شریف فیملی کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائیگا
03 جولائی 2018 (21:56) 2018-07-03


اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جاری ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔عدالت نے اس کیس میں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ کیس میں استغاثہ کے مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے۔ملزمان کی طرف سے اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔


تفصیلات کے مطابق منگل کو ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے فاضل جج محمد بشیر نے کی ۔مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز کے جاری حتمی دلائل ختم ہونے پر کیس کا ٹرائل مکمل ہوا جس پر فاضل جج نے کہا کہ کیس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنا دیتے ہیں اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔نیب کی طرف سے نوازشریف اور بچوں کیخلاف 8ستمبر 2017کو عبوری ریفرنس دائر کیا۔مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22جنوری کو ضمنی ریفرنس دائر کیا ۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں مجموعی طور پر18گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ۔گواہوں میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا بھی شامل تھے۔


19اکتوبر 2017کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی ۔نوازشریف کی عدم موجودگی کی بنا پر ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی،26ستمبر کو نواز شریف پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،مریم نواز پہلی بار 9اکتوبر کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ائیر پورٹ اے گرفتار کرکے عدالت پیش کیا گیا۔مسلسل عدم حاضری کی بنا پر عدالت نے 26اکتوبر کو نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔3نومبر کو پہلی بار نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے۔8نومبر کو پیشی کے موقع پر نوازشریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔


11جون 2018کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے۔نوازشریف کی طرف سے ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا،19جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔دوسری طرف احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کو آج اور کل حاضری سے استثنیٰ دی گئی ۔ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے حتمی دلائل میں کہا کہ ملزمان کے حق میں جانے والی دستاویزات کو جے آئی ٹی نے رپورٹ میں شامل نہیں کیا ۔ان دستاویزات کو شامل نہ کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ۔ جے آئی ٹی نے پورے خاندان کو پھنسانے کا پہلے سے ذہن بنا رکھا تھا ،دیانتداری سے کی گئی تفتیش ہی فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کر سکتی ہے ۔لارنس ریڈلے اور ارینا کو شامل تفتیش نہ کرنا یکطرفہ اور جانبدار تفتیش تھی۔


مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ملزمان کی ذرائع آمدن جا نے کی کوشش نہیں کی جو ایم ایل اے کے جواب موصول ہوئے تو جے آئی ٹی نے کیوں خفیہ رکھا گیا،اصل مالک سے متعلق سوال کا جواب آیا ہی نہیں ،جواب آئے بغیر ہی ایک شخص عدالت میں کہہ گیا کہ مریم نواز بینفشری مالک ہیں، 31مئی 2017کو لکھے گئے ایم ایل اے کا جواب آیا ہی نہیں،جے آئی ٹی نے خط وکتابت کا رجسٹرڈ بنایا تھا ،رپورٹ میں لگائی گئی دستاویزات کا اندراج نہیں۔ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز حتمی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے دفتر خارجہ کو بائی پاس کرکیایم ایل اے کیوں لکھے، دفتر خارجہ کو بائی پاس کرکیایم ایل اے کے جواب بھی لیئے گئے،دفتر خارجہ کو بائی پاس کرکے شفافیت کو ختم کر دیا گیا، فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی خط پر سیل موجود نہیں ۔


امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپنے ملک میں کسی کو بھی خط لکھتے ہوئے فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی سیل اور مہر استعمال کرتی ہے، جے آئی ٹی کو بھیجے گئے خط پر کیسے کوئی سیل نہیں ،موزیک فونسیکا خود ایک لافرم ہے ،2012کے خط کی2017میں تصدیق کروا کے مریم نواز کو کیس سے جوڑ دیا گیا ۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کو کیس سے جوڑ نے کیلئے حربہ استعمال کیا، کیوں جے آئی ٹی نے موزیک فونیکا کو خود خط نہیں لکھے، مریم نواز نے ہمیشہ الزامات سے انکار کیا ہے، استغاثہ پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی تھی کے وہ شواہد لائے۔


ای پیپر