حکومت کا خاتمہ یا احتساب سے نجات؟
03 جولائی 2019 (17:39) 2019-07-03

حافظ طارق عزیز:

ہماری سیاست کا اب تک یہ وطیرہ رہا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت یا جماعتیںجب تک اقتدار میں ہوں، تو ان کے لئے سب اچھا ہوتا ہے، اور جب اقتدار کا ہما ان کے سر سے اُٹھ جائے تو یوں بے چینی کا اظہار شروع کیا جاتا ہے کہ جیسے اب سب کچھ تباہ ہو جائے گا، ملک کی سلامتی داو¿ پر لگ جائے گی۔ حقیقت میں یہ بے چینی حکمرانی کے فوائد اور لذت سے محرومی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جس کے باعث انہیں ہر وہ کام بُرا لگنا شروع ہو جاتا ہے، جو اپنے دور اقتدار میں ان کا محبوب عمل رہا ہوتا ہے۔ اب بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں کہ دو بڑی پارٹیاں.... مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی اپنے ماضی کے کرتوت عوام پر ظاہر ہونے کے خوف اور احتساب کے جاری عمل سے بچنے کے لئے ایک پھر اکٹھ کا ڈرامہ رچا رہی ہیں، اور اس کو لبادہ پہنایا جا رہا ہے عوام کی ہمدردی اور معیشت کی تباہی کے رونے کا۔

یہ خدائی قانون ہے کہ جب اس کی دنیا میں انسانی فلاح ، بھلائی اور ترقی کو لے کر کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے یا انسانی تہذیب ایک یا دو قدم آگے بڑھتی ہے تو اس کے فوائد تمام اقوام کو پہنچتے ہیں۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ یہ فوائد پہنچانے کے اللہ تعالیٰ کے طریقے پراسرار ہیں۔ خواہ یہ سائنس کی ترقی ہو، ایجادات ہوں یا دریافتیں؛ آرٹ اور میڈیسن ہو یا پھر ماڈرن جمہوری اور فلاحی ریاست کا تصور، جب کسی قوم کے طاقتور حلقے بوجوہ اپنے لوگوں کو ان فوائد سے محروم رکھنا چاہتے ہیں تو وہ قوم تقسیم ہو جاتی ہے۔ جب ہمارے مقتدر حلقوں نے اپنے لوگوں کو مسلسل ان کے حق حکمرانی سے محروم رکھا۔ ریاست کو جمہوری اور فلاحی بنانے کی بجائے اسے سیکیورٹی ریاست بناے رکھنے پر اصرار کیا اور پھر اس سکیورٹی کے نام پر فوائد سمیٹتے رہے۔ تو بنگالیوں نے ہم سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ آج بنگلہ دیش ہر معاملے میںہم سے آگے ہے۔ ہم نے آپسی لڑائیوں اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں جتنا وقت برباد کیا شاید ہی کسی اور قوم نے ایسا کیا ہو۔ آج پہلی بار برسراقتدار میں آنے والی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے ان لڑائیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی جو حقیر سی کوشش ہو رہی ہے اُس میں پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنے کی بھی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں۔اب کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی غیر دانشمندی کی وجہ سے اپوزیشن متحد ہو گئی، حالانکہ شروع کے نو دس ماہ میں کبھی اپوزیشن جماعتیں اکٹھی نہیں ہوتیں یہ کا ڈیڑھ دو سال بعد کام کیا جاتا ہے۔

ایسا نظریہ رکھنے والے لوگ شائد یہ بات بھول چکے ہیں کہ درحقیقت اس بار اپوزیشن نے کرپشن کے خلاف ہونے والے اقدامات سے بچنے کے لئے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ اکثر کیسز نیب اورایف آئی اے کے پاس ہیں اور وہ اس پر سیاست دانوں اور ان سے جڑے ہوئے لوگوں کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف جیل میں ہیں اور کئی دیگر رہنماو¿ں پر بھی کیسز چل رہے ہیں، اسی طرح پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری بھی پابند سلاسل ہیں اور دیگر کئی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماو¿ں پر بھی نیب اور احتساب کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ماضی میں اگر اداروں نے کرپشن کے خلاف اقدامات کرنے کی کوشش کی بھی تو حکومتوں نے اداروں کے ہاتھ باندھ دئیے۔ موجودہ حکومت احتساب سے پیچھے ہٹتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہی۔ وفاق اور پنجاب میں معمولی عددی برتری کے باوجود تحریک انصاف اپوزیشن کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ ماضی میں جتنے بھی الائنس (گٹھ جوڑ) بنے ان کا مقصد حکومت کا خاتمہ تھا۔ ایوب خاں، بھٹو، ضیائ، نواز، بے نظیراور مشرف کے خلاف بنائے گئے اتحادوں کا بنیادی مقصد حکومت وقت کا خاتمہ تھا۔ یہ سیاسی جدوجہد میں ایک نیا طرز عمل ہے کہ اپوزیشن کی 2 بڑی جماعتیں جنہوں نے ماضی میں ایک دوسرے کیخلاف کھلے عام عوامی جلسوں میں الزامات کی بوچھاڑ کی تھی، متحد ہوئی ہیں تو حکومت گرانے کے لئے نہیں بلکہ حکومتی گاڑی کو بریکیں لگانے کے لئے، اور اس کی رفتار کوکم کرنے یا پھر اس کا احتساب سے ہٹا کر کسی اور طرف کرنے کے لئے۔

