پنجاب مسلم لیگ (ن) کے صدر رانا ثنا اللہ کی گرفتاری، حکو مت کی بوکھلاہٹ
03 جولائی 2019 2019-07-03

پنجاب مسلم لیگ ( ن ) کے صدر جناب رانا ثنا اللہ کی اے این ایف کی ہاتھوں گرفتاری کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ رانا ثنا اللہ پرانے پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں، پہلی دفعہ وہ پی پی کے ٹکٹ پر ہی پنجاب اسمبلی کے ممبر بنے۔راناثنا اللہ پیشہ کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں اور سیاست میں جو بھی مقام انہوں نے بنایا ہے وہ اپنی محنت، لگن، جدوجہد اور خلوص سے بنایا ہے۔یہ ان کی میاں صاحب اور جمہوریت سے کمٹمنٹ کا نتیجہ تھا کہ جنرل مشرف کے دور میں خفیہ والوں نے ان سے انسانیت سوز سلوک کیا۔انہیں نہ صرف ٹاچر کیا بلکہ ان کے سر کے بال اور بھنویں مونڈ دیں۔ رانا ثنا اللہ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد کے کزن ہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ میاں شہباز شریف کی حکومت میں وہ سب سے اہم وزیر تھے۔پھر ماڈل ٹاون قصہ میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور جب JITنے انہیں بے گناہ قرار دیا تو وہ دوبارہ منسٹر بنے۔ 2018کے انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ مسلم لیگ نون کے ان چند امیدواروں میں شامل تھے جنہیں الیکشن میں کامیابی ہوئی۔ مرکز میں جاکر بھی وہ سیاست کے میدان میں بہت متحرک تھے۔ان کی بے باکی اور کھل کر دلیرانہ بات کرنے کو آقا اور خاص کر عمران خان پسند نہیں کرتے تھے۔

حال ہی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو قریب لانے میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔چند روز پہلے جب پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن محترمہ مریم نواز کو ملنے جاتی عمرہ گئے تو ان کا استقبال کرنے والوں میں رانا ثنا اللہ بھی تھے۔ ان کی گرفتاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب حکومت کا آخری وقت قریب آتا ہے تو وہ ایسے اوچھے ہتکنڈوں پر اتر آتی ہے میری عمر کے سیاسی کارکنوں کو یاد ہے کہ چوہدری ظہور الہی اور میاں محمود علی قصوری کو بھی بھینس چوری کے مقدمات میں پھنسایا گیا تھا۔ ANFکا موقف ہے کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہوئی ہیں، ان کے منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں۔ ان کے خلاف منشیات کا مقدمہ بنایا جائے گا۔( رانا ثنا اللہ 1983کی MRD تحریک میں میرے جیل کے ساتھی ہیں)۔جو لوگ رانا ثنا اللہ اور ان کی سیاسی حیثیت سے واقف ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ آپ رانا ثنا اللہ کو کچھ بھی کہہ لیں مگر وہ اتنے بیوقوف اور احمق نہیں ہیں کہ اپنی کار میں منشیات لے کر فیصل آباد سے لاہور جائیں گے اور خاص کر ایسے وقت جب کہ خفیہ والے ہر وقت ان کی نگرانی کرتے ہیں۔عمرا ن حکومت کو رانا ثنا اللہ کی منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتاری نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بہت نقصان ہوگا۔ خاص کر ان حالات میں جب کہ تاجر اور صنعت کار ہڑتال کی کال دے رہے ہیں۔

پاکستان کے مجموعی سیاسی حالات پر اگر نظر ڈالیں تو رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ عمران حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں جو فیصلے کئے گئے ان میں سب سے اہم فیصلہ موجودہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کا فیصلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینٹ کا موجودہ چیئرمین آصف زرداری کی وجہ سے بنا تھا۔یہ کوئی راز نہیں کہ آقا کے اشارے اور وعدے وعید پر جب آقا نے شطرنج کی بساط بچھائی تو ہر مہرے کے ذمہ کام لگایا گیا۔آصف زرداری کے ذمہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو توڑنا اور نئی سیاسی جماعت بنانا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ نہ کیا جاتا تو سینٹ میں مسلم لیگ نون کی اکثریت ہوتی اور وہ اپنی مرضی کا چیئرمین منتخب کروا سکتی تھی۔آقا یہ نہیں چاہتے تھے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابقہ صدر پاکستان کے ذمہ کیوں لگایا حالانکہ کہ سیاست کی ابجد سے واقف ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ بلوچستان میں ہر کام آقا کی مرضی اور خواہش سے ہوتا ہے۔

