” بنی گالہ یا جیل، چوائس آپکی ہے“
03 جولائی 2019 2019-07-03

میں رانا ثناءاللہ خان کو اچھا خاصا کائیاں انسان سمجھتا تھاکہ میں نے انہیں پنجاب اسمبلی میں بطور وزیر قانون و پارلیمانی امور پوری کی پوری اپوزیشن کا تنہا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ رانا ثناءاللہ خان زیادہ بہتر وزیر قانون، بلدیات، پارلیمانی امورتھے یا راجا محمد بشارت بہتر ہیں۔ راجا بشارت کے ساتھ مشکل یہ رہی کہ انہیں گذشتہ دور میں مشرف کی آمریت کا بھی دفاع کرنا پڑتا تھا اور ان کے لئے مجموعی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہے۔ بات رانا ثناءاللہ خان کی ہوشیاری کی ہور ہی ہے تو اسلام آباد کے مختلف صحافی گواہی دے رہے ہیں کہ انہوں نے بہت دنوں سے اپنی گرفتاری کا اندیشہ ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں اپوزیشن کے بہت سارے رہنماو¿ں کو جانتا ہوں ، وہ اتنے محتاط ہیں کہ فون کالز ٹیپ اور موومنٹ ٹریس ہونے کے خدشے کے پیش نظر موبائل فون کا استعمال بھی بہت احتیاط سے کرتے ہیں، وہ موبائل فون کے نیٹ ورکس کے بجائے واٹس ایپ کالز کو ہی زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔

رانا ثناءاللہ فاختہ نہیں ہیںبلکہ عقاب ہیں، بہت سارے ایسے اوقات بھی ہوتے ہیں کہ ان کے منہ سے آگ نکلتی ہے جس کی تپش سامنے والا ہی محسوس کرسکتا ہے جیسے اپنی گرفتاری سے ایک روز قبل وہ ایک ٹی وی پروگرام میں اپنی قیادت کے بارے گستاخانہ گفتگو پر خبردار کر رہے تھے، کہہ رہے تھے کہ ان کی قیادت کا ذکر عزت اور احترام کے ساتھ کیا جائے ورنہ بات پاک پتن کے مانیکا خاندان سے شروع ہو گی اور مراد سعید کی چیخوں تک جائے گی۔ یہ ایک ایسا فقرہ تھا جو تن بدن میں آگ لگا دینے کے لئے کافی ہے۔ یہ موجودہ صدی کی پہلی دہائی کے شروع کے برس تھے جب رانا ثناءاللہ خان نے پنجاب اسمبلی میں ایک فقرہ کہا تھا جس کے بعد انہیں نامعلوم افراد نے اٹھا لیا تھا ، جب وہ واپس ملے تھے تو ان کے سرکے بالوں کے ساتھ ساتھ مشہور زمانہ مونچھیں اور بھنویں بھی مونڈی جا چکی تھیں۔ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی آج کے دور کی طرح اس دور میںبھی اکٹھی تھیں اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس ریکوزیشن کر لیا گیا تھا جس میں راانا ثناءاللہ خان نے اسی حالت میں شرکت کی تھی۔ بہت گرماگرم تقریریں ہوئی تھیں مگر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ رانا ثناءاللہ نے وہ سبق نہیں سیکھا تھا جو انہیں پڑھایا گیا تھا۔

جب شہباز شریف کا نظریہ ناکام ہوا اور نواز شریف کو ضمانت منسوخ ہونے کے بعد دوبارہ جیل جانا پڑا تو پارٹی کے عہدوں میں واضح ردوبدل کیا گیا۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ پنجاب کا وزیر قانون و بلدیات ہونے کی وجہ سے رانا ثناءاللہ، شہباز شریف گروپ کے ہیں مگر یہ تاثر غلط ہے۔ جب ماڈل ٹاو¿ن کا سانحہ ہوا تھا تو شہباز شریف نے اپنے سر سے بلا اتارنے کے لئے فوری طور پر رانا ثناءاللہ کو وزارت سے الگ کر دیا تھا مگر بعدازاں یہ نواز شریف ہی تھے جن کے حکم پر انہیںدوبارہ کابینہ میں لیا گیا۔ نواز شریف نے جہاں مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدر اور احسن اقبال کو مرکزی سیکرٹری جنرل بنایا وہاں انہوںنے پنجاب میں بھی معنی خیز تبدیلی کی کہ رانا ثناءاللہ کو صوبائی صدارت سونپ دی، یہ فیصلہ بنیادی طور پر نواز شریف کی طرف سے ایک پیغام تھا۔ رانا ثناءاللہ خان اب حکومت کی سب سے بڑی مخالف پارٹی کے سب سے مضبوط گڑھ میں صدر بھی تھے اور یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان کی ہر نقل وحرکت پر پولیس، سپیشل برانچ اور دیگر ایجنسیوں کی مکمل نظر ہوتی تھی۔یہ رانا ثناءاللہ خان ہی تھے جنہوں نے ایک روز پہلے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے اپنی پارٹی کے ارکا ن اسمبلی کو دھمکی دی تھی کہ وہ کارکنوں کے ساتھ ان کے گھروں کا گھیراو¿ کریں گے۔