جنرل الیکشن میں ہارنے کے بعد اپوزیشن میں بیٹھنے والی جماعتیں پہلے روز سے اس نکتہ پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف سے جان چھڑائی جائے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت نے انہیں متحد کیا۔ معیشت تباہ ہو گئی ایمانداری کی بات ہے کہ اس سے زیادہ بے بنیاد اور غلط بات اورکیا ہو سکتی ہے۔ معیشت کا حقیقی بیڑا غرق پچھلے چندبرسوں میں ہوا۔ ہمارا سب سے بڑا معاشی بحران یعنی بیلنس آف پیمنٹ کا ایشو پیدا ہی ن لیگ کے دور میں ہوا۔ اس سے پہلے پچیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ تھی، مسلم لیگ ن کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کے باعث وہ اٹھارہ انیس ارب ڈالر تک گر گئی۔ امپورٹ ایکسپورٹ میں فرق اتنا بڑھ گیا کہ آج ہمیں دوست ممالک سے ڈالر کی بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ زرداری حکومت ختم ہونے پر نواز شریف حکومت نے بڑا شورمچایا کہ ساڑھے چار سو ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضہ)چھوڑ کر گئے ہیں، اسے کس طرح ہینڈل کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ اپنی بار ی پر مسلم لیگ ن گیارہ سو ارب روپے کا گردشی قرضہ چھوڑ کر گئی ہے۔

یعنی اپوزیشن کا گٹھ جوڑ بننے کے دو ہی مقاصد سمجھ میں آتے ہیں ایک کرپشن سے بچاﺅ اور دوسرا حکومت کو ہر طرح سے ناکام بنانا! آج اپوزیشن کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے ابھی تک کوئی کرشمہ نہیں دکھایا۔ بندہ ان نام نہاد سیاستدانوں سے پو چھے کہ انہوں نے عوام کے لیے کون سے کرشمے دکھائے تھے، میڈیا پر دانستہ مخصوص تاثر بنایا گیا۔ کون سا این آر او؟ حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ دوسری طرف اپوزیشن اس پر سخت برہم ہو کر کہتی ہے کہ کون سا این آر او؟ بھائی لوگو، جب آپ احتساب کے عمل کو روکنے کی بات کرتے ہیںتو ایک طرح سے این آر او مانگ رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ، جعلی بینک اکاﺅنٹس، کرپشن کے ملزموں کے خلاف نیب کی تحقیقات بند کرنا این آر او ہی ہے، اور اب یہ اے این پی بھی اسی کا حصہ ہے۔ این آر اواور کیا تھا؟ یہی ناں کہ ہمارے خلاف جو مقدمات ہیں، وہ ختم کئے جائیں اور ہم دودھ کے دھلے بن کر پھر سے مزے لوٹنے شروع کر دیں۔ اپوزیشن آج وہی تو کہہ رہی ہے۔