مسلم لیگ نون نے تو یہاں تک کیا کہ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کو متفقہ چیئرمین سینٹ بنانے کی پیش کش کی تھی مگر پیپلز پارٹی نے دئیے گئے کردار کے مطابق عمل کیا اور ایک ایسے شخص کو چیئرمین بنوا دیا جو کہ ملک کا صدر بننے کے قانونی اور آئینی طور پر اہل نہیں ہے۔ بہرحال یہ قصہ پارینہ ہے مگر لگتا ہے کہ آقا نے پیپلز پارٹی کے شاطر صدر آصف علی زرداری سے جو وعدے کئے تھے ان پر مکمل طور پر عمل نہیں ہوا اور آخر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جیل میں ہیں۔

عمران خان کی نا پختگی اور بچگانہ سیاست نے آخر کار ملک کی حزب مخالف کی تمام پارٹیوں کو اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کردیا۔ہم نے دیکھا کہ رمضان میں بلاول بھٹو نے ساری پارٹیوں کو افطار پر بلایا اور اس طرح عمران حکومت کے خلاف ایک متحدہ اپوزیشن بنانے کی بنیاد رکھی۔پھر مریم نواز نے بلاول بھٹو کو جاتی عمرہ بلایا اور اس کے بعد مولانا فضل الرحمان مکمل حرکت میں آگئے۔ مولانا صاحب کا پہلے دن سے یہ نقطہ نظر تھا کہ ان کی جماعت کو دھاندلی سے انتخابات میں ہرایا گیا ہے اور وہ ہر قیمت پر اس حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔وہ پہلے دن سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو عمران حکومت کے خلاف اکٹھے ہو کر گرانے کا کہتے تھے مگر پیپلز پارٹی اور کسی حد تک مسلم لیگ نون اس کے لئے تیار نہ تھی۔ صدر کے الیکشن کے موقعہ پر بھی آصف زرداری نے مولانا فصل الرحمان کو اپوزیشن کا متفقہ صدارتی امیدوار نامزد کرنے کی بجائے چوہدری اعتزاز احسن کو پیپلز پارٹی کا امیدوار نامزد کردیا منقسم اپوزیشن کے ہوتے ہوئے عمران خان کے امیدوار کی جیت یقینی تھی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور جیل میں ہیں ۔دوسری طرف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں صحت کی بنا پر بھی ان کی ضمانت نہیں ہو رہی ہے۔ ان حالات میں مولانا فضل الرحمان نے جون میں آل پارٹیز کانفرنس بلا لی۔جس میں عمران حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان کردیا ہے۔ ان حالات میں نیشنل عوامی پارٹی نے یہ تجویز رکھی اور جسے سب نے منظور کر لیا وہ یہ کہ سب سے پہلے چیئرمین سینٹ کو ہٹایا جائے! اب بحث جاری ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اوردوسری جماعتیں چیئرمین سینٹ کو ہٹانے میں سنجیدہ ہیں؟ پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن آصف زرداری نے جیل سے آکر قومی اسمبلی میں سب سے پہلا بیان یہ دیا ہے کہ ’ماضی کو بھول جائیں اور مستقبل کا سوچیں‘۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن کی سینٹ میں اکثریت ہے اور وہ جب چاہے چیئرمین سینٹ کو ہٹا کر اپنی مرضی کا چیئرمین مقرر کر سکتی ہے۔ لیکن کیا جن قوتوں نے موجودہ چیئرمین بنوایا تھا وہ اب اس کو ہٹانے کے لئے تیار ہیں؟ ویسے میرے خیال میںنیا چیئرمین بھی آقا کی پسندیدہ شخصیت ہی ہوگا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ سابق صدر زرداری ایک طرف مفاہمت کا پیغام دے رہے ہیں اور دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں بھی شامل ہیں۔دوسری طرف مسلم لیگ نون میں بھی ابھی تک دو نقطہ نظر ہیں ۔ایک میاں محمد نواز شریف کا ’ووٹ کو عزت دو‘ جس کی وجہ سے میاں صاحب جیل میں ہیں اور دوسرا میاں محمد شہباز شریف کا مفاہمتی فارمولا۔ محترمہ مریم نواز میاں محمد نواز شریف کے پیغام کو اپنائے ہوئے ہیں اور اسی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔دوسری طرف میاں شہباز شریف کی نظر ہمیشہ کی طری آج بھی وزیر اعظم کی کرسی پر ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کی عمران خان کی حکومت کے خلاف 25جولائی کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اپوزیشن خاص کر پیپلز پارٹی سینٹ کے چیئرمین کو ہٹا کر اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ نہیں۔ دوسری طرف عمران خان دن بدن پاکستان کی روایتی سیاسی دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں ۔جس کا واضح ثبوت ان کی مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی کے ساتھ ملاقات ہے اور رانا ثنا اللہ کی گرفتاری ہے۔ عمران خان کی تقریر سے لگتا یوں ہے کہ آخر نواز شریف اور زرداری ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور سیاست نئی نسل کے نوجوان قائدین کے ہاتھ چلی جائے گی۔


ای پیپر