ہمارا ہیرو کون تھا … ؟؟!!
03 جولائی 2019 2019-07-03

میں دبک کے بیٹھ گیا … سنا ہے … خود کش کی آمد متوقع ہے وہ کیا کرے گا کس گاڑی پہ آئے گا … پیدل ہو گا شاید … خود کو اڑائے گا یا پوری گاڑی ٹکرائے گا اڑا دے گا ہم سب کو … جلا دے گا … بھسم کر دے گا … خود بھی غرق ہو گا ہمیں بھی آگ کے بستر پہ سلا دے گاآگ کا … بستر … سنا ہے آگ کے بستر پہ نیندنہیں آتی … اذیت سونے نہیں دیتی … اور انسان موت آجانے کی دعا مانگتا ہے موت کی دعا تو وہ بھی مانگتے ہیں جن کے بچے اپاہج ہو گئے … جن کی ٹانگین بازو کٹ گئے … کان پھٹ گئے … وہ ماں باپ اپنے ان اپاہج بچوں کے لئے موت آجانے کی دعا مانگتے ہیں … نہیں … تو نے غلط سنا ہے ماں کے سامنے بچے کا زخموں میںچور جسم بھی پڑا ہو وہ اس کی زندگی کے لئے دعا مانگتی ہے میں نے نصرت جہانگیر کی ماں کو تڑپتے دیکھا تین چار روز سے وہ میرے سامنے موت کو گلے لگائے ہمت کر کے بار بار بستر سے اٹھ جاتی۔ سانس بڑی مشکل سے آ رہی تھی … میرا نصرت نہیں آیا … وہ کہتی … ؟! سب چپ وہ پھر لیٹ کر کراہنے لگتی ڈاکٹر … انجکشن … دوائیاں … بلڈ ٹیسٹ سب جاری تھے … سب کچھ موجود تھا مگر کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔طبیعت سنبھل جائے گی … سب کا خیال تھا … مجھے یقین تھا طبیعت نہیں سنبھلے گی کیونکہ اسے اپنے جوان بیٹے نصرت جہانگیر کا انتظار تھا … وہ آخری سانس آ جانے کے لئے تیار تھی … ہر سانس آخری سانس تھی … مگر وہ ہمت کر کے فرشتہ اجل کو ٹال رہی تھی … اسے اس کا انتظار تھا جو اس ماں اور موت کے فرشتے کے درمیان حائل تھا … نصرت جہانگیر … میں نے کہا ماں … وہ گیت … جو تم گایا کرتی ہو … اس نے ہنسنے کی کوشش کی … ’’چھپ گیا کوئی … رے‘‘ … میرے دوست کی ماں جب کبھی ہم مذاق میں کہتے تو وہ ہمیں آہستہ سے سناتی … ؎

چھپ گیا کوئی رے دور سے پکار کے

درد انوکھے ہائے دے گیا پیار کے

اک مصرعہ بھی مکمل نہ کر پائی … ایک سال کا تھا نصرت جہانگیر کا باپ فوت ہو گیا … سترہ سالہ بیوہ چھوڑ کے سترہ سالہ بیوہ … وہ جب ہمیں وہ منظر سناتی … ہمیں اس میں لے کر گم ہو جاتی … پھر جب حواس بحال ہوتے تو ہنس دیتی … آہستہ سے اور کہتی … ’’سترہ سالہ بیوہ‘‘ … ’’سترہ سالہ بیوہ‘‘ …