جب سیاسی صورتحال یہ ہو کہ خود نواز شریف جیل میں ہو ںتو رانا ثناءاللہ خان پر اُمید ہوں کہ ان کا نمبر لگنے ہی والا ہے تو وہ فیصل آباد میں اپنی رہائش گاہ سے لاہور پارٹی اجلاس میں آتے ہوئے اپنی گاڑی میں ہیروئن سے بھرا ایک بیگ رکھ لیں گے اور جب اس گاڑی کو روکا جائے گا تو وہ انتہائی تابعداری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بیگ کی زپ کھول کر منشیات ملاحظے کے لئے بھی پیش کردے گا۔ نیلی سیاہی والے قلم سے لکھی ہوئی وہ ایف آئی آر میں نے دیکھی ہے اور صاف لگتا ہے کہ یہ سانحہ ساہیوال کی ایف آئی آر کی طرح گھڑی گھڑائی کہانی ہے۔ نواز لیگیوں کی پے در پے ہونے والی گرفتاریوں اور اس گرفتاری میں فرق صرف یہ ہے کہ حکومت نے قومی احتساب بیورو کے بجائے اینٹی نارکوٹکس فورس کو استعمال کیا ہے جیسے اس سے پہلے محکمہ زراعت کو بھی تھپڑ وغیرہ مارنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ یہ وہی اینٹی نارکوٹکس فورس ہے جسے وزیراعظم عمران خان کے گھر سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر نہر کنارے چاہے وہ جیل روڈ کا کنارا ہو یا دھرم پورے کا پل ہو، سینکڑوں نشئیوں کو روزانہ منشیات سپلائی ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دیتیں مگر اسے اپوزیشن کے ایک رہنما کی گاڑی میں ہیروئن ضرورنظر آجاتی ہے۔ ہردور کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ جب اپوزیشن رہنماو¿ں کو ایسے مقدمات میں گرفتار کرنے سے دو مقاصد حاصل ہوں گے ، پہلا یہ کہ اس کی جان سیاسی سرگرمیوں سے چھوٹ جائے گی اور دوسری طرف ان رہنماو¿ں کرپٹ اور جرائم پیشہ قرار دیتے ہوئے کردار کشی بھی کی جا سکے گی۔ سوشل میڈیا پر دیکھا جا سکتاہے کہ حکومت کے حامی کچے ذہن اس امر پر بحث کر رہے ہیں کہ درجہ اول اور درجہ دوم کی سیاسی قیادت بھی منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہو سکتی ہے اورکیا یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کی بھرمار ہے۔ 

قومی اور بین الاقوامی سیاست کا ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ غیر جمہوری معاشروں میں اپوزیشن کے رہنما ہمیشہ کرپٹ ، چور، قاتل، منشیات فروش اور غدار ہوتے ہیں اور وہ اس وقت تک سرکاری کاغذوں میں بدمعاش اور لٹیرے رہتے ہیں جب تک وہ اپوزیشن سے توبہ نہیں کر لیتے۔ہمارے ہاں ایک مرتبہ پھر ہارس ٹریڈنگ کا موسم ہے تو ان دنوں اپوزیشن ارکان کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں کہ وہ حکومت میں چلے جائیں یا جیل۔اب رانا ثناءاللہ ، صاحبزادہ جلیل شرقپوری یامولوی غیاث الدین کی طرح نیک، باشرع اور ایماندار تو ہیں نہیں کہ بنی گالہ چلے جاتے بلکہ وہ تو وہاں جانے والوںکا راستہ روک رہے تھے لہٰذا ان کا جیل جانا ہی بنتا تھا۔یہاں ایک اور غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوا کہ مقتدر حلقے بدترین اقتصادی حالت کی وجہ سے بجٹ کے بعد ملک میں تبدیلی کاسوچ رہے ہیں، فی الوقت تو ایسا کچھ نہیں ہے، چلو چلو بنی گالہ کی صدائیں لگ رہی ہیں، جو بنی گالہ جانے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان کے لئے جیلوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔


ای پیپر