اُم المومومنین حضرت حفصہ ؓ کے فضائل و کمالات
03 جولائی 2019 (17:34) 2019-07-03

حافظ محمد عمر

نام و نسب:

آپ ؓ حضرت عمر ؓ کی صاحبزادی تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے، ( حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباع بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن لوی بن فہر بن مالک)، والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا، جو مشہور صحابی حضرت عثمان ؓ بن مظعون کی ہمشیرہ تھیں، اور خود بھی صحابیہ تھیں۔ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ حقیقی بھائی بہن ہیں۔ حضرت حفصہ ؓ بعثت نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئیں، اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے۔

نکاح

پہلا نکاح خنیس بن حذافہ سے ہوا جو خاندان بنو سہم سے تھے۔

اسلام

ماں باپ اور شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔

ہجرت اور نکاح ثانی

شوہر کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی، غزوہ بدر میں خنیس ؓ نے زخم کھائے اور واپس آ کر انہی زخموں کی وجہ سے شہادت پائی، عدت کے بعد حضرت عمرؓ کو حضرت حفصہ ؓ کے نکاح کی فکر ہوئی، اسی زمانہ میں حضرت رقیہؓ کا انتقال ہو چکا تھا، اسی بنا پر حضرت عمر ؓ سب سے پہلے حضرت عثمان ؓ سے ملے اور ان سے حضرت حفصہ ؓ کے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت عثمانؓ ؓنے کہا میں اس پر غور کروںگا، چند دنوں کے بعد ملاقات ہوئی، تو آپؓ نے صاف انکار کیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مایوس ہو کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کیا۔ آپ ؓ نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو آپؓ کی بے التفاتی سے رنج ہوا، اس کے بعد خود رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کی خواہش کی۔ نکاح ہو گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملے اور کہا کہ جب تم نے مجھ سے حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کی خواہش ظاہر کی اور میں خاموش رہا، تو تم کو ناگوار گزرا، لیکن میں نے اسی بنا پر کچھ جواب نہیں دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا اور میں راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے نکاح کا قصد نہ ہوتا تو میں اس کے لیے آمادہ تھا۔ (صحیح بخاری)

وفات

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے شعبان 45 ہجری میں مدینہ میں انتقال کیا۔ یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ مروان نے جو اس وقت مدینہ کا گورنر تھا، نماز جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک جنازہ کو کندھا دیا، اس کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ جنازہ کو قبر تک لے گئے، حضرت حفصہ ؓ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے لڑکوں عاصم، سالم، عبداللہ، حمزہ نے قبر میں اتارا۔ حضرت حفصہ ؓ کے سن وفات میں اختلاف ہے۔ ایک روایت ہے کہ جمادی الاول سن 41 ہجری میں وفات پائی، اس وقت آپؓ کا سن 59 سال کا تھا۔ لیکن اگر سن وفات 45 ہجری قرار دیا جائے تو آپؓ کی عمر 63 سال کی ہو گی۔ ایک روایت ہے کہ آپؓ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں انتقال کیا۔ یہ روایت اس بنا پر پیدا ہو گئی کہ وہب نے ابن مالک سے روایت کی ہے کہ جس سال افریقہ فتح ہوا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسی سال وفات پائی اور افریقہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں سن 27 ہجری میں فتح ہوا۔ لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ افریقہ دو مرتبہ فتح ہوا۔ اس دوسری فتح کا فخر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے وفات کے وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر وصیت کی اور غابہ میں جو جائیداد تھی جسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آپؓ کی نگرانی میں دے گئے تھے، اس کو صدقہ کر کے وقف کر دیا۔(زرقانی)

فضائل و کمالات

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ساٹھ حدیثیں منقول ہیں جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سنی تھیں،تفقہ فی الدین کے لیے واقعہ ذیل کافی ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ اصحاب بدرو حدیبیہ جہنم میں داخل نہ ہوںگے، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اعتراض کیا کہ خدا تو فرماتا ہے ”تم میں سے ہر شخص وارد جہنم ہو گا“ آپ نے فرمایا ہاں لیکن یہ بھی تو ہے۔” پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیںگے اور ظالموں کو اس پر زانووں پر گرا ہوا چھوڑ دیںگے“۔ (مسند ابن حنبل)

اسی شوق کا اثر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؓ کی تعلیم کی فکر رہتی تھی، حضرت شفا رضی اللہ تعالی عنہا کو چیونٹی کے کاٹے کا منتر آتا تھا، ایک دن وہ گھر میں آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو منتر سکھلا دو۔(ایضاً)

اخلاق

”وہ (یعنی حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا) صائم النہار اور قائم الیل ہیں“۔ دوسری روایت میں ہے۔”انتقال کے وقت تک صائم رہیں“۔آپؓ دجال سے بہت ڈرتی تھیں، مدینہ میں ابن صیاد نامی ایک شخص تھا، دجال کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامتیں بتائی تھیں، اس میں بہت سی موجود تھیں، اس سے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک دن راہ میں ملاقات ہو گئی، انہوں نے اس کو بہت سخت سست کہا، اس پر وہ اس قدر پھولا کہ راستہ بند ہو گیا۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو مارنا شروع کیا، حضرت حفصہ کو خبر ہوئی تو بولیں، تم کو اس سے کیا غرض، تمہیں معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کے خروج کا محرک اس کا غصہ ہوگا۔ (مسند ومسلم کتاب الفتن ذکر ابن صیاد)