سترہ سالہ تو جوان ہوتی ہے۔میری سہیلیوں میں سے کسی کی بھی شادی نہیں ہوئی تھی … وہ سب کسی نہ کسی شہزادے کی منتظر تھیں … خواب آنکھوں میں سجے تھے اور آپس میں کھسر پھسر کے انداز میں اپنے اپنے آئیڈیل کا ذکر کرتیں … اور میں ان کے سامنے … آئیڈیل کے ساتھ بیاہی گئی … پھر نصرت آ گیا … وہ ہمیشہ کہتا … مجھے محاذ پر اپنی یونٹ میں جانا ہوتا ہے اب تو گھبرایا نہ کر … ہے ناں تیرے پاس ایک مرد … دودھ پیتا بیٹا … یہ مرد کا بچہ ہے … یہ مرد ہے ناں تیرے پاس … اب مجھے تیری فکر نہیں ہوتی … دیکھ میں تیرے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں اس تیرے بیٹے کو … نصرت جہانگیر کو یہ بڑاہو گا تو میں اسے جوڈو کراٹے سکھاؤں گا … ویسے تو جب نصرت جہانگیر … جوان ہو کر پاک آرمی میں جائے گا … تو وہ خوشی خوشی بتایا کرے گا … کہ میں ایک فوجی جوان کا بیٹا ہوں … اس وقت ایٹم بم سے لڑائیاں ہوں گی لیکن میں چاہتا ہوں فوج میں جانے سے پہلے یہ جوڈو کراٹے سیکھے تاکہ جب بھی میدانِ جنگ میں جانا پڑے گولیوں سنگینوں کی لڑائی کے بعد جب دست بدست ہو تو یہ دو چار دشمنوں کو جاتا جاتا بھی کیفر کردار تک پہنچا کر پر سکون شہادت کی موت کو گلے لگائے …

اور ایک شام خبر بھی نہیں آئی … نصرت کا باپ بھی نہیں آیا … اس کی بکسے میں بند لاش آ گئی … وہ چلا گیا ہزاروں من مٹی تلے دب گیا … اس کی ٹوپی میری گود میں لیٹے نصرت کے سر پر رکھ دی ایک آفیسر نے وہ ہنسا نہیں اس کی آنسوؤں سے تر آنکھوں میں سنجیدگی تھی رعب تھا … لیکن آس اور امید بھی تھی … یہ اپنے باپ کی بیرٹ (ٹوپی) پہنے گا بڑا ہو کر یہ خوبصورت بیرٹ (ٹوپی) سجتی ہے اس کے سر پر یہ ریڈ بلوم و الی بلیک بیرٹ (سرخ پھول کالی ٹوپی پر) اس کے ماتھے پر چمکے گی … سفید اور سرخ رنگ کے چہروں والے جوانوں کے چہروں پر بلیک بیرٹ وِد ریڈ بلوم (کالی ٹوپی سرخ پھول کے ساتھ ) بہت عزت والی اورخوبصورت لگتی ہے … زمین ہلا دیتے ہیں ان جوانوں کے قدم … دشمن بھی عزت سے دیکھتا جب وہ شہادت پا کر مٹی پر اپنی وردی میں لیٹے ہوئے ہوتے ہیں … دشمن بھی ان کی بے حرمتی نہیں کر پاتا …

سوار محمد حسین شہید … کی جرأت و بہادری پر دشمن نے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ روک دی اور نہایت احترام کے ساتھ شہید کو ہمارے حوالے کیا اور قوم نے اسے نشان حیدر سے نوازا … دل کو سکون نصیب ہوا … اور وہ چلا گیااور میں ایک مرد کو گود میں لٹائے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو بہاتی رہی … میں بھول جاتی … لوگ انگلی اٹھا کر کہتے … یہ ہے وہ سترہ سالہ بیوہ … ایک با ہمت شہید کی عزم و ہمت والی بیوہ …

پھر بہت سے لوگوں نے بات کی … اشاروں … کنائیوں میں … ایک آدھ دفعہ کھل کر بھی … میں نے کورا جواب دے دیا … میرے پاس اک مرد ہے ناں … پہاڑ جیسے جوانی کٹ گئی … بظاہر یہ فقرہ دو سیکنڈ میں ختم ہو جاتا ہے ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے … لیکن ایک ایک لمحہ گن گن کر جب لمحے … ساعتیں گزارنی پڑ جائیں تو کئی بار دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے پھر ترس کھا کے رحم کر کے … دل دھڑکنے لگتا ہے …

