے… کیا یہ وہ سارا ڈر اور خوف ہے جس کی وجہ سے وقت کے حکمران سراسیمگی کے عالم میں مخالفین کے خلاف ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھا رہے ہیں گلیاں ہوجان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے… بظاہر مضبوط اور اندر سے خوف کھاتی بلکہ لرزاتی حکومت جس کے پاس اپنی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں آخر کب تک چل پائے گی …

جس انداز سے سیاسی مخالفین پر شب خون مارے جا رہے ہیں، انہیں جیل میں مقید کرنے کے بعد پروڈکشن آرڈر کے آئینی حق سے محروم کرنے کی تدابیر سوچی جا رہی ہیں… قید خانوں کے اندر، ان کے ساتھ چوروں اور ڈاکوؤں جیسا سلوک کرنے کی ہدایات جاری ہو رہی ہیں… جس بھونڈے طریقے سے رانا ثناء اللہ پر پندرہ کلو ہیروئن سمیت 21کلو منشیات سمگل کرنے کا الزام لگا کر انہیں محبوس کر دیا گیا ہے… اس کے ساتھ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کمزور کردار کے مالک اراکین اسمبلی کو جھوٹی ترغیبات اورلالچ دے کر ان کی وفاداریاں خریدنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے… یہ سب کچھ کس بات کا پتا دیتا ہے کہ ایک حکومت جسے ناقابل یقین حد تک خارجی سہارے ملے ہوںوہ اندر سے اتنی کھوکھلی اور کمزور ہے کہ خود اس کو یقین نہیں کہ بیساکھیاں کب تک ساتھ دیں گی… لہٰذا مخالفین پر جتنا دباؤ ڈال سکتے ہیں ڈال لیں … ان پر کھلی سیاسی فضاؤں کے اندر جینا حرام کر دیں… اٹھنے اور چلنے کے قابل نہ رہنے دیں… شاید ایسی حالت اور ایسے ماحول میں ا س کے لیے جینا ممکن ہو جائے … مگر

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے

ماضی میں بھی پاکستان کے اندر کئی سول حکومتیں ایسی آئیں جو کمزور تھیں… اور حق یہ ہے کہ ہماری ہر سول حکومت کمزور ہوتی ہے کیونکہ برسراقتدار آنے کے کچھ عرصہ بعد سول ملٹری تناؤ کا شکار ہوتی رہی ہے … اس کی بنا پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا سخت مشکل محسوس کرتی تھی مگر اس کے باوجود دو چار سال آرام سے گزار لیتی تھی … اس کے بعد زوال کے آثار ہویدہ ہو جاتے تھے… جانا دل کا ٹھہر جاتا تھا کیونکہ اوپر والوں کو ان کا مسند اقتدار پر مزید براجمان رہنا منظور نہ ہوتا تھا… ان کی کمزوریوں کا اس حد تک بڑھا چڑھا کر واویلا کیا جاتا تھا کہ لوگوں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا تھا… بوریا بستر لپیٹنے کے لیے زمین ہموار کر دی جاتی تھی… مگر آج کی حکومت کا حال دیکھیے کہ طاقتور عناصر کی جانب سے فراہم کی جانے والی تمام تر پشت پناہی کے باوجود یہ اس یقین و اعتماد سے محروم ہے کہ سال بھر بھی چل سکے گی یا نہیں… شاید اسی بنا پر وزیراعظم عمران خان کے لہجے میں زیادہ تلخی آ گئی ہے… ان کے چہرے پر تناؤ کی کیفیت نمایاں ہے ایک ہی فقرہ زبان پر رواں ہے ’این آر او‘ ہرگز نہ دوں گا… اول تو آپ دے نہیں سکتے… اگر کوئی مانگ رہا تو اس کا چہرہ بے نقاب کیجیے … قوم خود پوچھ لے گی مگر کان پک گئے ہیں لوگوں کے آپ کا راگ سن سن کر… اپنا دفاع کرنے یا میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے مقدمہ لڑنے کی خاطر جتنے حکومتی ترجمان مقرر ہیں، تقریباً سب کی گفتگوؤں میں دلیل کی قوت کے بجائے طعن و تشنیع کے ہتھیار سے کام لیا جا رہا ہے… سیاسی انتقام ا س حد تک غلبہ پا چکا ہے کہ رانا ثناء اللہ جو قومی اسمبلی کے رکن ہیں ، پانچ سال کے عرصہ تک پنجاب جیسے صوبے کے وزیرقانون بھی رہے ہیں… جانی پہچانی سیاسی شخصیت ہیں… انہیں جس سنگین تر الزام کے تحت اچانک گرفتار کیا گیا، اس کا ثبوت کیا معمولی درجے کے شواہد پیش کرنے سے بھی وہ ادارہ جس نے انہیں اچانک دبوچ کر حوالہ زنداں کیا ہے پیش کرنے سے قاصر نظر آتا ہے … ’ایف آئی آر‘ میں کہا گیا ہے کہ جس گاڑی میں سوار تھے اس میں 21 کلو منشیات اور ہیروئن پکڑی گئی ہے… اس کی کوئی ویڈیو تک سامنے نہیں آئی… اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی … اس کی ویڈیو بنانے اور اسے منظر عام پر لانے میں کیا امر مانع تھا اور انہیں جس بیرک میں رکھا گیا ، وہاں بجلی ہے نہ ہوا کا جھونکا آتا ہے… بدھ تین جولائی کی سہ پہر جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں ان کی اہلیہ اور داماد نے شکایت کی ہے کہ ان سے ملنے دیا جا رہا ہے ، نہ ضروری ادویات پہنچائی گئی ہیں… یعنی انتقام اپنی آخری حدوں کو چھو چکا ہے… آخر یہ کس قسم کی حکمرانی ہے اور ملک اور عوام کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور کون ہے جو اسے ٹھنڈے پیٹوں کس سبب کی بنا پر برداشت کر رہا ہے…

