Source : Yahoo

مسلم لیگ ن میں کھلی بغاوت،کس اہم شخصیت سے رابطہ کر لیا
03 جولائی 2018 (22:14) 2018-07-03

اسلام آباد :2018ءکے عام انتخابات سے قبل ہی سیاسی امیدواروں کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ سیاسی نقل و حرکت سے اب تک مسلم لیگ ن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرتے ہوئے کئی دیرینہ ساتھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں جبکہ کئی امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

انہی ساتھیوں میں سے ایک سینئیر رہنما چودھری نثار علی خان بھی ہیں، تاہم اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پارٹی کے 45 سے زائد امیدواروں نے چودھری نثار علی خان سے رابطہ کر کے ان کا ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے 45 قومی اسمبلی کے امیدواروں کے چودھری نثار سے رابطے ہوئے ، اور انہوں نے الیکشن جیتنے کے بعد چودھری نثار علی خان کا ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا۔

چودھری نثار علی خان سے رابطے کرنے والوں میں پنڈی ڈویڑن کے 12، فیصل آ باد ڈویڑن سے 7 ،قصور ، اوکاڑہ ساہیوال اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد ن لیگی ٹکٹ ہولڈر شامل ہیں۔ رابطہ کرنے والے ٹکٹ ہولڈر ز میں اپنے حلقوں میں انتخابی جلسوں کے لیے نوازشریف اور شہباز شریف کی مدد لینے سے بھی انکار کر دیا ہے اور یہ ن لیگی ٹکٹ ہولڈرز اپنے جلسے اور جلوسوں میں کسی جگہ بھی نوازشریف کے بیانیہ کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنائیں گے۔

پنجاب کے علاوہ کے پی کے سے بھی 3 ٹکٹ ہولڈرز نثار کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ن لیگ کی قیادت کو بھی اس حوالے سے بخوبی علم ہو چکا ہے۔ نوازشریف شہباز شریف اور مریم نواز خود بھی ان امیدواروں سے رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ اس چیز میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ رابطے میں رہنے والے ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز میں تین سابق وفاقی وزرا بھی شامل ہیں جنہوں نے ہم خیال دیگر ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ دو اجلاس بھی کئے جس میں شریف برادران کے خلاف اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ شریف برادران نے اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ ہماری سیاست کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ہے ، اس گروپ نے اپنے جلسوں میں برملا یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہم ختم نبوت کے معاملے میں کسی صورت میں بھی ترمیم کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہیں۔

نوازشریف اور مریم نواز پاکستان واپس نہ آئے اور ن لیگی موجودہ صورتحال اسی طرح رہی تو ن لیگ سے باغی ٹکٹ ہولڈرز کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ایسے میں لندن میں بیٹھے نواز شریف اور مریم نواز نے بھی پارٹی کے رہنماوں کے اس برتاو پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، نواز شریف نے قریبی ساتھیوں کو باغی رہنماو¿ں سے رابطہ کر کے انہیں ساتھ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔


ای پیپر