باپ کی پنشن … گلیوں میں سائیکل پر اخبار فروخت کر کے چند روپے کما لینا اور ساری ساری رات پڑھنا پیسے کی کمی … نے کبھی نصرت کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی … اس نے باپ کی ٹوپی سنبھالی اورعہدکر کے … نبھانے کی کوشش میں مگن رہا … باپ نے جہاں سے ملک و قوم کی خدمت کا کام چھوڑا تھا اسے وہ کام وہیں سے شروع کرنا تھا … اس سبز ہلالی پرچم کو باپ سے پکڑ کر چل پڑنا تھا

دن آ گیا … سترہ سالہ بیوہ چونتیس سال کی ہو گئی … اور وہ سترہ سال کا ہو گیا … جوڈو کراٹے والے استاد نے کئی بار اسے واپس بھیج دیا … نہیں ابھی چھوٹا ہے آخر وہ ضدی تھا … بہادر ضدی ہوتے ہیں … وہ کلاس میں پہنچ گیا … اس کی ہمت، ضد کارکردگی دیکھ کر خالق طائی (استاد) نے اسے اگلے گروپ میں بھیج دیا … استاد کی خدمت … پھر مقابلے شروع ہوئے … سب رہ جاتے … استاد کہتا … اسے لاؤ … اسے … غصے میں استاد اکثر اس کا نام بھول جاتا … اسے لاؤ … اس کو … ’’بندر‘‘ کو سب ہنس دیتے وہ بہادری کے جوہر دکھاتا اور میدان کا فاتح کہلاتا … سرخرو ہو جاتا …

ماں … آج اپنے کینسر جیسے موذی مرض سے محض اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے نبرد آزماء تھی … مرض آخری اسٹیج پر تھا … اور ادھر اسے ایک سپاہی کو … بہادری کے جوہر بھی تو دکھانا تھے …

ماں کی دی ہوئی نصیحت … بیٹا باپ کی طرح میدان میں جاؤ دشمن سے پاک وطن کی خاطر اپنے مذہب اسلام کی خاطر لڑتے ہوئے شہادت کا درجہ پاؤ … اور میں جس نے زندگی اکیلے گزاری … اس آس میں کہ قوم نے مجھے میرا آئیڈیل خوبصورت جوان دیا … جو وطن پر شہید ہوا میں قوم کو اس کے بدلے میں اک خوبصورت سپاہی پیش کر کے دم لوں گی …

وہ ہنس کے بیٹے کو کہتی … ’’بیٹا سینے پر گولی کھانا‘‘ … وہ سینہ پھلا کے ماں کے پاس آتا اس کے ہاتھ چوم لیتا … وہ کہتا ماں دعا کیا کر … میرے دوست کہتے ہیں اپنی ماں سے کہو … ہمارے لئے دعا کیا کرے … اس عورت کی دعا قبول ہوتی ہے جس نے ایسی شفاف زندگی … کسی نیک مقصد اور عظیم مشن کی خاطر گزاری ہو … جس پر کسی میں انگلی اٹھانے کی ہمت نہ ہو …

تاریخ پھر سے دہرائی گئی … ماں نے دروازے کی طرف دیکھا … آ گیا … نصرت … چپ راست … چپ راست خاموشی ٹوٹ گئی … مخصوص دلکش آ واز جو صبح جب جوان ’’ڈرل‘‘ کرتے ہیں تو گراؤنڈ میں گونجتی ہے … ایک لاش صندوق (تابوت) میں بند نصرت جہانگیر کی لاش لئے ایک دستہ … آ پہنچا … آفیسر نے آ کر ماں کو سیلوٹ کیا …

خود کش حملہ آور نے جیپ پر حملہ کیا … اور ہمارا یہ عظیم آفیسر اس حملہ میں … شہید ہو گیا … خود کش … حملہ … شہید … ؟! بیوہ کے منہ سے تین لفظ نکلے … اور اس کی آنکھیں پتھر سی ہو گئیں …

شاید … اس کا سینے پر گولی لگنے اور دشمن سے جنگ کرتے ہوئے شہادت کے درجے تک پہنچنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا … لیکن شہادت تو مل گئی … ایک خوفناک خود کش حملے کے نتیجے میں … ؟!؟


ای پیپر