فوج ہمارے ملک کا عظیم ترین اور نہایت درجہ نازک حالات میں ملک کی سرحدوں پر دفاع کرنے والا ابنائے وطن کی نظروں میں عزیز ترین قومی ادارہ ہے… اس پر قوم کے بچے بچے کو فخر ہے… ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنے اور اس کی بیرونی اور اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہماری بہادر مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے جو شاندار کارنامے کیے ہیں اور لازوال قربانیاں دی ہیں، اس پر پوری قوم سراپا ستائش ہے… یہ عظیم ادارہ اپنے آئینی وجود، شاندار کردار اور اس کی حساس و نازک نوعیت کی بنا پر غیر متنازع اثاثہ اور سیاسی جھمیلوں سے بالا متاع عزیز ہے… اس کی غیر متنازع حالت کو برقرار رکھنا اور اس کے شفاف دامن کو ہر قسم کی سیاسی اور دوسری آلائشوں سے پاک رکھنا پوری قوم کا فرض اور تمام آئینی و غیر آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے… اس لیے ارباب بست و کشاد کی خدمت میں عرض کناں ہونا چنداں بے محل نہ ہو گا… اس بات کا سختی سے خیال رکھا جائے کہ اگر ایسا وقت آ گیا کہ حکومت جیسا کہ اس کے لچھن بتاتے ہیں سیاسی اور اقتصادی دونوں میدانوں میں ناکام ہو گئی تو اس کی چھینٹیں بالواسطہ طور پر بھی ہمارے اس عظیم ادارے پر نہ پڑیں… اس کی پاکدامنی پر حرف نہ آئے… آئین مملکت نے فوج کا ایک کردار متعین کیا ہے … اسے ہر قسم کی سیاسی آلودگی اور تنازع سے بالا رکھنے کا اہتمام کیا ہے… یہ کسی ایک جماعت ، گروہ یا فکر و خیال کے حامل لوگوں کا ادارہ نہیں پوری قوم کا اثاثہ ہے جو ہمیں دشمن کے مکروہ ارادوں اور جارحانہ عزائم سے محفوظ و مامون رکھتا ہے… اس کی غیر جانبداری اور ہر قسم کے سیاسی اتار چڑھاؤ سے منزہ رہنے میں اس کی ساکھ اور دفاعی قوت کا راز مضمر ہے… لہٰذا اس جانب توجہ دلانا وقت کا تقاضا اور اہم تر قومی فریضہ ہے کہ اس ادارے سے متعلقہ کوئی فرد بھی کسی جانب کھڑا نظر آئے نہ شائبہ پیدا ہو… حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں … وہ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کی خود ذمہ دار ہوتی ہیں… قومی ادارے اپنا فرض ادا کرتے رہتے ہیں… سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے حکومت اور فوج کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہیے… کسی سیاستدان کی کسی اچھے یا برے اقدام کا سایہ ہرگز اس متاع عزیز پر نہیں پڑنا چاہیے جس کا بنیادی فریضہ گھر والوں کے باہمی اختلافات سے بے نیاز ہو کر دشمن کے ارادوں کو خاکستر کر کے رکھ دینا ہے… اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آپ یکسو ہو کر ملک کی سرحدوں کی حفاظت متوجہ رہیں اور سیاسی جماعتوں ، ان کے لیڈروں اور گروہوں کی باہمی رسہ کشی سے دور بلکہ بہت دور رہیں کیونکہ حکومت اگر آج ہے ، اس نے کل چلے جانا ہے… آپ نے تو بطور ادارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم و دائم رہنا ہے… آپ کا ان سے جتنا دور نظر آئیں گے، دنیا کی ہر کامیاب جمہوری ملک کی فوج کی مانند اتنا ہی اعلیٰ مقام پائیں گے…


ای پیپر