رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور ن لیگ میں فارورڈ بلاک
03 جولائی 2019 2019-07-03

صحافت کی دنیا کی روایت ہے کہ اگر دو خبریں بیک وقت بریک ہو جائیں تو بڑی خبر چھوٹی خبر کو کھا جاتی ہے۔ فیصل آباد جسے پاکستان کا مانچیسٹر کہا جاتا ہے وہاں سے خبر آنا شروع ہوئی کہ ٹیکسٹائیل ایکسپورٹ میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والے شہر کے کپڑا سازوں نے ٹیکسوں کی بے تحاشہ بھر مار کے بعد کپڑے کے تین اہم شعبوں ڈائینگ، پرنٹنگ اور پراسیسنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے 17 فیصد جی ایس ٹی کے اعلان کے بعد یہ تینوں شعبے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے ایک طرف تو 15 ارب ڈالر کا سالانہ بر آمدی ہدف ناکام ہو گا جبکہ دوسری جانب شہر میں ان صنعتوں سے وابستہ لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے اس پر محنت کشوں کی قومی انجمنوں نے اپنے اپنے ہنگامی اجلاس فیصل آباد میں طلب کیے کہ مزدوروں کے اہل و عیال کو فاقہ کشی سے بچانے کا کوئی راستہ نکالا جائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جیسے ہی فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی اور ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی خبر بریکنگ نیوز بنی تو ٹیکسٹائیل کی خبر کا سارا ملبہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی خبر کے نیچے دب گیا خبروں کا عنوان زیادہ تر منفی ہوتا ہے ۔

مگر جس طریقے سے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری رپورٹ ہو رہی ہے اس میں ریاستی طرز عمل پر گہرے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں ۔ رانا صاحب پر دہشت گرد گروپوں کی سہولت کاری کا الزام لگتا رہا ہے ۔ ان پر ن لیگ کے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مقامی لیڈر بھولا گجر کے قتل کا الزام بھی ہے بلکہ ن لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے سابق ایم این اے اور سابق میئر فیصل آباد چوہدری شیر علی نے میڈیا کو 22 مقتولین کی فہست دی تھی جو بقول چوہدری شیر علی رانا ثناء اللہ نے قتل کروائے تھے ۔ فیصل آباد سے بد نام زمانہ پولیس انسپکٹر فرخ وحید جو ملک سے فرار ہو کر دوبئی چلا گیا تھا اس نے بھی رانا ثناء اللہ کے خلاف کافی راز افشا کیے ہیں ۔ کہ اس نے کسی طرح ان کے حکم پر جعلی پولیس مقابلوں میں رانا صاحب کے مخالفین کو ٹھکانے لگایا تھا۔ فرخ وحید اس لیے فرار ہوا تھا کہ اسے خطرہ تھا کہ رانا ثناء اللہ ثبوت مٹانے کے لیے اُسے قتل کروانا چاہتا ہے ۔ لیکن رانا صاحب کے خلاف ان الزامات کی آج تک تحقیقات نہیں ہو سکیں۔

واقعات کے مطابق رانا ثناء اللہ کو فیصل آباد سے بذریعہ موٹروے لاہو ر آتے ہوئے سکھیکی کے قریب روکا گیا اور مبینہ طور پر ان کی گاڑیوں کی تلاشی لے کر انہیں کلیئر کر دیا گیا مگر آدھے گھنٹے بعد جب ان کی گاڑیاں راوی ٹول پلازہ پر پہنچیں تو انہیں دوبارہ روکا گیا اور گرفتاری عمل میں لوئی گئی اینٹی نارکوٹیکس فورس ( ANF ) نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن بر آمد ہوئی ہے جس کی مالیت 20 کروڑ روپے ہے۔

رانا ثناء اللہ نے گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور فوج کے خلاف ٹی وی پر جو لب و لہم اختیار کر رکھا تھا اُسے دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے پاکستان میں جمہوری آزادی اپنی حدود سے باہر اچھل رہی ہے ۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ رانا ثناء اللہ جیسا سیاستدان اتنا بے وقوف یا اتنا بچہ نہیں ہو سکتا کہ وہ 20 کروڑ کی ڈرگز اپنی گاڑی میں رکھ کر سڑکوں پر گھومتا پھرے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کی یہ کہانی بالکل افسانوی لگتی ہے ۔ پاکستان میں پولیس کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ جب کسی کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنا ہوتا ہے تو پولیس چوکی سے دو سپاہی اپنے ہدف کو بات سننے کے بہانے گھر سے بلاتے ہیں اور تھانے لیجا کر چرس اپنے پاس سے ڈال کر اس کو چالان کر دیتے ہیں کیونکہ ملزم کمزور ہوتا ہے اس کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی سوال یہ ہے کہ کیا رانا ثناء اللہ بھی اتنے ہی کمزور ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری پولیس چونکہ سیاسی قیادت کے تابع ہے لہٰذا جب اوپر سے حکم آ جاتا ہے تو اس میں ثنا اللہ تو کیا ملک کے وزیر اعظم کو بھی گرفتار کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ پولیس کے سسٹم کا مسئلہ ہے جس پر الگ سے بحث کرنے کی ضرورت ہے ۔