چلیں اس بات کو اگر مان بھی لیا جائے کہ حکومت کی جانب سے بعض معاملات میں مس ہینڈلنگ ہوئی تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پوری حکومت ہی گر جانی چاہیے، کیا اربوں کھربوں روپے کے الیکشن کروانااور وہ بھی ایک غریب ملک میں۔ کیا آسان کام ہے؟ ایک لمحے کے لئے فرض کر لیں کہ ایسا ہو جائے تو پھر اس کی جگہ کون آئے گا؟ جیل میں اپنے شب وروز گزارنے والے نواز شریف یا زرداری صاحب؟ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے دو چار ہے، ایسے میں کون بے وقوف حکمران جماعت یا اتحاد چھوڑ کر ان کے ساتھ ملے گا؟چودھری برادران کیا اتنے بھولے ہیں کہ زرداری صاحب کا اس ڈوبتے وقت ہاتھ پکڑیں گے؟ اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے منصوبہ ساز بھی ایک کروڑ ستر لاکھ ووٹ لینے والی جماعت اور ایک پاپولر لیڈر جسے پنجاب، کے پی اور کراچی میں یکساں مقبولیت حاصل ہے، اسے یکایک گرانے پر تل جائیں گے؟آخر کیوں؟کیا عالمی حالات ایسے ہیں کہ یہاں پر مارشل لاءلگایا جائے؟ یہ تو آخری اور انتہائی مجبوری کی آپشن ہوتی ہے، اس وقت تو اس کے پانچ فیصد چانسز بھی نہیں۔ صدارتی نظام لانا آسان ہے؟

احتساب کے عمل سے دامن چھوڑانے کے لئے ایک بار پھر اے پی سی کا پلیٹ فارم استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں 26 جون کو مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی ال پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں کچھ اہم فیصلے کئے گئے۔ اے پی سی میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، مریم نواز، اسفندیار ولی، آفتاب شیر پاﺅ، محمود خان اچکزئی سمیت دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اجتماعی استعفوں،25 جولائی کو یوم سیاہ منانے، چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور پنجاب کو احتجاجی تحریک کا محور و مرکز بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اے پی سی نے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کےلئے 11 رکنی کمیٹی بھی قائم کی جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال،رانا ثنا اللہ،رحمت اللہ کاکڑ، میاں افتخار حسین،شاہ اویس نورانی، فرحت اللہ بابر، یوسف رضا گیلانی، علامہ شفیق پسروری، سینیٹر عثمان خان اور حاصل بزنجو شامل ہوں گے۔ لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے فضل الرحمٰن کی اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔ ان کے اس عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت سے نہیں احتساب کے عمل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ن لیگ اور پی پی قیادت نے اے پی سی میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلیوں سے استعفے ملکی مسائل کا حل نہیں ہے۔ شنید ہے کہ اے پی سی میں پیپلز پارٹی اورپی ٹی آئی کے سینیٹرز کے ووٹوں سے بننے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے،جس کے بعد اپوزیشن نیا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ لائے گی۔ تادم تحریر سیاسی صورت حال سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو احتساب سے ریلف چاہیے ہے، وہ چاہتی ہیں کہ حکومت کے اس حوالے سے سخت مو¿قف میں کچھ کمی آئے لیکن ایسا ہوتا فی الحال نظر نہیں آرہا۔

آخر میں ایک قصہ دہراتا ہوں کہ ایک غصہ ور قبائلی شخص کا قصہ بیان کیا جو اشتعال میں کئے جرم کی بنا پر برسوں سے جیل میں تھا۔ رہائی کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے قیدی ساتھیوں سے کہا کہ میرا بستر، کمبل وغیرہ سنبھال کر رکھنا، بیرک میں میری خاص چارپائی کی بھی حفاظت کرنا، میں جاتے ہی اپنے دشمن سے بدلہ لے کر چند دنو ں میں واپس جیل پہنچ رہا ہوں۔ رہاہوگیا، دو چار ہفتے گزر گئے، مگر اس کی کوئی خبر جیل نہ پہنچی۔ کچھ دن مزید انتظار کے بعد اس کے ساتھی قیدیوں نے ملاقات پر آئے کسی شخص کے توسط سے رہاہونے والے دوست کو پیغام بھیجا کہ تمہاری چارپائی، بستر،کمبل حتیٰ کہ تمہارا پانی پینے والا مگ تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے، جلدی واپس آﺅ۔ چند دنوں بعد جوابی پیغام ملا، آپ لوگوں کا شکریہ ،مگر اب چارپائی، بستر سنبھالنے کی کوئی ضرورت نہیں، اسے کسی کو دے دو، اب میرا جیل آنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ میں نے گزارا کرنا سیکھ لیا ہے۔ اخبارنویسوں کو اچھا لگے یا برا، میڈیا کو اشتہار کم ملیں یا زیادہ ، تجزیہ کاروں کی انا مزید مجروح ہو یا ان کی تسکین کی کوئی صورت بن جائے، حالات اور قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ابھی خاصا عرصہ انہیں عمران خان کاسامنا کرنا پڑے گا۔گزارا کرنا سیکھ لیں تو اچھا ہے تاکہ اپنے آپ کو بدلا جا سکے!


ای پیپر