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا مزاج میں ذرا تیزی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی کبھی دوبدو گفتگو کرتیں....، چنانچہ صحیح بخاری میں خود حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ ”ہم لوگ جاہلیت میں عورت کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دیتے تھے، اسلام نے ان کو درجہ دیا اور قرآن میں ان کے متعلق آیتیں اتریں، تو ان کی قدرومنزلت معلوم ہوئی، ایک دن میری بیوی نے کسی معاملہ میں مجھ کو رائے دی، میں نے کہا،”تم کو رائے و مشورہ سے کیا واسطہ“بولیں، ” ابن خطاب تم کو ذرا سی بات کی بھی برداشت نہیں حالانکہ تمھاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو برابر کا جواب دیتی ہے، یہاں تک کہ آپ دن بھر رنجیدہ رہتے ہیں، ”میں اٹھا اور حفصہ ؓکے پاس آیا، میں نے کہا ”بیٹی میں نے سنا ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابر کا جواب دیتی ہو“ بولیں”ہاں ہم ایسا کرتے ہیں۔ میں نے کہا خبردار میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں، تم اس عورت( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ) کی ریس نہ کرو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے اپنے حسن پر ناز ہے۔(بخاری)۔ ترمذی میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا رو رہی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رونے کی وجہ پوچھی، آپؓ نے کہا کہ مجھ کو حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہے کہ” تم یہودی کی بیٹی ہو“آپ نے فرمایا حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا)خدا سے ڈرو، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد ہوا” تم نبی کی بیٹی ہو۔ تمھارا چاچا پیغمبر ہے اور پیغمبر کے نکاح میں ہو، حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا) تم پر کس بات میں فخر کر سکتی ہے“ (ترمذی بال فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

ایک بار حضرت عائشہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہما نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ” ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تم سے زیادہ معزز ہیں، ہم آپ کی بیوی بھی ہیں اور چچا زاد بہن بھی، حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، آپ نے فرمایا تم نے یہ کیوں نہیں کہا، کہ تم مجھ سے زیادہ کیونکر معزز ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میرے باپ ہارون علیہ السلام اور میرے چچا موسی علیہ السلام ہیں“۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی تھیں جو تقریب نبوی میں دوش بدوش تھے، اس بنا پر حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما بھی دیگر ازواج کے مقابلہ میں باہم ایک تھیں۔ چنانچہ واقعہ تحریم جو سن نو ہجری میں پیش آیا تھا، اسی قسم کے اتفاق کا نتیجہ تھا، ایک دفعہ کئی دن تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس معمول سے زیادہ بیٹھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس کہیں سے شہد آ گیا تھا۔ انہوں نے آپ کو پیش کیا، آپ کو شہد بہت مرغوب تھا۔ آپ نے نوش فرمایا، اس میں وقت مقررہ سے دیر ہو گئی، حجرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو رشک ہوا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے اور تمھارے گھر میں آئیں تو کہنا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، (مغافیر کی بو کا اظہار کرنا کوئی جھوٹ بات نہ تھی، مغافیر کے پھولوں میں اگر کسی قسم کی کرختگی ہو تو تعجب کی بات نہیں)، (مغافیر کے پھولوں سے شہد کی مکھیاں رس چوتی ہیں)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں شہد نہ کھاو¿ں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت اُتری” اے پیغمبر اپنی بیویوں کی خوشی کے لیے تم خُدا کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کیوں کرتے ہو؟“ (صحیح بخاری)

کبھی کبھی ( حضرت حفصہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما) میں باہم رشک و رقابت کا اظہار ہو جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ و حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھیں، رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو حضرت عائشہ ؓکے اونٹ پر چلتے تھے اور آپؓ سے باتیں کرتے تھے، ایک دن حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کہا کہ آج رات کو تم میرے اونٹ پر اور میں تمھارے اونٹ پر سوار ہوں تا کہ مختلف مناظر دیکھنے میں آئیں۔ حضرت

عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا راضی ہو گئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے اونٹ کے پاس آئے جس پر حفصہ سوار تھیں جب منزل پر پہنچے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ ُکو نہیں پایا تو اپنے پاو¿ں کو اذخر (ایک گھاس ہے) کے درمیان لٹکا کر کہنے لگیں،”خداوندا! کسی بچھو یا سانپ کو متعین کر جو مجھے ڈس جائے“۔ (صحیح بخاری، وسیرة النبی جلد دوم)۔ یہ حضرت حفصہ سے رقابت کا اظہار نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقتِ سفر جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ پسند کرتے تھے اس سے محرومی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدگی کی بجائے حضرت حفصہ ؓ کو حضور کی مرضی کے خلاف اونٹ پر بٹھانا تھا۔ (از صحیح امداد اللہ انور)


ای پیپر