گزشتہ ہفتے اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹا کر ان کی جگہ نیا چیئر مین سینیٹ لایا جائے گا اس خبر کے ساتھ ہی حکومت نے اپنا پلان B جو کافی عرصہ سے سرد خانے میں ڈال رکھا تھا وہ نکال لیا اور پنجاب اسمبلی کے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ممبران کے ایک گروپ کی بنی گالہ میں وزیر اعظم سے ملاقات کرائی گئی اس خبر کو حکومتی حلقے میں بڑی دھوم دھام سے celebrate کیا گیا اور نواز شریف چھانگا مانگا سیاست پر ہمیشہ تنقید کرنے والوں نے اس واقعہ کو ایک کارنامہ بنا کر پیش کیا اور قوم کو یہ خوشخبری بھی دی کہ آئندہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران کی ایک اور کھیپ وزیر اعظم سے ملے گی گویا ن لیگ کے مضبوط قلعے میں سرنگ لگا دی گئی تھی اس پر رانا ثناء اللہ نے عمران خان کا 2015ء کا وہ بیان نکال لیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم وفاداریاں تبدیل کرنے والے پارلیمنٹیرین کے گھروں کے باہر دھرنا دیں گے۔ رانا ثناء اللہ نے گرفتاری سے ایک دن پہلے بیان دیا کہ وہ عمران خان کے ارشادات کی روشنی میں اب ان ن لیگیوں کے گھروں کے باہر اکٹھے ہوں گے جو عمران خان سے مل رہے ہیں۔ یہ سارا سیاق و سباق رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے باب میں بے محل نہیں ہے۔

اب ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو اگر گرفتار ہی کرنا تھا تو ماڈل ٹائون واقعہ میں کیوں نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت انہیں شاید لمبے عرصے کے لیے جیل میں رکھنا چاہتی ہے لہٰذا جو کیس بنایا گیا ہے اس میں ضمانت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ماڈل ٹائون مقدمے میں ضمانت کا چانس تھا۔ البتہ اب یہ ہو گا کہ یکے بعد دیگرے یہ سارے مقدمات میں قانون اپنا راستہ لے کر بھر پور کارروائی کرے گا۔ مگر رانا ثناء اللہ کی گرفتاری جس طریقے سے روبہ عمل آئی ہے اس پر ملک میں جمہوریت اور شخصی آزادیوں پر سوال اٹھتا رہے گا۔

اینٹی نارکوٹکس والے کہتے ہیں کہ ان کی مخبری ہوئی تھی کہ رانا ثناء اللہ کی گاڑی میں ہیروئن موجود ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس سارے آپریشن کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے جسے بعد میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ فیصل آباد کے حلقوں میں یہ سٹوری گردش کر رہی ہے کہ رانا ثناء اللہ کے ایک مشکوک ملازم کو استعمال کیا گیا جو سمن آباد میں ان کے ڈیرے پر رکھا گیا تھا جو اب روپوش ہو چکا ہے اسے جب مذکورہ بیگ گاڑی میں رکھنے کے لیے دیا گیا تو اس نے بیگ اور گاڑی کی تصویریں بنا کر لیک کر دیں جن کی روشنی میں یہ گرفتاری عمل میں آئی۔

ن لیگ میں فارورڈ بلاک کا راستہ ہموار ہو چکا ہے جس نے ق لیگ کے راتوں رات قیام کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس فارورڈ بلاک کا سب سے زیادہ نقصان چوہدری پرویز الٰہی کو ہو گا کیونکہ ان کی ڈیمانڈ بڑھتی جا رہی تھی وہ حکومت کی کمزوری بن چکے تھے مگر اب صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔

اب ن لیگ رانا ثناء اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری کروانے کے لیے سیاسی دبائو استعمال کر ے گی مگر حکومت کی باڈی لینگوئج سے لگتا ہے کہ سپیکر اسد قیصر یہ کام آسانی سے نہیں کریں گے۔ ن لیگ والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سپیکر کی اجازت کے بغیر رکن اسمبلی کو کیسے گرفتار کیا جا سکتا ہے مگر یہ آئینی طور پر بے وزن بات ہے گرفتاری کے لیے سپیکر کی اجازت در کار نہیں ہوتی بلکہ رسمی طور پر انہیں اطلاع دینا ہوتی ہے گرفتاری کی ۔

اگر موجودہ سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو ہماری قومی سیاست ابھی تک 1990 ء کے حالات و واقعات کے ڈگر پر چل رہی ہے۔ ساری روایات وہی ہیں۔ مرحوم چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا ایک مقدمہ بھٹو دور میںبنایا گیا تھا جو سب کو یاد ہے۔ اسی طرح شیخ رشید کو کاشنکوف رکھنے پر 7 سال کی قید ہوئی تھی یہ فہرست بہت طویل ہے جس میں اب ایک اور واقعہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔


ای پیپر